اب لوگ مجھے بیوقوف نہیں کہیں گے: نیتو چندرا

تصویر کے کاپی رائٹ Raindrop media

قومی ایوارڈ حاصل کرنے والی فلم ‎’میتھلي مكھان‘ کے پروڈیوسر نیتو چندرا کا کہنا ہے کہ اب لوگ انہیں ‎ بیوقوف نہیں کہیں گے۔

اداکارہ نیتو چندرا نے سنہ 2005 میں آنے والی فلم ’گرم مسالا‘ سے بالی ووڈ میں قدم رکھا تھا۔ لیکن اب وہ علاقائی سنیما کا رخ کر چکی ہیں اور اسی پر ان کا زور ہے۔

اپنے بڑے بھائی نتن چندرا کے ساتھ انہوں نے دو علاقائی فلمیں ’دیسوا‘ اور ’میتھلي مكھان‘ بنائی ہیں۔ اس میں سے فلم ’‎میتھلی مكھان‘ کو قومی ایوارڈ بھی ملا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ raindrop media

ریاست بہار میں پلی بڑھی نیتو چندرا کا کہنا ہے ’علاقائی فلموں کی طرف جانے کے میرے فیصلے کو لوگ 'بیوقوفی بھرا فیصلہ کہہ رہے تھے، لیکن اب قومی ایوارڈ ملنے کے بعد لوگ مجھے بیوقوف نہیں کہیں گے۔‘

وہ کہتی ہیں ’یہ صرف بہار کے لیے نہیں، بلکہ پورے بھارت کے لئے فخر کی بات ہے کیونکہ ہم نے ایسی زبان میں فلم بنائی ہے جو مر رہی ہے۔‘

نیتو چندرا کہتی ہیں ’بہار میں پانچ زبانیں ہیں۔ بھوجپوری، میتھلي، مگھی، اگنكا اور بجّكا، جس میں سے اگنكا اور بجّكا ختم ہو چکی ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

میتھلي زبان کو بچانے کی کوشش پر نیتو آگے کہتی ہیں ’قومی ایوارڈ ملنے سے ہمت بڑھتی ہے اور ایسی کوششوں کو تقویت ملتی ہے۔‘

سنہ2007 میں آنے والی فلم ’ٹریفک سگنل‘ میں نظر آنے کے بعد سے نیتو اچانک سکرین سے غائب ہو گئی تھیں۔

نیتو کہتی ہیں ’لوگ مجھے مشورہ دیتے ہیں کہ پردے پر آنے کے لیے ہی سہی فلم کر لو، لیکن چار گانوں والی فلم میں دو رومانٹک اور دو ڈانس نمبر میں میری دلچسپی نہیں ہے، میں تو اچھی فلموں کا حصہ بننا چاہتی ہوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ raindrop media

نیتو کہتی ہیں کہ فلم انڈسٹری میں اداکارہ کے خوبصورت ہونے سے ہی مطلب ہوتا ہے جبکہ اداکاری سب سے آخر میں آتی ہے۔

نیتو ان دنوں سپورٹس ڈرامہ فلم ’لڑاکو ‘ کی تیاری میں لگی ہوئی ہیں۔ اس فلم میں وہ تائیكونڈو کرتی نظر آئیں گی۔

اس فلم کی ہدایت کاری ان کے بھائی نتن چندرا ہی کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں