چوتھے اسلام آباد ادبی میلے کا آغاز

Image caption میلے کے افتتاحی سیشن میں بڑی تعداد میں لوگوں نے حصہ لیا

اوکسفرڈ پبلشرز کے زیرِ اہتمام جمعے کے دن سے چوتھے اسلام آباد ادبی میلے کا آغاز ہو گیا ہے۔ البتہ اس بار میلے کے انعقاد کا مقام ہوٹل سے بدل کر شکرپڑیاں میں واقع سرسبز لوک ورثہ کر دیا گیا ہے۔

پہلے کی طرح اس بار بھی میلے کی خصوصیات میں اہم ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں کے خیالات پر مبنی سیشن، نئی کتابوں کا اجرا، سستے کتاب گھر، موسیقی اور پرفارمنس شامل ہیں۔

البتہ شائقین نے اس میلے میں جس شخصیت کی کمی سب سے زیادہ محسوس کی وہ انتظار حسین ہیں، جو گذشتہ تمام میلوں کی شان ہوا کرتے تھے۔ انتظار حسین دو فروری کو چل بسے تھے۔

Image caption میلے میں رکھی گئی ’کتاب گاڑی‘

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس میلے کے شریک منتظم آصف فرخی نے انتظار حسین کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ یہ میلہ ان کے بغیر ادھورا سا لگ رہا ہے۔

اس بار ان کی یاد میں ایک خصوصی سیشن منعقد کیا جائے گا۔

اس بار مقامی ادیبوں کو بھی خاصی نمائندگی دی گئی ہے، جس کی ایک مثال پہلی بار پوٹھوہاری مشاعرے کا انعقاد ہے۔

اس موقعے پر اردو ادیب اور شاعر علی اکبر ناطق نے کہا کہ میڈیا کو تو سیاست کے علاوہ دنیا میں کچھ نظر ہی نہیں آتا اور وہاں ادب یا ادیبوں کی جگہ نہیں بنتی جب کہ اس طرح کے ادبی میلوں کے انعقاد سے معاشرے پر بہت اچھے اثرات پڑیں گے اور بڑھتی ہوئی انتہاپسندی کا مقابلہ کرنے میں مدد ملے گی۔ اگر ادیب کی آواز میڈیا کے ذریعے سامنے نہیں آتی تو کم از کم ان میلوں سے ان کی آواز عوام تک پہنچ جاتی ہے۔

ممتاز اردو شاعر اختر عثمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ سوشیو کلچرل سرگرمی ہے اور یہاں متوسط طبقے کے بہت سے لوگ نظر آتے ہیں جن کے لیے یہ ایک نیا تجربہ ہے جسے دہراتے رہنا چاہیے۔ اس کے علاوہ دوسرے خطوں سے آنے والے ادیبوں کو بھی آپس میں مل بیٹھنے اور ایک دوسرے کے تخلیق عمل سے واقف ہونے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

اوکسفرڈ کی جانب سے منعقد کیے جانے والے میلوں کی طرح اس میلے کی ایک خوش آئند بات یہ ہے کہ یہاں درجنوں بک سٹال لگائے گئے ہیں جہاں کم قیمت کتابیں خریدی جا سکتی ہیں۔ ان بک سٹالوں پر لوگوں کی بڑی تعداد سے اندازہ ہوتا ہے کہ لوگ اس پیش کش سے بھرپور استفادہ کر رہے ہیں۔