’باضابطہ دعوت ملی ہی نہیں تو ہٹایا کیسے جا سکتا ہوں‘

انڈین فلم انڈسٹری بالی وڈ کے مشہور اداکار امیتابھ بچن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہیں باضابطہ طور پر ’ناقابل یقین بھارت‘ کا برانڈ سفیر بننے کی کبھی بھی دعوت نہیں دی گئی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا پر ان کے ’ناقابل یقین بھارت‘ کے برانڈ سفیر کے عہدے سے ہٹائے جانے کی بات درست نہیں ہے۔

’آف شور کمپنیوں سے میرا کوئی تعلق نہیں‘

پاناما پیپرز کے معاملے میں امیتابھ کا نام سامنے آنے کے بعد سے میڈیا میں مسلسل خبریں آ رہی تھیں کہ انہیں ’ناقابل یقین بھارت‘ کا برانڈ سفیر بنانے کا فیصلہ مرکزی حکومت نے فی الحال ٹال دیا ہے۔

پاناما لیکس پر امیتابھ نے کہا ’میں کہنا چاہتا ہوں کہ میڈیا اب بھی مجھ سے اس معاملے میں سوال پوچھ رہی ہے۔ میں ان سے شائستہ طور سے درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ وہ یہ سوال حکومت ہند سے پوچھیں جہاں قانون پر عمل کرنے والے ایک شہری کے طور پر میں نے اپنی بات رکھ دی ہے اور آگے بھی رکھوں گا۔‘

امیتابھ نے مزید کہا ’میں اپنے پرانے بیان پر قائم ہوں کہ اس معاملے میں میرے نام کا غلط استعمال ہوا ہے۔‘

یاد رہے کہ پاناما پیپرز کے منظر عام پر آنے کے بعد امیتابھ بچن نے کہا تھا کہ ان کا ’آف شور‘ کمپنیوں سے کسی بھی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

انڈین ایکسپریس کے مطابق امیتابھ بچن کو سنہ 1993 میں کم از کم چار آف شور کمپنیوں کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا تھا جو کہ برٹش ورجن آئی لینڈ اور بہاماز میں رجسٹرڈ ہیں۔

اخبار کا دعویٰ تھا کہ پاناما کی لا فرم موساک فونسیکا سے ملنے والی خفیہ دستاویزات کے مطابق ان کے علاوہ بالی وڈ اداکارہ ایشوریہ رائے اور ديگر 500 انڈین آف شور کمپنیوں سے منسلک رہے ہیں۔

ایشوریہ رائے کے میڈیا مشیر نے بھی ان دستاویزات کی صداقت پر سوال اٹھایاہے۔

انڈین ایکسپریس نے کہا ہے کہ امیتابھ بچن نے ان سوالات کے جواب نہیں دیے لیکن گذشتہ روز منگل کو انھوں نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کسی قسم کی شمولیت سے انکار کیا ہے۔

اسی بارے میں