ادیب کو راک سٹار بنانے کا مشن

Image caption آخری سیشن اس قدر ’ہاؤس فل‘ رہا کہ بہت سے لوگوں کو ہال کے اندر جگہ نہیں مل سکی

اتوار کی شام کو اوکسفرڈ پبلشرز کے زیرِ اہتمام منعقد کیا جانے والا تین روزہ اسلام آباد ادبی میلہ دارالحکومت میں رونقیں لٹا کر اپنے اختتام کو پہنچا۔

میلے کے اختتام پر شریک منتظم آصف فرخی نے کہا کہ جب ہم نے چار سال قبل اسلام آباد میں ادبی میلے کے انعقاد کا سوچا تو لوگوں نے بڑا ڈرایا تھا کہ اسلام آباد جیسے بےکیف شہر میں دو سو لوگ کیسے ادب کی خاطر جمع ہو سکتے ہیں؟ لیکن آج اس میلے کی مقبولیت نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ لوگ غلط تھے۔

آصف فرخی کی اس بات سے اختلاف کرنا اس لحاظ سے ممکن نہیں ہے کہ جس ہال میں وہ یہ تقریر کر رہے تھے وہاں دوسرے بیسیوں لوگوں کے علاوہ مجھے بھی بھیڑ کی وجہ سے داخلہ نہیں مل پایا اور مجھے ان کی تقریر دروازے کے باہر سے سننا پڑی۔

اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس پاکستان کی مینیجنگ ڈائریکٹر امینہ سید نے اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ادیب کو معاشرے کا ’راک سٹار‘ بنایا جائے، اور اس میلے میں لوگوں کا جوش و خروش دیکھ کر لگتا ہے کہ ہم اپنے اس مشن میں بڑی حد تک کامیاب رہے ہیں۔

Image caption فیض کے پیچھے تو ایلس تھیں، لیکن ایلس کے پیچھے صرف ایلس ہی تھیں

انھوں نے کہا کہ ادبی میلوں کے انعقاد کی روایت اس قدر کامیاب ثابت ہوئی ہے کہ ہم پہلے ہی سے اگلے کراچی میں ہونے والے ادبی میلے تیاریاں کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ میلہ پاکستان کے قیام کی 70ویں سالگرہ کے سال پر ہو گا اس لیے موقعے کی مناسبت سے اوکسفرڈ نے پاکستان کی تاریخ، ثقافت اور ادب پر 70 کتابیں چھاپنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

شائقین نے اس بات کو سراہا کہ اس باریہ میلہ ایک نجی ہوٹل کے محدود ماحول کی بجائے شکرپڑیاں کی سبزہ زاروں کے درمیان واقع لوک ورثہ میں منعقد کیا گیا جہاں نہ صرف وسیع جگہ دستیاب تھی بلکہ کھانے پینے کے درجنوں سٹال بھی دستیاب تھے۔ اس طرح اسلام آباد کے ہلکی ہلکی بوندابوندی والے موسم میں اس میلے میں روح کی تسکین کے ساتھ ساتھ کام و دہن کی تسلی کا التزام بھی موجود تھا۔

میلے کا ایک نہایت دلچسپ سیشن فیض احمد فیض کے بارے میں تھا جس میں لوگوں کی بڑی تعداد نظر آئی۔ اس میں فیض کی اہلیہ ایلس فیض کی کتاب ’اوور مائی شولڈر‘ کا تعارف پیش کیا گیا۔ فیض کی صاحبزادی منیزہ نے کتاب میں سے چند اقتباسات پڑھ کر سنائے جو حاضرین نے بڑی توجہ سے سنے۔ ان میں ایلس نے فیض سے اپنی شادی کا احوال بیان کیا تھا، کیسے وہ پہلی بار فیض کے گھر والوں کے سامنے آئیں، کیسے خاندان کی عورتوں نے ان کا گھونگھٹ کاڑھا، ان کے ہاتھوں پر مہندی لگائی اور فیض کی والدہ نے ان کا اسلامی نام کلثوم رکھا۔

Image caption ادبی میلے میں شرکت کرنے والے بعض ادیبوں کے دستخط

منیزہ نے کہا کہ فیض کے پیچھے ایلس تھیں، لیکن ایلس کے پیچھے صرف ایلس ہی تھیں۔

فیض کی دوسری صاحبزادی منیزہ نے بتایا کہ ایلس ان سے گھر میں صرف اردو بولتی تھیں، حتیٰ کہ جب منیرہ کے نانا نانی پہلی بار انگلستان سے پاکستان آئے تو پانچ سالہ مینزہ ان سے بات نہیں کر پا رہی تھیں کیونکہ انھیں انگریزی کا ایک لفظ تک نہیں آتا تھا۔

ایک اور سیشن میں اردو کے صفِ اول کے نقاد ناصر عباس نیئر کی کتاب ’اردو ادب کی تشکیلِ جدید‘ پر بات ہوئی۔ ناصر نے کہا کہ گلوبلائزیشن یا عالم گیریت بظاہر تو دنیا کو قریب لا رہی ہے، لیکن اس میں بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے دنیا کی رنگا رنگ تہذیبوں کو پیچھے دھکیل کر ایک تہذیب اور ایک زبان کی بالادستی قائم کی جا رہی ہے، اور یہی چیز تشدد اور دہشت گردی کو فروغ دے رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ انگریزی ایک قاتل زبان کے روپ میں سامنے آئی ہے جو دنیا کی دوسری زبانوں کی آوازوں کو خاموش کر رہی ہے۔

Image caption انگریزی قاتل زبان کے روپ میں سامنے آ رہی ہے جو دوسری زبانوں کو خاموش کرنے کی کوشش کر رہی ہے: ناصر عباس نیئر

انھوں نے کہا کہ جان و مال و آبرو کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ثقافت کا تحفظ بھی ہر انسان کا بنیادی حق ہے، جسے عالمگریت کی آڑ میں چھینا جا رہا ہے۔

’میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے: اردو شاعری میں رواداری اور تکثیریت‘ کے نام سے ایک مباحثے میں حارث خلیق، فہمیدہ ریاض اور انڈیا سے آئے ہوئے ڈاکٹر سیف محمود نے شرکت کی۔ فہمیدہ ریاض نے سودا، میر، اقبال، اور دوسرے شاعروں کے حوالے دے کر واضح کیا کہ اردو شاعر دوسرے مذاہب اور مکبتہ ہائے فکر کے لیے برداشت اور محبت کے جذبات رکھتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اقبال نے اپنی نظم شوالا میں رام کو ’امامِ ہند‘ کہا ہے، اور ساتھ ہی سودا کا یہ شعر بھی نقل کیا:

توڑ کر بت خانے کو مسجد بنا دی تو نے شیخ برہمن کے دل کی بھی تعمیر کی کچھ فکر ہے؟

آخری روز ڈیڑھ درجن کے قریب جو دوسرے سیشن منعقد کیے گئے ان میں فاطمہ ثریا بجیا کی یاد میں ایک سیشن کے علاوہ مستنصر حسین تارڑ کے ساتھ منعقد کردہ ایک نشست خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔

مجموعی طور پر یہ میلہ خاصا کامیاب رہا اور اسے اسلام آباد کے جمود زدہ ماحول میں تازہ ہوا کا جھونکا قرار دیا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں