راج کپور کی ہولی میں دیو آنند کبھی نہیں آئے

تصویر کے کاپی رائٹ rishi kapoor twitter page
Image caption راج کپور کے بعد آر کے سٹوڈیو کی معروف ہولی بھی جاتی رہی

بھارتی فلم انڈسٹری کی ہولی صرف فنکاروں کے لیے ہی نہیں بلکہ فلم شائقین کے لیے بھی دلچسپی سے خالی نہیں۔

بالی وڈ میں سب سے مشہور کپور خاندان کی ہولی رہی ہے جس کی روایت پرتھوی راج کپور سے شروع ہوئی تھی اور راج کپور تک جاری رہی۔ راج کپور کے زمانے میں آر کے سٹوڈیو کی ہولی کا پوری فلمی انڈسٹری کو انتظار رہا کرتا تھا۔

اس زمانے میں جسے بھی راج کپور کے یہاں ہولی کھیلنے کے لیے مدعو کیا جاتا وہ بہت فخر محسوس کیا کرتا تھا کیونکہ اس سے انڈسٹری میں اس سے اس کی حیثیت کا اندازہ ہوتا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ RK Studio
Image caption راج کپور اور پران

فلم ناقد جے پرکاش چوكسے کہتے ہیں: ’بہت سے نئے فنکاروں کو یہاں اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع ملتا تھا، جیسے امیتابھ بچن کو ملا تھا۔ امیتابھ بچن کی مسلسل نو فلمیں ناکام ہونے کے بعد وہ ایک بار آر کے سٹوڈیو چلے آئے۔ تب راج کپور نے ان سے کہا آج کوئی دھمال ہو جائے، دیکھو کتنے سارے لوگ آئے ہیں سب تمہاری صلاحیت دیکھ سکیں گے۔

’تب پہلی بار امیتابھ بچن نے اپنی آواز میں ’رنگ برسے بھیگے چنر والی‘ گایا اور اس قدر جھومے کہ سب ان کے دیوانے ہو گئے۔ سالوں بعد یش چوپڑا نے اسی گیت کو اپنی فلم ’’سلسلہ‘‘ میں استعمال کیا تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ RK Studio
Image caption کپور خاندان ہولی کے رنگ میں شرابور

آر کے سٹوڈیو میں مہمانوں کا استقبال ان پر رنگ بھری بالٹی انڈیل کر کیا جاتا تھا اور پھر انھیں رنگ سے بھرے تالاب میں غوطہ لگانا ہوتا تھا۔ جو زیادہ نہیں نہیں کرتا اسے زبردستی پھینک دیا جاتا۔ پھر شروع ہوتا تھا ڈھول، مجيرا اور ہارمونیم کے ساتھ گیت اور موسیقی کا پروگرام، جسے راج کپور اپنے تمام فلمی دنیا کے دوستوں کے ساتھ گایا کرتے۔

آر کے سٹوڈیو کی تاریخی ہولی میں نرگس، وجینتی مالا، ہیما مالنی، دھرمیندر، دلیپ کمار، منوج کمار، راجندر کمار، جيتیندر، دارا سنگھ، راکیش روشن، پران، پریم ناتھ، متھن، راجیش کھنہ، امیتابھ، انیل کپور، شتروگھن سنہا، راکھی، ریکھا، سری دیوی، زینت امان جیسے اداکار شرکت کیا کرتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ RK Studio
Image caption آر کے سٹوڈیو کے ہولی کا ایک منظر

جے پرکاش چوكسے کے مطابق: ’اس ہولی میں دیوآنند کے علاوہ ساری فلم انڈسٹری موجود رہتی تھی۔ دیوآنند کو ہولی کھیلنا پسند نہیں تھا۔ وہ ہمیشہ اس تہوار سے دور رہتے تھے اور راج صاحب اس بات کو اچھی طرح جانتے تھے، اس لیے انھوں نے کبھی دیو صاحب پر ہولی کھیلنے کے لیے زور نہیں ڈالا۔

’سب کے چلے جانے کے بعد شام کو چار بجے راج کپور سے ملنے خواجہ سرا آیا کرتے تھے۔ آر کے سٹوڈیو میں وہ لوگ ان کے سامنے رنگ اڑاتے، رنگ لگاتے اور انھیں بھی اپنے ساتھ نچواتے۔ راج کپور اپنی نئی فلموں کے گیت انھیں سناتے اور ان کی منظوری ملنے کے بعد ہی اسے فلم میں رکھتے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ RK Studio
Image caption یہاں راج کپور کو پریم چوپڑا کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے

فلم ’رام تیری گنگا میلی‘ کے گیتوں میں سے ایک گیت انھیں پسند نہیں آيا تو راج کپور نے اسی وقت روندر جین کو بلایا اور انھیں ایک نیا گیت تیار کرنے کے لیے کہا۔ تب ’سن صاحبہ سن، پیار کی دھن‘ گيت تیار ہوا جو انھیں بہت پسند آیا۔ انھوں نے راج کپور سے کہا کہ دیکھ لینا یہ گیت برسوں چلیں گے اور ایسا ہی ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ RK Studio
Image caption امیتابھ اور جیتیندر

راج کپور کی پوتی کرینہ کپور کہتی ہیں: ’میں نے سات سال تک اپنے دادا کے ساتھ ہولی منائی لیکن ان کے جانے کے بعد ہم نے ہولی کھیلنا چھوڑ دیا۔ انھوں نے ہولی کھیلنے کا نیا سٹائل پیش کیا تھا، لیکن اب ایسا کچھ بھی نہیں بچا ہے، اب بس یادیں ہی رہ گئی ہیں۔‘

اسی بارے میں