خواتین سے متعلق ’توہین آمیز بیان‘، ٹی وی شو پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock

مصر میں حکام نے اس ٹی وی ٹاک شو کو عارضی طور پر بند کر دیا ہے جس میں شریک ایک مہمان نے کہا تھا کہ مصر کی تقریباً ایک تہائی خواتین اپنے شوہروں کے ساتھ مخلص نہیں۔

اس بیان پر موصول ہونے والی شکایات کے بعد مصر میں میڈیا حکام نے اس ٹی وی شو کو 15 دن کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مہمان تیمور ال سوبکی کا کہنا ہے کہ ان کے بیان کو صحیح معنوں میں نہیں لیا گیا ہے۔

مصر میں آزادی خیال کے حوالے سے کئی لوگوں میں تشویش پیدا ہو رہی ہے کیونکہ حال ہی میں کئی دیگر ٹی وی شوز پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

تیمور سوبکی کا کہنا ہے کہ ’تقریباً 30 فیصد خواتین خاص طور پر بالائی مصر میں خواتین میں بے وفائی کے رجحانات پائے جاتے ہیں، اور زیادہ تر خواتین کے، جن کے شوہر دوسرے ممالک میں ملازمت کرتے ہیں، غیر مردوں کے ساتھ تعلقات ہوتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’خواتین نے اس لیے دھوکہ دیا کیونکہ شادی شدہ زندگی ان کے لیے بیزار کن تھی اور وہ غیر اخلاقی ہے۔‘

تیمور سوبکی کا یہ انٹرویو گذشتہ سال دسمبر میں نجی ٹی وی چینل سی بی سی کے پروگرام ’ممکن‘ میں نشر کیا گیا تھا۔

تاہم اس انٹرویو پر زیادہ لوگوں نے توجہ نہیں دی تھی لیکن جب اس انٹرویو کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا سوشل میڈیا پر آیا تو لوگوں میں شدید غصہ اور تنقید دیکھی گئی۔

تیمور سوبکی فیس بک پر ایک صفحے کے منتظم ہیں جس کا نام ہے ’ڈائری آف آ سفرنگ ہزبینڈ‘ اور ان کے اس صفحے پر دس لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں۔

جان سے مار دیے جانے کی دھمکیاں ملنے کے بعد انھوں نے اپنے بیان میں معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ’ان کی اپنی والدہ کا تعلق بالائی مصر کے اس قدامت پسند خطے سے ہے جسے اکثر ملک میں لطیفوں کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔‘

اسی بارے میں