آسکرز میں ایشیائی نژاد امریکیوں سے متعلق مذاق پر تنقید

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کرس راک کے مذاق کو نسل پرستانہ کہا جا رہا ہے

امریکی مزاحیہ فنکار کرس راک کو آسکر کی تقریب کی میزبانی کے دوران ایشیائی نژاد امریکیوں کے بارے میں مذاق کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں نے ان پر اکاؤنٹینٹس کے ایک گروپ کو متعارف کرانے کے سلسلے میں نسل پرستانہ ’سٹیریوٹائپ‘ یعنی فرسودہ روایات کو ہوا دینے کا الزام لگایا گیا ہے کیونکہ وہ اکاؤنٹینٹس ایشیائی نژاد بچوں کا ایک گروپ نکلا۔

کرس راک کی آسکرز کی میزبانی کے دوران سیاہ فام افراد کی اس ایوارڈز کی نامزدگیوں میں غیر موجودگی کے تنازعے سے خوش اسلوبی سے نمٹنے کی تعریف کی گئی تھی۔

کرس راس نے اتوار کی شب اکیڈمی ایوارڈ کی تقریب میں ایک ’خودکلامی‘ کے دوران کہا کہ انھوں نے تقریب کی افتتاحی ویڈیو میں کم از کم 15 سیاہ فام افراد کو گنا ہے۔

اس کے بعد ان کا کہنا تھا کہ وہ ’وائٹ پیپلز چوائس ایوارڈ‘ کے لیے لوگوں کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کرس راک نے اتوار کی شب آسکر انعامات کی میزبانی کی تھی

پھر جو خاکہ پیش کیاگیا اس میں انھوں نے ایشیائی باشندوں کے ریاضی میں بہتر ہونے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’اگر کسی کو اس مذاق سے پریشانی ہوئی ہو تو وہ اپنے فون سے اس بارے میں ٹویٹ کریں ویسے یہ فون بھی انھی بچوں نے بنایا ہے۔‘

ناقدین کا کہنا ہے کہ آخری جملہ بھی ایک سٹیریو ٹائپ ہے کہ ’ایشیا میں بچوں سے مزدوری کرائی جاتی ہے۔‘

اداکارہ کنسٹینس کو نے ٹویٹ کیا: ‘بچوں کا سٹیج پر خاموشی کے ساتھ لایا جانا محض نسل پرستانہ ہے جو کہ کسی کو کم گننا اور بھدا مذاق ہے۔ یہ ترقی کا متضاد ہے۔‘

ایشین امریکن ایڈوانسنگ جسٹس گروپ کی سربراہ می موا نے ایک بیان میں کہا کہ یہ شو تنوع کے لیے ایک دھچکا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption یہ سکٹ اتوار کی شب آسکر تقریب میں پیش کیا گیا تھا

انھوں نے کہا: ’گذشتہ رات کی تقریب اور بطور خاص ایشیائي بچوں پر مشتمل لطیفہ ایشیائی اور ایشین امریکنز کے لیے ایک نقصان دہ سٹیریوٹائپ ہے اور اس نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ امریکہ میں ہم نسل کے بارے میں کس طرح بات کرتے ہیں۔ نسل کا رشتہ صرف سفید و سیاہ کے دوشاخے تک محدود نہیں ہے۔

’یہ نسل کو دیکھنے کی کوتاہ نظری ہے۔ ہمیں ساتھ مل کر ایسے نظام کو ختم کرنا ہے جس میں اقلیتی گروپ کے تجربات کو کم گنا جاتا ہو تاکہ ہمارے ملک کو بنانے والے تنوع کا حقیقی اظہار ہو سکے۔‘

کرس راک کی پبلسسٹ لیزلی سلونے نے پیر کو کہا کہ اس پر تبصرہ کرنے کے لیے کرس راک دستیاب نہیں ہیں۔

اس کے علاوہ اس تقریب کو منعقد کرانے والی تنظیم نے بھی اس بابت کیے جانے والے سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔

اسی بارے میں