زیرِ جامہ ملبوسات کی تاریخ

تصویر کے کاپی رائٹ VA
Image caption 1890 1895 تک استعمال ہونے والے زیرِ جامے

جب سے لندن میں وکٹوریا اینڈ البرٹ میوزیم کھولا گیا ہے تب سے وہاں زیادہ توجہ ملبوسات اور ان کا استعمال پر ہے۔ اب وہاں زیرِ جامہ ملبوسات کے حوالے سے ایک پوری نمائش کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔

عجائب خانے کے نگران کا کہنا ہے کہ ملبوسات کا سب سے زیادہ دلفریب حصہ زیرِ جامہ ہوتا ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ ان میں بہت سے ایسے ملبوسات بھی ہیں جو اس سے قبل عوامی سطح پر کبھی نہیں دکھائے گئے۔

سنہ 1887 کی برطانوی کیلیپسو سے لے کر پہلی جنگِ عظیم کی جرمن اوسٹریٹی کورسٹ تک کے دور میں استعمال ہونے والے زیرِ جامہ اس نمائش کا حصہ ہیں۔

کل دو سو لباس اس نمائش کا حصہ ہیں جن میں سنہ 1750 سے لے کر اب تک کے زیرِ جامہ شامل ہیں۔ اس میں خواتین کے فیشن کا غلبہ دکھائی دیتا ہے تاہم اس کا پانچواں حصہ مردوں کے لباس پر مشتمل ہے۔

عجائب خانے کی نگران ایڈون اہرمین کا کہنا ہے کہ مردوں کے زیرِ جاموں کے بارے میں رائے اکٹھا کرنا مشکل کام تھا۔

عام طور پر مردوں کے زیر جامہ ملبوسات کا ذکر نہیں کیا جاتا۔ اگر آپ کسی ڈیپارٹمینٹل سٹور پر جائیں تو عموماً خواتین کے زیرِ جامہ سامنے دکھائی دیتے ہیں اور خواتین ان کے رنگ اور سلائی وغیرہ چیک کرنا پسند کرتی ہیں۔ تاہم مرد اس معاملے میں ُسخت گیر ہوتے ہیں۔ ان کے زیرِ جامے ایک پیکٹ میں بند ہوتے ہیں جس پر موجود تصویر میں ایک پرکشش نوجوان مرد کی تصویر دکھائی دیتی ہے۔

سماجی برتری کی علامت

تصویر کے کاپی رائٹ VA

خواتین کے زیرِ جامہ لباس میں سے ایک سنہ 1760 کا لباس بھی موجود ہے جو ایک حلقہ نما پیٹی کوٹ ہے جو ہے تو آئرلینڈ کا لیکن وہ فرینچ سٹائل میں ہے۔

20ویں صدی کے آغاز میں آنے والی پہلی براز اس شو میں آنے والی اہم تبدیلی ہیں۔ کیونکہ اس سے قبل 19 صدی میں خواتین شکم بند استعمال کرتی تھیں جس کے بارے میں بعد میں معلوم ہوا کہ یہ خواتین کی صحت کے لیے اچھا نہیں۔ یہ سانس لینے میں دشواری پیدا کرتا ہے اور اندرونی اعضا پر بوجھ ڈالتا ہے۔

یعنی سنہ 1876 میں پہلی بار خواتین کی چھاتی کو سہارا دینے کے لیے زیرِ جامہ استعمال ہوا جو بعد ازاں چولی، انگیا یا برا کی شکل اختیار کر گیا۔ لیکن شکم بند یا تنگ پیٹی دار بنیان مکمل طور پر غائب نہیں ہوئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ VA

اہرمین کا کہنا ہے کہ طبی وجوہات کی بنا پر مردوں کے لیے لنگوٹ کا استعمال شروع ہوا۔ اس کا آغاز وکٹورین دور سے ہوا جب سائیکل چلانے کا شوق بہت ہوتا تھا لیکن گھڑ سواری کے دوران اس کی اہمیت اور زیادہ تھی۔

اہرمین کا کہنا ہے کہ معلوم نہیں کہ زیرِ جامہ ملبوسات کا یہ فیشن آگے کہاں تک جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ VA

یہ تبدیلیاں ٹیکنالوجی کی جدت سے بھی آئی ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ لوگ زیادہ آرام دہ اور پرکشش ملبوسات اور نئے انداز میں حاصل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ نوجوان چاہتے ہیں کہ وہ سابقہ نسلوں سے مختلف ملبوسات پہنیں۔