’آف شور کمپنیوں سے میرا کوئی تعلق نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

بالی وڈ کے سپر سٹار امیتابھ بچن نے کہا ہے کہ ان کا ’آف شور‘ کمپنیوں سے کسی بھی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

انڈین ایکسپریس کے مطابق امیتابھ بچن کو سنہ 1993 میں کم از کم چار آف شور کمپنیوں کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا تھا جو کہ برٹش ورجن آئی لینڈ اور بہاماز میں رجسٹرڈ ہیں۔

٭ پاناما لیکس: آئس لینڈ کے وزیر اعظم مستعفی

٭ پاناما پیپرز میں کب کیا اور کیسے ہوا؟

اخبار کا دعویٰ تھا کہ پاناما کی لا فرم موساک فونسیکا سے ملنے والی خفیہ دستاویزات کے مطابق ان کے علاوہ بالی وڈ اداکارہ ایشوریہ رائے اور ديگر 500 انڈین آف شور کمپنیوں سے منسلک رہے ہیں۔

ایشوریہ رائے کے میڈیا مشیر نے بھی ان دستاویزات کی صداقت پر سوال اٹھایاہے۔

انڈین ایکسپریس نے کہا ہے کہ امیتابھ بچن نے ان سوالات کے جواب نہیں دیے لیکن گذشتہ روز منگل کو انھوں نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کسی قسم کی شمولیت سے انکار کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے: ’میں کبھی بھی مذکورہ کمپنی کا ڈائریکٹر نہیں رہا۔ ایسا ہو سکتا ہے کہ میرے نام کا غلط استعمال کیا گیا ہو‘۔

’میں نے ضابطے کے مطابق اپنے تمام ٹیکس ادا کیے ہیں اور ان میں وہ پیسے بھی شامل ہیں جو میں نے بیرونی ممالک میں خرچ کیے۔ اس میں وہ رقم بھی شامل ہے جس پر لبرلائزڈ ریمیٹینس سکیم کے تحت ٹیکس ادا کیا گیا ہے۔

’کسی بھی موقعے پر انڈین ایکسپریس میں شائع رپورٹ یہ نہیں کہتی کہ میں نے کوئی غیر قانونی کام کیا ہے۔‘

اخبار کے مطابق ایشوریہ رائے اور ان کی خاندان کو سنہ 2005 میں برٹش ورجن آئی لینڈس کی ایک کمپنی میں ڈائرکٹر مقرر کیا گیا تھا لیکن وہ کمپنی سنہ 2008 میں بند ہو گئی۔

ایشوریہ رائے کے میڈیا مشیر نے اخبار سے کہا ’آپ نے جو معلومات فراہم کی ہیں وہ مکمل طور پر غلط اور بے بنیاد ہیں۔‘

خیال رہے کہ ایشوریہ رائے کی شادی امیتابھ بچن کے بیٹے ابھیشیک بچن سے ہوئي ہے۔

اسی بارے میں