پوسٹ مارٹم رپورٹ: ’پرنس نے خودکشی نہیں کی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکی ریاست مینیسوٹا کے پولیس سربراہ نے مایہ ناز گلوکار پرنس کے پوسٹ مارٹم کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے شواہد نہیں ملے کہ سپر سٹار نے خودکشی کی ہو۔

شیرف جم اولسن نے کہا کہ ان کے جسم پر کسی قسم کے نشان نہیں تھے۔

مشہور اور مایہ ناز گلوکار پرنس امریکی شہر مینیسوٹا میں انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی عمر 57 برس تھی۔

٭ پاپ سٹار پرنس کی اوباما کے لیے خفیہ پرفارمنس

امریکی میڈیا کے مطابق پولیس کو جمعرات کو پیزلی پارک میں واقع ان کی رہائش گاہ پر بلایا گیا جہاں ان کی لاش لفٹ میں ملی۔

پولیس سربراہ نے کہا کہ پوسٹ مارٹم کی مکمل رپورٹ آنے میں کئی ماہ لگ جائیں گے اور ابھی بھی تحقیقات جاری ہیں۔

جم اولسن نے کہا کہ جس وقت پرنس کی موت واقع ہوئی ہے اس وقت گھر پر کوئی نہیں تھا اور یہ کوئی غیرمعمولی بات نہیں ہے۔

ان کے مھابق پرنس کو آخری بار مقامی وقت کے مطابق شام آٹھ بجے دیکھا گیا تھا۔ ان کے مکان پر کام کرنے والوں کو پرنس شام ساڑھے نو بجے بیہوش حالت میں پڑے ملے۔

جم اولسن نے کہا کہ پولیس پرنس کے اہل خانہ کے ساتھ رابطے میں ہے۔

پرنس 1980 کی دہائی میں اس وقت سپر سٹار بنے جب ان کی البمز 1999، پرپل رین اور سائن او دا ٹائمز بے انتہا مقبول ہوئیں۔

گلوکار، نغمہ نگار اور کئی ساز بجانے کی صلاحیت رکھنے والے پرنس نے 30 سے زیادہ البمز ریکارڈ کرائیں اور اپنے کریئر میں ان کے گانوں کی دس کروڑ سے زیادہ کاپیاں فروخت ہوئیں۔

پرنس نے تقریباً اپنا ہر مشہور گانا خود لکھا، کمپوز کیا، پروڈیوس کیا اور گایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

ان کی سب سے مشہور البمز میں لیٹس گو کریزی اور وین ڈوز ڈائی (When Doves Die) شامل ہیں۔

انھیں سنہ 2004 میں راک اینڈ رول کے ہال آف فیم میں شامل کیا گیا تھا۔

دنیا بھر سے اہم شخصیات نے پرنس کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔

امریکی صدر اوباما نے ان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک اعلیٰ اہل ہنر، ساز بجانے والے، بینڈ کے شاندار بانی اور ایک دل فریب فنکار تھے۔ گلوکار مک جیگر کا کہنا تھا کہ پرنس لامحدود ہنر کے مالک تھے۔

پرنس کے انتقال پر سوشل میڈیا پر تعزیتی پیغامات آ رہے ہیں اور مداح ان کے مکان کے قریب پیزلی پارک میں جمع ہو رہے ہیں۔

ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ سٹوڈیو میں ان کو روکنا مشکل تھا لیکن ان کا اصل جادو سٹیج پر سامنے آتا تھا۔

اسی بارے میں