بالی وڈ فلموں میں ہولی کے گیت

تصویر کے کاپی رائٹ dharma production
Image caption دیپکا پاڈو کون ہولی کے ایک سین میں

ہولی کے تہوار میں رنگ، گلال، میٹھی گجھيا اور بالی وڈ کے گیتوں کا اپنا ہی لطف ہے۔

بالی وڈ میں ہولی کو اہم مقام حاصل ہے خواہ وہ گیت کی شکل میں ہو یا پھر مستی کے اظہار کے لیے۔

یہاں بالی وڈ میں ہولی کے متعلق گیت پر ایک نظر ڈالی جا رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Sippy Films
Image caption فلم شعلے میں دھرمیندر اور ہمیا مالنی

ہندی سنیما کی پہلی ہولیوں میں سنہ 1950 کی دہائی میں آنے والی پہلی ٹیکنیکلر فلم ’آن‘ کا نام آتا ہے۔ اس میں دلیپ کمار اور اداکارہ نمي ہولی کھیلتے اور ایک دوسرے کو چھیڑتے نظر آتے ہیں۔

اس کا ’کھیلو رنگ ہمارے سنگ، آج دن رنگ رنگیلا آیا‘ گیت بہت مشہور ہوا تھا۔

اس کے بعد سنہ 1958 میں آنے والی فلم ’مدر انڈیا‘ کی ’ہولی آئی رے کنہائی‘ کی دھوم رہی۔ اس گیت کو معروف گلوکارہ شمشاد بیگم نے گایا اور اس میں اداکارہ نرگس ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Mohan Studios
Image caption ریکھا فلم نمک حرام میں

ہولی کے رنگ میں ایک اور رنگ وی شانتا رام نے اپنی فلم ’نورگ‘ میں پیش کیا ہے۔ سنہ 1959 میں آنے والی اس فلم کے گانے میں سندھیا عورت اور مرد کے ڈبل کردار میں سٹیج پر ’جا رے ہٹ، نٹ کھٹ‘ گاتے ہوئے ناچ رہی ہیں۔

سنہ 1970 کی دہائی میں بھی کچھ ہولی کے گیت سدا بہار گیتوں کی فہرست میں ہیں۔

ان میں پہلا نام سنہ 1960 میں آنے والی فلم ’کوہ نور‘ کا ’تن رنگ لو جی، آج من رنگ لو‘۔ اس فلم میں بھی دلیپ کمار ہیں اور ان کے ساتھ میناکماری ہیں۔ اس کے بعد فلم ’گودان‘ اور ’پھول اور پتھر‘ میں بھی ہولی کے گیت تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ YRF
Image caption فلم سلسلہ میں ریکھا، امیتابھ اور سنجیوکمار

سنہ 1970 میں دو فلمیں آئیں، جن کے گانے آج بھی ہولی کے موقعے پر سنائی دیتے ہیں سب سے پہلے راجیش کھنہ اور آشا پاریکھ کی فلم ’کٹی پتنگ‘ ہے جس میں مادھوي (آشا پاریکھ) ایک بیوہ ہے سماجی رسم و رواج کے سبب وہ ہولی نہیں کھیلتی ہے۔ لیکن کمل (راجیش کھنہ) ہولی پر مادھوي کو نہ چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے گاتے ہیں، ’آج نہ چھوڑیں ہمجولی۔‘

سنہ 1973 میں وحیدہ رحمان اور دھرمیندر کی فلم ’پھاگن‘ کا گانا ’پھاگن آیو رے‘ اور اسی سال آنے والی فلم ’نمک حرام‘ کا گیت ’ندیا سےدریا‘ بھی ہولی پر مبنی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Sanjay Leela Bhansali
Image caption رام لیلا میں رنویر سنگھ اور دیپکا پاڈوکون

آر ڈی برمن کے كمپوزيشن میں تیار اس گیت کشور کمار نے آواز دی ہے اور اسے ریکھا اور راجیش کھنہ پر فلمایا گیا ہے۔

اس کے بعد وہ فلم آئی جس میں ’ہولی، کب ہے ہولی؟‘، ’برا نہ مانو ہولی ہے‘ جیسے ڈائیلاگ سامنے آئے۔ یہ فلم ہے ’شعلے‘ اور اس میں ہولی کے دن دل کھل جاتے ہیں کے علاوہ ہولی کے کئی مناظر بھی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Mehboob Productions
Image caption راج کمار اور نرگس فلم مدر انڈیا میں

اسی سال آئی سنیل دت کی فلم ’زخمی‘ میں وہ ڈفلي بجاتے ہوئے ’ہولی آلی رے آلی رے‘ گاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ہولی کے اس نغمے سے وہ فلم میں اپنے دشمنوں کے خلاف جنگ چھیڑنے کا اعلان کرتے ہیں۔

پھر سنہ 1978 میں باسو چٹرجی کی ہدایت میں بننے والی فلم ’دل لگی‘ میں دھرمیندر پر فلمایا گیا گیت ’کر گئی مست مجھے‘ کا نمبر آتا ہے۔ اس فلم میں دھرمیندر کے ساتھ ہیما مالنی بھی اہم کردار میں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ dharma production
Image caption دیپکا اور رنبیر کپور ہولی کے سین میں

اب بات کرتے ہیں اس گانے کی جو ’ہولی کا اینتھم‘ کہا جاتا ہے۔ سنہ 1981 میں آنے والی فلم ’سلسلہ‘ کا ’رنگ برسے بھیگے چنر والی‘ ہولی پر گائے اور بجائے جانے والے گانوں میں پہلے نمبر پر آتا ہے۔

سنہ 1982 میں آنے والی فلم ’راجپوت‘ کا ’بھاگی رے بھاگی رے برج کی بالا‘ بھی ہولی کے گیتوں میں اہم ہے۔ اسی سال راکیش روشن کی فلم ’کام چور‘ کا گيت ’رنگ دے گلال موہے‘ نے ہجر و وصال کے رنگ کو پردۂ سیمیں پر پیش کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ YRF
Image caption جوہی چاولہ فلم ڈر کے ایک منظر میں

ممبئی کی گلیوں میں کھیلی جانے والی ہولی کو سنہ 1984 میں آنے والی فلم ’مشعل‘ کے گانے ’ہولی آئی، ہولی آئی‘ میں بخوبی دکھایا گیا ہے۔ دوگر بھٹی کی ہولی کے گیت کو انیل کپور اور رت اگنی ہوتری پر فلمایا گیا ہے اور اس میں ایک بار پھر دلیپ کمار نظر آتے ہیں اور ان کے ساتھ وحیدہ رحمان ہیں۔

اس کے علاوہ ان کی فلم ’کرما‘ میں بھی ہولی کا منظر ہے جس میں جیل کے قیدیوں کے ساتھ دلیپ کمار ہولی مناتے ہیں اور گيت میں مذہبی یکجہتی کا اظہار ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ YRF
Image caption انیل کپور، دلیپ کمار اور وحیدہ رحمان فلم مشعل میں

اس کے بعد سنہ 1985 میں آنے والی فلم ’آخر کیوں‘ کے گانے ’سات رنگ میں کھیلے‘ میں رشتوں کے بدلتے رنگوں کو اداکارہ سمیتا پاٹل دیکھتی ہیں۔ سمیتا کے علاوہ راکیش روشن اور ٹینا منیم بھی اس گیت میں نظر آتی ہیں۔

90 کی دہائی کے آتے آتے کئی فلموں میں ہولی کے گیت سننے کو ملے۔ انھی میں سے ایک ہے سنہ 1993 میں آنے والی فلم ’ڈر‘ کا گیت ہے انگ سے انگ لگانا سجن ہمیں ایسے رنگ لگانا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Ravi Chopra
Image caption امیتابھ بچن فلم باغبان میں

سنہ 2000 کی فلم ’محبتیں‘ کا گیت کچھ کچھ شہری ہوتی ہوئی ہولی کے ارد گرد تھی۔ اس فلم کا گانا ’سونی سونی آنکھیوں والی‘ آج بھی نوجوان طبقے میں کافی مقبول ہے۔

اس کے علاوہ سنہ 2003 میں آنے والی فلم ’باغبان‘ میں امیتابھ بچن اور ہیما مالنی پر فلمایا گیا گیت ’ہولی کھیلے رگھويرا‘ بھی ہولی کے گانوں میں اہم جگہ رکھتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ shakti samanta
Image caption راجیش کھنہ اور آشا پاریکھ فلم کٹی پتنگ میں

سنہ 2005 کی فلم ’وقت - دی ریس اگینسٹ دا ٹائم‘ میں اکشے کمار اور پرینکا چوپڑا پر فلمایا جانے والا گیت ’ڈو می اے فیور لیٹس پلے ہولی‘ میں کچھ جدت لانے کی بھی کوشش تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ yashraj films
Image caption فلم محبتیں کی ہولی

اس کے بعد سنہ 2013 ’یہ جوانی ہے دیوانی‘ کا گیت ’بلم پچکاری‘ اور سنہ 2014 میں آنے والی فلم’رام لیلا‘ کا گیت ’لہو منہ لگ گیا‘ بھی نوجوانوں میں مقبول ہے۔ اس کے علاوہ سچن کی بھوجپوری فلم ’ندیا کے پار‘ میں ہولی کا اہم کردار ہے اور ہولی کا گیت بھی بہت مقبول رہا ہے۔

اسی بارے میں