’نصابی کتب میں تبدیلی کا خیال بھی اختلافات کا موجب‘

Image caption آپ انھیں نصاب میں اخلاقیات کی بھر پور تعلیم دے رہے ہیں اور ساتھ ساتھ نئی نسل کے بارے میں یہ شکوہ بھی ہے کہ وہ اخلاقی گراوٹ کا شکار ہے تو پھر سوچنے والی بات ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے: ناصر عباس نیر

پاکستان کے نصاب میں شامل اردو کی کتابوں میں ادب کے ساتھ ساتھ تاریخ، اسلامی نظریات اور نظریہ پاکستان سب شامل ہیں اوراب اردو کی کتابیں اتنی مقدس حیثیت اختیار کر چکی ہیں کہ اُن میں ردوبدل کی کوشش بھی اختلافات کا باعث بن جاتی ہے۔

یہ بات اردو کے صفِ اول کے تنقید نگار ناصرعباس نیّر نے اسلام آباد کے ادبی میلے کی نشت کے دوران کہی۔

اسلام آباد میں تین روز تک جاری رہنے والے ادبی میلے کے آخری روز دیگر دلچسپ موضوعات کے ساتھ ساتھ ’پاکستانی سکولوں اور کالجوں کے نصاب میں شامل اردو ادب کی حالت‘ کے عنوان سے ایک موضوع بھی زیرِ بحث آیا۔

اس نشست کے مقررین میں ڈاکٹر ناصر عباس نیر، پروفیسر قاسم یعقوب، اور بی بی سی اردو سے وابستہ صحافی و ادیب ظفر سید شامل تھے۔

گفتگو کے بیشتر حصے میں نصاب میں ریاستی نظریے کا کردار اور اس میں شامل دیگر مذاہب کے خلاف نفرت انگیر مواد زیرِ بحث رہا۔ مقررین کا خیال تھا کہ طلبہ کے ذہنوں میں دیگر قوموں اور مذاہب سے نفرت پیدا کرنے کا کام اسلامیات اور مطالعہ پاکستان کی کتابوں سے زیادہ نصاب میں شامل اردو کی کتابیں کرتی ہیں۔

ناصر عباس نیر نے نصاب کی تشکیل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’نصاب میں شامل ہر مضمون کے آخر میں دیے گئے سوال طلبہ کی یادداشت اور مضمون میں موجود معلومات سے متعلق ہوتے ہیں، جبکہ ان مضامین، افسانوں اور شاعری سے طلبہ کے تخیل کو پرواز ملنی چاہیے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ’نصاب کی تشکیل کسی فردِ واحد کا کام نہیں ہوا کرتی بلکہ اس میں قومی تعلیمی پالیسی کا بڑا ہاتھ ہے، اس لیے اسے تشکیل دینے والے بھی مجبور ہوتے ہیں کہ وہ اس کو مدِ نظر رکھیں۔‘

قاسم یعقوب کا خیال تھا کہ ’نصاب میں شامل مضامین بہت ہی بنیادی حیثیت رکھتے ہیں اورجب تک کوئی چیز پوری جُزیات کے ساتھ مضمون میں نہ ہو تو استاد کس حد تک صحیح طریقے سے پڑھا سکتا ہے۔‘ انھوں نے نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ ’انٹرمیڈیٹ سے آگے کی جماعتوں کے نصاب کا بھی یہی حال ہے جہاں منٹو کے افسانے’کھول دو‘ کے آخری حصے کو خوبصورتی کے ساتھ نکال دیا گیا حالانکہ اُسی میں پورے افسانے کا لُب لباب موجود ہے۔‘

انھوں نےکہا کہ ’پاکستان کے اردو نصاب سے طالب علموں میں موجود فن کی حِسیت کو سمجھنے اور اسے اُبھارنے پر غور نہیں کیا جاتا۔‘

انھوں نے فرمان فتح پوری کی کتاب ’تدریس اردو‘ میں بیان کیے گئے 15 مقاصد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں ملکی سالمیت سے لے مذہب سب شامل ہے لیکن تنقیدی فکرپیدا کرنےجیسا بنیادی مقصد غائب ہے۔‘

صحافی و ادیب ظفر سید نے کہا کہ یہ بات دیکھنا بھی بہت ضروری ہے کہ معاشرہ ادب کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔

انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کے ایک دور افتادہ علاقے میں اردو کے ایک استاد نے گیارہویں جماعت کی طالبات کو جب نصاب میں شامل میر تقی میر کی غزل ’نازکی اُس کے لب کی کیا کہیے‘ پڑھائی تو اگلے دن لڑکیوں کے والدین شکایت لے کر آ گئے کہ ہماری بچیوں کو یہ کیا پڑھایا جا رہا ہے۔ معاملہ پرنسپل کے پاس پہنچا اور اس نے اردو کے استاتذہ کو بلا کر کہا کہ آئندہ سے عشق و محبت کے تمام اشعار کو تصوف کا رنگ دے دیا جائے۔‘

ایک سوال کے جواب میں ظفرسید نے دیگر صوبوں سے خیبر پختونخوا کے نصاب کا موازنہ کرتے ہوئے بتایا کہ ’دوسرے صوبوں کی نسبت وہاں صورت حال بظاہر نسبتاً خوش آئند ہے کیونکہ وہاں کے اردو نصاب میں ن م راشد، منیر نیازی اور وزیر آغا جیسے شعرا کو بھی جگہ دی گئی ہے۔ لیکن جب غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ن م راشد کی وہ نظم شامل کی گئی ہے جس سے شاعر کا بالکل مختلف تاثر برآمد ہوتا ہے کیوں کہ ان کی جو نظم ان کے بالکل ابتدائی دور کا ایک سانیٹ ہے۔ یہ ایسی شاعری ہے جسے خود راشد نے بعد میں مسترد کر دیا تھا۔ یہی حال میرا جی کا بھی ہے۔‘

ظفر سید نے کہا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ اردو مطالعۂ پاکستان ہی کی توسیع ہے اور اس میں صرف وہی چیزیں شامل کی جاتی ہیں جو قومی پالیسی کی ترجمانی کرتی ہوں۔‘

ناصر عباس نیرکا مؤقف تھا کہ ’اردو کےنصاب میں اطاعت گزاری کے پند و نصائح کی بجائے طلبہ میں قوتِ فیصلہ اور سوچنے کی طاقت کو اُبھارنے والے مضامین شامل کیے جانے چاہییں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ’آپ انہیں نصاب میں اخلاقیات کی بھر پورتعلیم دے رہے ہیں اور ساتھ ساتھ نئی نسل کے بارے میں یہ شکوہ بھی ہے کہ وہ اخلاقی گراوٹ کا شکار ہے تو پھر سوچنے والی بات ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟‘

اس موقع پر ہال میں عبدالحمید نیر بھی موجود تھے جن کا پاکستانی نصاب پر نظرِ ثانی اور اس میں تبدیلیاں لانے میں بڑا ہاتھ رہا ہے۔

انھوں نے گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان میں اول سے آٹھویں جماعت کے طالبعلموں کو نصاب میں اردو سکھائی جاتی ہے تاہم بعد میں انھیں ادب پڑھایا جاتا ہے، البتہ اس بات کا خیال رکھا جانا چاہیے کہ کس درجے کے طالبِ علم کو کس درجے کی زبان پڑھائی جانی چاہیے۔‘

اسی بارے میں