ژے سوئی طاہر شاہ

تصویر کے کاپی رائٹ tahirshah.com

کشور کمار اگر ’جھینگا لالہ ہو ہو ہر ہر‘ گائیں تو بھی کشور کمار۔ انو ملک اگر فلم مسٹر اینڈ مسز کھلاڑی (1997) کے لیے ’جب تک رہے گا سموسے میں آلو، تیرا رہوں گا او میری شالو‘ کمپوز کر کے اکشے کمار اور جوہی چاولہ پر فلما دیں تو نہ صرف گانا سمیشنگ ہٹ بلکہ انو ملک مہان موسیقار۔

عمران جاوید اگر ’ٹیری پاپا ٹیری پاپا آئندہ نہ دیکھوں‘ کمپوز کرے تو 90 کی دہائی کا ابھرتا پاکستانی پاپ سنگر گردانا جاوے۔

برٹش پاکستانی محمد شاہد اگر ’ون پاؤنڈ فش، ویری ویری گڈ، ویری ویری چیپ‘ گا دے تو وارنر میوزک اس سے فوراً معاہدہ کر لے۔

معروف نیم کلاسیکل پاپ گلوکار سجاد علی ’تمہارے اور میرے گھر کے بیچ ہے لاری اڈا لاری اڈا‘ کی میوزک البم نکال لے تو بھی خان صاحب بڑے غلام علی خان کی سنگت کرنے والے استاد شفقت حسین کا مایہ ناز گنی سپتر ہی کہلاوے۔

مگر ہمارے طاہر شاہ کا دو سال پرانا پہلا سولو ’آئی ٹو آئی‘ یو ٹیوب پر 72 ہزار ہٹس لے یا دوسرا سولو ’اینجل‘ یو ٹیوب پر ریلیز ہونے کے صرف دو دن کے اندر اندر پونے سات لاکھ ہٹس لے اور مسلسل تین روز تک انڈیا، پاکستان اور برطانیہ میں ٹاپ تھری ٹویٹ ٹرینڈز میں رہے، ٹرینڈنگ کی وجہ سے بی بی سی اپنے مضمون میں طاہر شاہ کو ایک ناقابلِ یقین گلوکار قرار دے رہا ہے اور اخبار واشنگٹن پوسٹ اس پر ’دنیا کا سب سے عجیب گلوکار پاکستانی ہے‘ کی طنزیہ سرخی جما رہا ہے۔ آخر کیوں ؟

کبھی فیس بک پر طاہر شاہ کے عجیب و غریب کپڑوں اور رنگوں کے انتخاب کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ کبھی آواز کی کوالٹی، گانوں کے بول اور حلیے پر ٹوینکل کھنہ ٹویٹ کر رہی ہے کہ ’پاکستان کو ایٹم بم کی قطعاً ضرورت نہیں۔بس یہ کرے کہ اس جامنی (طاہر شاہ کے گاؤن کا رنگ) کو بھارت پر گرا دے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

یہ کوئی نہیں دیکھ رہا کہ طاہر شاہ کی شاعری جیسی بھی ہے وہ ’آئی ٹو آئی‘ اور ’اینجل‘ میں لوگوں کو تشدد پر نہیں اکسا رہا بلکہ اچھوتے انداز میں پوری انسانیت کو محبت اور امن کا پیغام دے رہا ہے اور ہم ہیں کہ اس کی انگریزی کی بھد اڑا رہے ہیں اور گائیکی پر ہنسنے کے باوجود اگلے سولو کا بھی شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے؟

بات یہ ہے کہ طاہر شاہ ایک بے ضرر ملنگ فن کار اور لبریٹڈ تخلیق کار ہے۔ اسے جو اچھا لگ رہا ہے وہی کر رہا ہے۔

طاہر شاہ نے ’آئی ایم لائیک این اینجل، مین کائنڈ اینجل، لونلی فار یو‘ کے وڈیو میں گالف کورس کی لق و دق سبز تنہائی میں طرح طرح کے غیر روایتی گاؤن پہن کر اور کندھوں پر گتے کے پر چپکا کر اینجل کا بہت ہی انقلابی تصور باندھا ہے۔ اس کا اینجل نہ صرف شادی شدہ بلکہ صاحبِ اولاد بھی ہے۔ اسے کہتے ہیں ذہنِ انسانی کی لامحدود تخلیقی پرواز جو تمام روایتی تصور پاش پاش کر دے۔

ہم سب میں طاہر شاہ موجود ہے مگر ہم بزدل ہیں۔ یہی سوچتے سوچتے ایک دن ختم ہو جاتے ہیں کہ دنیا کیا کہے گی، کہیں مذاق نہ اڑ جائے، کہیں لوگ مسخرہ نہ سمجھ لیں۔ لہٰذا جب کوئی طاہر شاہ سامنے آتا ہے تو ہم اپنی دبی محرومیوں کو تیاگنے کے بجائے ان محرومیوں سے طنز کے زہر بجھے تیر بنا لیتے ہیں۔

طاہر شاہ بننا آسان نہیں۔ اس کے لیے خاص طرح کی بے جگری درکار ہے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کی بات نہیں۔

میں اگر چاروں طرف نظر دوڑاؤں تو کوئی بھی طاہر شاہ جیسا نہیں۔ لیکن قریب ترین کی اکا دٌکا مثالیں البتہ مل سکتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جیسے آپ زید حامد کو عسکری امور کا طاہر شاہ کہہ سکتے ہیں جو اپنی بے لگام بےباکی اور لال ٹوپی کے سبب جانے جاتے ہیں۔

پرویز مشرف نے بھی طاہر شاہ کی طرح جو سوچا وہی کیا اور انھیں کوئی رکاوٹ اپنی سوچ اور ارادے کو عملی جامہ پہنانے سے نہ روک سکی۔ فیس بک پر جتنے طاہر شاہ کے فین ہیں کم و بیش اتنے ہی پرویز مشرف کے بھی ہیں۔ اللہ دونوں کو طویل عمر اور صحت دے۔

سیاست میں اگر بہت ہی دھیان سے کسی طاہر شاہ کو ڈھونڈا جائے تو شاید نظر عمران خان پر ٹھہرے۔ جو جی میں آتا ہے کہتے ہیں، کرتے ہیں اور نہیں بھی کرتے۔

کچھ بہی خواہوں کا تو یہ بھی مشورہ ہے کہ اس دفعہ رائے ونڈ کے مجوزہ دھرنے کے لیے طاہر القادری سائیڈ کک کے طور پر دستیاب نہ ہوں تو طاہر شاہ کو ہی کنٹینر پر رکھ لیا جائے۔

اس طرح ڈی جے بٹ کی کمی بھی پوری ہو جائے گی اور دھرنا ایک دم ’آئی ٹو آئی‘ ہو جائے گا۔

اسی بارے میں