’لاہور آکر احساس ہوا یہاں پہلے آنا چاہیے تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ APP
Image caption انھوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ثقافتی وفود کے تبادلے ہوتے رہنے چاہییں

ماضی کی ممتاز انڈین اداکارہ زینت امان نے کہا ہے کہ لاہور آکر انھیں بہت اچھا محسوس ہوا اور انھیں چاہیے تھا کہ وہ پہلے پاکستان آتیں۔

مقامی صحافی این اے خان کے مطابق وہ لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہی تھیں۔ زینت امان ’ کیا دلی کیا لاہور‘ کے دوسرے ایڈیشن میں شرکت کے لیے سنیچر کو لاہور پہنچی تھیں۔ بھارتی گلوکارہ ریکھا بھردواج اور شیف مجیب الرحمان سمیت 23 رکنی وفد بھی زینت امان کے ہمراہ واہگہ کے راستے پاکستان پہنچا۔ جو لاہور میں 20 مارچ شروع ہونے والے تین روزہ ’شان پاکستان ، کیا دلی کیا لاہور‘ فیسٹول میں شرکت کررہے ہیں۔

واہگہ بارڈر پر میڈیا کے نمائندوں سے ان کی گفتگو نہیں ہوئی تھی تاہم انھوں نے اتوار کو باقاعدہ پریس کانفرنس کی جس میں انھوں نے کہا کہ لاہور بڑا خوبصورت شہر ہے، انھیں یہاں آکر احساس ہوا کہ یہاں پہلے آنا چاہیے تھا۔ یہاں کے لوگ، کھانے سب بہت اچھے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ثقافتی وفود کے تبادلے ہوتے رہنے چاہییں۔ دونوں ممالک میں قابلیت کی کوئی کمی نہیں اور نہ ہی قابلیت کی کوئی سرحد ہوتی ہے۔ زینت امان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے لوگ فن اور فیشن کو پسند کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ APP
Image caption بھارتی گلوکارہ ریکھا بھردواج اور شیف مجیب الرحمان سمیت 23 رکنی وفد بھی زینت امان کے ہمراہ واہگہ کے راستے پاکستان پہنچا

انھوں نے کہا کہ لاہور فلم انڈسٹری کا مرکز رہا ہے جبکہ کئی بھارتی فنکاروں کا تعلق پشاور سے ہے۔ دونوں ممالک میں بہت سی چیزیں مشترک ہیں۔ مشترکہ طور پر فلمیں بھی بننا چاہییں۔

ماضی میں کرکٹرز کے ساتھ دوستیوں کے ایک سوال پر زینت امان نے کہا کہ ماضی کی باتیں ماضی ہی میں رہنے دیں۔ زندگی مختصر ہے دونوں ممالک کو آپس میں امن و محبت کے ساتھ رہنا چاہیے۔

’کیا دلی کیا لاہور‘ فیسٹول کا پہلا ایڈیشن ستمبر 2015 میں نئی دہلی میں منقعد کیا گیا تھا۔

فوڈ، میوزک اور فیشن کے سیگمنٹس پر مشتمل تین روزہ فسیٹول 20سے 22 مارچ تک لاہور کے مقامی ہوٹل میں جاری ہے جس میں پاکستان اور بھارتی کی فلم اور فیشن انڈسٹریز کے کئی اسٹارز شرکت کررہے ہیں۔

اسی بارے میں