آسٹریلوی ادیبہ نے ڈیڑھ لاکھ ڈالر کے انعام کو جھانسا سمجھا

تصویر کے کاپی رائٹ Text Publishing
Image caption 73 سالہ ہیلن گارنر نے یہ اعزاز اپنے نان فکشن نثری کام پر حاصل کیا ہے

ایک آسٹریلوی ادیبہ کا کہنا ہے کہ جب انھیں علم ہوا کہ ڈیڑھ لاکھ ڈالر پر مشتمل ایک ادبی ایوارڈ کے حوالے سے موصول ہونے والی ای امیل کوئی جھانسا نہیں تھا وہ ’کرسی سے گر پڑیں‘۔

ادبیہ ہیلن گارنر نے ابتدائی طور پر ییل یونیورسٹی کی جانب سے موصول ہونے والے پیغام کو جھانسا سمجھ کر رد کر دیا تھا۔

انھوں نے آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن کو بتایا کہ ’میں نے سوچا یہ کیا ہے؟ کوئی مجھے نشانہ بنا رہا ہے۔‘

وہ ای میل ڈیلیٹ کرنے والی تھیں کہ انھوں نے اپنے پبلشر کو کال کرنے کا سوچا جس نے انھیں بتایا کہ وہ واقعی ونڈہیم کیمبل پرائز جیت چکی ہیں۔

خیال رہے کہ ونڈہیم کیمبل پرائز کا شمار دنیا کے سب سے زیادہ بیش قیمت ادبی اعزازات میں ہوتا ہے۔

73 سالہ ہیلن گارنر نے یہ اعزاز اپنے نان فکشن نثری کام پر حاصل کیا ہے۔

وہ ناول اور سکرین پلے بھی تحریر کر چکی ہیں جن میں سنہ 1977 میں شائع ہونے والا ناول ’منکی گرپ‘ بھی شامل ہے جسے آسٹریلوی ادب میں کلاسیک کا درجہ حاصل ہے۔

ہیلن گارنر یہ اعزاز حاصل کرنے پر حیران ہونے والی پہلی ادیبہ نہیں کیونکہ اس اعزاز کے لیے نامزدگی نہیں کی جاتی۔

ییل یونیورسٹی کی ویب سائٹ کے مطابق ’ادیبوں کا انتخاب نام ظاہر کیے بغیر کیا جاتا ہے اور انھیں معلوم نہیں ہوتا کہ وہ مقابلے میں شریک ہیں۔‘

اسی بارے میں