’دیکھنے میں اچھی نہ ہوتی تو لوگ نہ سنتے‘

Image caption طاہرہ سید نے تین استاتذہ سے موسیقی کی تربیت حاصل کی ہے

غزل، ٹھمری، بھجن اور پہاڑی فوک گائیکی کے انداز سے نہ صرف پاکستان بلکہ برصغیر میں شہرت پانے والی گلوکارہ ملکہ پکھراج کے نقشِ قدم پر چل کر گائیکی کو اپنانے والی ان کی بیٹی طاہرہ سید کہتی ہیں: ’میری شہرت میں میری اچھی شکل و صورت نے بہت زیادہ کردار ادا کیا ۔اگر میں دیکھنے میں اچھی نہ ہوتی تو شاید لوگ مجھے سننا پسند نہ کرتے۔‘

پاکستان میں گذشتہ آٹھ سال سے ٹیلی ویژن پر پیش کیا جانے والا جدید موسیقی کا پروگرام ’کوک سٹوڈیو‘ کئی پرانے گلوکاروں کو دوبارہ منظر عام پر لایا ہے، لیکن طاہرہ سید اب تک اس میں شامل نہیں ہوئیں ۔اس کی وجہ بتاتے ہوئے وہ کہتی ہیں ’مجھے انھوں نے بلایا ہی نہیں۔ ہمارے ٹی وی چینل آج کل کلاسیکی موسیقی کے پروگرام نہیں کرتے ۔اس لیے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ میں گاتی نہیں ہوں۔ محفلوں اور میلوں میں موقع ہو تو ضرور گاتی ہوں۔ ہاں ریاض اتنا نہیں کرتی جتنا کرنا چاہیے۔‘

طاہرہ سید نے تین افراد سے موسیقی کی تربیت حاصل کی ہے ۔ وہ کہتی ہیں: ’12 سال کی عمر میں میرے پہلے استاد خان صاحب اختر حسین خان نے میری زندگی میں موسییقی کی بنیاد رکھی۔ میری ماں نے اس پر دیواریں کھڑی کیں، چھت ڈالی اور استاد نذر حسین صاحب نے اس میں پینٹ کر دیا۔‘

طاہرہ سید نے فلمی موسیقی کی طرف توجہ نہیں دی جس کا انھیں کوئی افسوس نہیں: ’میری والدہ نے مجھ سے زبردستی تین فلمی گانے گوائے لیکن میرے چار بھائی تھے جنھیں یہ بات ناگوار گزرتی تھی اور مجھے پتہ تھا کہ فلمی گانے سے کرئیر نہیں بنانا کیونکہ اس زمانے میں فلم انڈسٹری کا تاثر اچھا نہیں تھا اور یہ بھی ہے کہ میری آواز اس وقت کی ہیروئنوں کے لیے موزوں بھی نہیں تھی۔‘

لیکن اس کے باوجود فلم ’محبت‘ کے لیے ان کے گائے گئے نغمے ’یہ محفل جو آج سجی ہے، اس محفل میں ہے کوئی ہم سا؟ ہم سا ہو تو سامنے آئے،‘ کو بےحد مقبولیت ملی تھی۔

Image caption سید ماضی میں امریکہ کے مشہور رسالے نیشنل جیوگرافک کے کور پیج پر جگہ حاصل کرنے والی پاکستانی خاتون کا اعزاز بھی رکھتی ہیں

طاہرہ سید نے جو گیت ٹیلی ویژن پر پیش کیے وہ آج کل زیادہ سنائی نہیں دیتے، لیکن پھر بھی وہ کہیں گانے جاتی ہیں تو لوگوں کی ایک بڑی تعداد انھیں دیکھنے ضرور آتی ہے ۔

طاہرہ سید کے مطابق: ’ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ لوگ اپنی جوانی میں وہ گانے سن چکے ہیں اور آج بھی کہتے ہیں کہ ’ابھی تو میں جوان ہوں‘ سنائیں۔ ہمیں وہ زمانہ یاد آ جاتا ہے۔ ابھی تک وہ نسل موجود ہے جنھوں نے میرے گانے سنے ہوئے ہیں۔‘

لوگوں کے درمیان ہمیشہ ایک نفیس اور با رعب شخصیت کے طور پر پہچانی جانے والی طاہرہ سید ماضی میں امریکہ کے مشہور رسالے نیشنل جیوگرافک کے کور پیج پر جگہ حاصل کرنے والی پاکستانی خاتون کا اعزاز بھی رکھتی ہیں۔

تاہم اس تصویر کی اشاعت کا تعلق موسیقی یا طاہرہ سید کے گلوکارہ ہونے سے نہیں تھا۔ رسالے سے منسلک افراد نے پاکستان میں ایک تقریب میں طاہرہ سید کو انتہائی خوبصورت پایا جس کے بعد مغلیہ انداز کے پہناوے میں ان کی ایک تصویر کے ذریعے مشرقی خواتین کی خوبصورتی کی عکاسی کی گئی تھی۔

وقت کے ساتھ ساتھ کئی سکینڈلوں میں گھِری رہنے والی طاہرہ سید نے کبھی ضروری نہیں سمجھا کہ وہ اپنے بارے میں کہی جانے والی کسی بھی متنازع بات کی وضاحت پیش کریں۔

وہ کہتی ہیں: ’میں بڑی خوش ہوں کہ میرے سکینڈل بنے۔ لوگ ہمیشہ کسی بہت مشہور ہستی کے بارے میں ہی بات کریں گے نا، اس کا مطلب ہے کہ میں سیلیبریٹی ہوں۔ ‘

اسی بارے میں