جب جوان بوڑھا اور بوڑھا جوان لگتا ہے۔۔۔

تصویر کے کاپی رائٹ hype
Image caption رشی کپور جلد ہی ریلیز ہونے والی فلم ’ کپور اینڈ سنز‘ میں پروستھیٹک میک اپ کی مدد سے ’دادو‘ بنے ہیں

ایک زمانے میں ایک ہی فلم میں کسی فنکار کو ’ڈبل رول‘ دینے کے لیے اسے جعلی مونچھیں لگا دی جاتی تھیں اور گنجا دکھانے کے لیے بالوں پر جلد کے رنگ کا ٹکڑا لگا دیا جاتا تھا۔

وقت بدلا تو فلموں میں میک اپ کی ٹیکنالوجی بھی بدلی اور میک اپ کا شعبہ آج کافی آگے بڑھ چکا ہے۔

چاہے فلم ’پا‘ میں امیتابھ بچن کو ایک بیمار بچے کے کردار میں دکھانا ہو یا اپریل میں آنے والی فلم ’فین‘ (مداح) میں اپنے ڈپلیکیٹ گورو کا کردار ادا کرنے والے شاہ رخ خان کا حلیہ تیار کرنا ہو، بالی وڈ میں آج کل ’پروستھیٹك میک اپ‘ کا دور ہے۔

دراصل پروستھیٹك میک اپ بحث میں اس وقت آیا جب جلد ہی ریلیز ہونے والی فلم ’ کپور اینڈ سنز‘ میں ’دادو‘ بنے رشی کپور اور ’فین‘ میں ’گورو‘ بنے شاہ رخ خان کا لُک ریلیز ہوا۔

اس بارے میں بالی وڈ کے مشہور میک اپ آرٹسٹ دیپک ساونت کہتے ہیں، ’یہ ایک خاص قسم کی میک اپ ٹیکنالوجی ہے جس میں پہلے آرٹسٹ کے چہرے یا جسم کے جس حصے پر میک اپ کرنا ہے، اسے پلاسٹر آف پیرس سے بناتے ہیں اور پھر اس ڈمی کی بیرونی اور اندرونی سطح سیلیکون سے تیار کرتے ہیں۔‘

دیپک کا کہنا ہے کہ ’اس کے بعد ایک خاص مرکب کو دونوں سطحوں کے درمیان بھرتے ہیں، جس سے یہ ماسک جیسا ہو جاتا ہے اور آرٹسٹ کے چہرے سے چپک جاتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ ab corp and yrf
Image caption امیتابھ بچن کو ایک بیمار بچے کے کردار میں دکھانا ہو یا ’فین‘ (مداح) میں اپنے ڈپلیکیٹ گورو کا کردار ادا کرنے والے شاہ رخ خان کا حلیہ تیار کرنا ہو، بالی وڈ میں آج کل پروستھیٹك میک اپ کا دور ہے

کبھی جڑواں بھائیوں میں فرق ظاہر کرنے کے لیے ایک مونچھ یا تل سے فرق دکھانے والے میک اپ آرٹسٹ اب پورے چہرے کا میک اپ ہی الگ طریقے سے ڈیزائن کرتے ہیں۔

فلم ’میں اور چارلی‘ کا لک ڈیزائن کرنے والے میک اپ آرٹسٹ پیری پٹیل کہتے ہیں، ’ناظرین کو فلموں یا سیریلز میں حقیقت دیکھنے کی چاہت بڑھ گئی ہے۔ اس کے علاوہ اب نئی نئی ٹیکنالوجی آنے لگی ہے، جس سے یہ بہت آسان بھی ہو گیا ہے۔‘

پیری کا کہنا ہے کہ، ’پہلے آرٹسٹ منہ میں رنگ بھر کر مُکہ کھا کر، خون بہنے کی اداکاری کر لیتے تھے۔ اب ناظرین کو حقیقت ہی پردے پر دیکھنی ہے۔ ایسے میں پروستھیٹك ٹیکنالوجی بہت موثر ہے۔‘

اگرچہ تمام میک اپ آرٹسٹس کی رائے ہے کہ میک اپ کے علاوہ ایسے کرداروں کے لیے اداکاروں کو وزن بڑھانا یا کم کرنا بھی پڑتا ہے۔

مثال کے طور پر اپنی ایک فلم میں بہت فربہ دکھائی دینے کے لیے سینیئر اداکار انیل کپور نے کچھ تو وزن بڑھایا تھا اور باقی کمی پروستھیٹك میک اپ نے پوری کر دی تھی۔

Image caption رندیپ ہوڈا (بائیں) نے فلم ’سربجیت‘ کے لیے بہت وزن کم کیا ہے جبکہ ’دھوم‘ کے لیے ریتک روشن نے بھی وزن کم کیا تھا

اس کے علاوہ رندیپ ہوڈا نے اپنی آنے والی فلم ’سربجیت‘ کے لیے بہت وزن کم کیا ہے جبکہ ’دھوم‘ کے لیے ریتک روشن نے بھی وزن کم کیا تھا۔

میک اپ کا نام سنتے ہی لگتا ہے کہ صرف لپ سٹک یا فاؤنڈیشن کی بات کی جاتی ہے، لیکن دیپک ساونت کے مطابق میک اپ فنکار کے چہرے کو بچانے کا بھی کام کرتا ہے۔

دیپک کہتے ہیں، ’ کیمرے کی روشنیاں بہت تیز ہوتی ہیں جس سے چہرہ جلنے کا خطرہ رہتا ہے۔ چہرے کو ان سے بچانے کے لیے پہلے میک اپ کیا جاتا تھا اور اب تو ہر چار گھنٹے بعد فریش میک اپ کیا جاتا ہے۔‘

چراغ بتاتے ہیں کہ پہلے بھی فلموں میں فنکاروں کو بزرگ دکھایا جاتا تھا لیکن اس کے لیے مختلف تراکیب کا استعمال ہوتا تھا اور ماضی میں تو ٹشو پیپر اور گلو کی مدد سے چہرے پر جھریاں دکھائی جاتی تھیں۔

اگرچہ یہ تكنيک پردے پر گرفت میں آ جاتی تھی لیکن پروستھیٹك میک اپ 70 ایم ایم پر میک اپ کو سچ کے قریب لے جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ گذشتہ دو دہائیوں میں اس کا استعمال کافی بڑھ گیا ہے۔