مصر کے مصنفین امید اور خوف کی کیفیت میں

Image caption مصر میں گذشتہ دو سال کے دوران حکام نے مصنفین اور فنکاروں کو جیل بھجوانے اور ثقافتی مراکز کو بند کرنے کے علاوہ بہت سے ایونٹس کو منسوخ بھی کیا ہے

اگر مصر کی تہذیبی اشرافیہ کو امید تھی کہ سنہ 2013 میں سابق صدر محمد مرسی کی حکومت کے خاتمے کے بعد ملک میں تخلیق اور آزادی کا ایک نیا دور شروع ہو گا تو انھیں یقیناً مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہو گا۔

مصر میں گذشتہ دو سال کے دوران حکام نے مصنفین اور فنکاروں کو جیل بھجوانے اور ثقافتی مراکز کو بند کرنے کے علاوہ بہت سے ایونٹس کو منسوخ بھی کیا ہے۔

مصر کے متعدد مصنفین، روشن خیال افراد اور فنکاروں نے سابق صدر کی حکومت کے خلاف ہونے والے احتجاج کی حمایت کی تھی اور اس کے نتیجے میں فوج نے ان کی حکومت معزول کر دی تھی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ’ناشائستہ رقص‘ اور ’توہینِ مذہب‘ جیسے الزامات اس بات کا اشارہ ہیں کہ صدر عبدالفتح السیسی کی حکومت ’عوامی اخلاق کے محافظ‘ کے طور پر کام کرنا چاہتی ہے جیسے سابق صدر محمد مرسی کی حکومت میں ہوتا تھا۔

بی بی سی نے مصر کی وزارتِ ثقافت سے اس سلسلے میں بات کی، تاہم وزارت نے انفرادی مقدمات پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے صرف اتنا کہا: ’وزارت تخلیقی صلاحیت کو بچانے کے لیے قانون میں مجوزہ تبدیلی لانے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔‘

Image caption مصنف احمد ناجی کو فروری میں ’عوامی شائستگی‘ کی مخالفت کرنے پر دو برس کے لیے صرف اس لیے جیل بھیج دیا گیا کیونکہ ان کے ناول ’دی یوز آف لائف‘ کا کچھ ’فحش مواد‘ سرکاری ادبی میگزین ’اخبار الادب‘ میں شائع ہو گیا تھا

مصنف احمد ناجی کو فروری میں ’عوامی شائستگی‘ کی مخالفت کرنے پر دو برس کے لیے صرف اس لیے جیل بھیج دیا گیا کیونکہ ان کے ناول ’دی یوز آف لائف‘ کا کچھ ’فحش مواد‘ سرکاری ادبی میگزین ’اخبار الادب‘ میں شائع ہو گیا تھا۔

مصنف احمد ناجی کے وکیل محمود عثمان نے بی بی سی کو بتایا کہ موجودہ حکومت سابق اسلامی حکومت کو اقتدار سے ہٹانے کے بعد سخت رویہ اختیار کر کے ثابت کرنا چاہتی ہے کہ وہ مذہب یا اخلاقیات کے خلاف نہیں ہے۔

محمود عثمان ایک مقامی تنظیم کے ساتھ وابستہ ہیں جو آزاد سوچ اور اظہار کی حمایت کرتی ہے۔ انھوں نے ’ناشائستگی‘ کی قانونی تعریف کو مبہم اور لچک دار قرار دیا۔

دوسری جانب مصنف احمد ناجی کے خلاف مقدمے کے وکیل سامر سامبرے کی خواہش ہے کہ عدالت ’انھیں سخت سزا دے۔‘

ان کا کہنا تھا: ’میں مصنف احمد ناجی کے ناول کو آرٹ کا نمونہ قرار دینے والے ان لوگوں کو چیلنج کرتا ہوں کہ اگر ان میں ہمت ہے تو وہ اپنی بیگمات یا بیٹیوں کو اس ناول کا ایک نسخہ پڑھنے کے لیے دیں۔ یہ ناول رویوں کے ہر معیار کا انحطاط ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر اظہار کی آزادی اپنی حدود پار کر لے تو یہ فحاشی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

Image caption فاطمہ نوت کو جنوری میں عیدالضحیٰ کے موقع پر قربانی کے عمل کو ’قتلِ عام‘ قرار دینے توہینِ مذہب کے تحت تین برس کی قید سنائی گئی تھی

مصر کی ایک نمایاں سیکیولر ادیبہ اور شاعرہ فاطمہ نوت کو اس بات کی امید نہیں تھی کہ فیس بک پر ان کی پوسٹ کی وجہ سے انھیں مجرم قرار دیا جائے گا۔

فاطمہ نوت کو جنوری میں عیدالضحیٰ کے موقعے پر جانوروں کو قربان کرنے کے عمل کو ’قتلِ عام‘ قرار دینے پر توہینِ مذہب کے الزام کے تحت تین برس کی قید سنائی گئی تھی۔

مصر کی ایک دوسری عدالت نے بھی فاطمہ توت کو دی جانے والے سزا کو برقرار رکھا تھا۔

فاطمہ نوت موجودہ حکومت کی حامی ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ حقیقت میں صدر عبدالفتح السیسی کی روشن خیال کے تصور میں تضاد ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مصر کی ثقافتی برادری اور مصنفین امید اور خوف کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔

خیال رہے کہ کچھ مسلمان قدامت پسندوں نے فاطمہ نوت کو دی جانے والی سزا کی حمایت کی تھی۔

قاہرہ کی جامعہ الاظہر میں فلسفے اور مذہب کے پروفیسر فواد عبدالمنعم نے الغادی العربی ٹی وی کو بتایا: ’ایسے تمام افراد جنھوں نے معاشرے کو بغاوت پر اکسانے، خاص پر مذہب سے متعلق بات کی وہ قانون شکن ہیں۔ جو کچھ فاطمہ نوت نے کہا وہ نامناسب تھا اور انھوں نے اس بات پر معافی مانگنے کی زحمت تک نہیں کی۔‘

انسانی حقوق سے متعلق ایک محقق اسحٰق ابراہیم کے مطابق مصری حکام نے سنہ 2015 میں توہینِ مذہب کے الزام کا کثرت سے استعمال کیا۔

حکام کی جانب سے فن و ثقافت کے خلاف کیے جانے والے اقدامات میں ثقافتی مراکز اور فن کے ایونٹس پر پابندی لگانا بھی شامل ہے۔

Image caption مصر کے ’انتظامی اہلکاروں‘ نے دسمبر میں ٹاؤن ہاؤس نامی آرٹ گیلری پر دھاوا بول دیا جو قاہرہ میں گذشتہ 18 سالوں سے کام کر رہی تھی

مصر کے ’انتظامی اہلکاروں‘ نے دسمبر میں ٹاؤن ہاؤس نامی آرٹ گیلری پر دھاوا بول دیا جو قاہرہ میں گذشتہ 18 سالوں سے کام کر رہی تھی۔

ٹاؤن ہاؤس کے مینیجر یاسر جراب کے مطابق مصری اہلکاروں نے ان کے عملے کو بتایا کہ اگرچہ انھوں نے ’کوئی خلاف ورزی‘ نہیں کی اس کے باوجود ان کے مرکز کو بند کیا جا رہا ہے۔‘

ٹاؤن ہاؤس سے منسلک ایک دوسرے تھیئٹر روابط کو بھی بند کر دیا گیا۔

مصر میں سنہ 2014 میں ایک آرٹ فیسٹیول کو سکیورٹی پرمٹ دینے سے انکار کر دیا گیا۔

یہ ایونٹ مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کی حکومت کا سنہ 2011 میں تختہ الٹ جانے کے بعد شروع کیا گیا تھا اور اس کا مقصد سٹریٹ آرٹس کی بحالی تھی جو بغاوت کے دوران ختم ہو گیا تھا۔

Image caption مصر میں سنہ 2015 میں ملک کی دو مشہور بیلے رقاصاؤں کو ’فحاشی اور عیاشی‘ پھیلانے کے الزام میں تین ماہ کی قید کی سزا سنائی گئی

اس ایونٹ کے آرگنائزر اور شاعر زین العابدین کا کہنا ہے کہ سکیورٹی ایحنسیاں لوگوں کے اکٹھا ہونے کی وجہ سے خوفزدہ ہیں یہاں تک کہ انھیں پر امن اور تفریح کا باعث بننے والے اجتماع سے بھی خوف آتا تھا۔

مصر میں سنہ 2015 میں ملک کی دو مشہور بیلے رقاصاؤں باردیس اور شکیرا کو ’فحاشی اور عیاشی‘ پھیلانے کے الزام میں تین ماہ کی قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

ایک تنظیم دفتر احوال کے مطابق سنہ 2015 میں ’رقص کے ذریعے فحاشی‘ پھیلانے کے جرم میں 59 مقدمات چلائے گئے جبکہ ’ادب اور آرٹس ورکس‘ کے ذریعے ’قابلِ اعتراض‘ مواد کے خلاف دس مقدمات چلائے گئے۔ ان اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

اسی بارے میں