پرنس کی آخری رسومات ادا کر دی گئیں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

عالمی شہرت یافتہ نغمہ نگار و گلوکار پرنس کی آخری رسومات ایک سادہ اور غیر عوامی تقریب میں ادا کر دی گئی ہیں اور ان کی میت کو جلا دیا گیا ہے۔

اس بات کی تصدیق پرنس کی اشتہاری ایجنٹ نے کی اور ان کا کہنا تھا کہ آخری رسومات کی اس نجی تقریب میں پرنس کے خاندان کے افراد، دوستوں اور موسیقاروں نے شرکت کی۔

پاپ سٹار پرنس کی اوباما کے لیے خفیہ پرفارمنس

واضح رہے کہ پرنس کی موت کا سبب ابھی تک معلوم نہیں ہوا ہے اور جمعے کو ان کی میت کے جو ٹیسٹ لیے گئے تھے، ان کے نتائج سامنے آنے میں کم از کم چار ہفتے لگ سکتے ہیں۔

موسیقی کی دنیا کی مشہور شخصیت، 57 سالہ پرنس کو گذشتہ جمعرات کو امریکی ریاست منیسوٹا کے شہر منی اوپلیس میں ان کی جاگیر پر ایک لفٹ میں مردہ پایا گیا تھا۔

ان کی موت کی خبر آنے کے بعد سے ان کے سینکڑوں مداح پیزلی پارک کی سٹیٹ پر آ کر اپنے محبوب فنکار کو خراج عقدیت پیش کر رہے ہیں۔

پرنس کی موت کے بعد ان کی اشتہاری ایجنٹ اینا میچم نے بتایا تھا کہ ان کے ’آخری مقام‘ کو خفیہ رکھا جائے۔

سنیچر کو رات گئے اینا میچم نے بتایا کہ ’اب سے چند گھنٹے پہلے پرنس کے انتہائی ان کے پیارے خاندان والوں، احباب اور موسیقاروں نے ایک نجی اور خوبصورت تقریب میں پرنس کو محبت بھرا خدا حافظ کہا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جن افراد نے آخری رسومات میں شرکت کی ان میں ان کی پرکشنسٹ شیلا، بیس گٹارسٹ لیری گراہم اور پرنس کی بہن ٹائکا نیلسن شامل تھے۔

اس سے قبل جمعے کو ریاست مینیسوٹا کے پولیس سربراہ نے پرنس کے پوسٹ مارٹم کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسے شواہد نہیں ملے کہ سپر سٹار نے خودکشی کی ہو۔

شیرف جم اولسن نے کہا تھا کہ ان کے جسم پر کسی قسم کے نشان نہیں تھے۔

پولیس سربراہ نے کہا تھا کہ پوسٹ مارٹم کی مکمل رپورٹ آنے میں کئی ماہ لگ جائیں گے اور اب بھی تحقیقات جاری ہیں۔

جم اولسن نکا کہنا تھا کہ جس وقت پرنس کی موت واقع ہوئی ہے اس وقت گھر پر کوئی نہیں تھا اور یہ کوئی غیرمعمولی بات نہیں ہے۔

ان کے مطابق پرنس کو آخری بار مقامی وقت کے مطابق شام آٹھ بجے دیکھا گیا تھا۔ ان کے مکان پر کام کرنے والوں کو پرنس شام ساڑھے نو بجے بیہوش حالت میں پڑے ملے۔

پرنس 1980 کی دہائی میں اس وقت سپر سٹار بنے جب ان کی البمز 1999، پرپل رین اور سائن او دا ٹائمز بے انتہا مقبول ہوئیں۔

گلوکار، نغمہ نگار اور کئی ساز بجانے کی صلاحیت رکھنے والے پرنس نے 30 سے زیادہ البمز ریکارڈ کرائیں اور اپنے کریئر میں ان کے گانوں کی دس کروڑ سے زیادہ کاپیاں فروخت ہوئیں۔

پرنس نے تقریباً اپنا ہر مشہور گانا خود لکھا، کمپوز کیا، پروڈیوس کیا اور گایا۔

ان کی سب سے مشہور البمز میں لیٹس گو کریزی اور وین ڈوز ڈائی (When Doves Die) شامل ہیں۔

انھیں سنہ 2004 میں راک اینڈ رول کے ہال آف فیم میں شامل کیا گیا تھا۔

دنیا بھر سے اہم شخصیات نے پرنس کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔

امریکی صدر اوباما نے ان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک اعلیٰ اہل ہنر، ساز بجانے والے، بینڈ کے شاندار بانی اور ایک دل فریب فنکار تھے۔ گلوکار مک جیگر کا کہنا تھا کہ پرنس لامحدود ہنر کے مالک تھے۔

پرنس کے انتقال پر سوشل میڈیا پر تعزیتی پیغامات آ رہے ہیں اور مداح ان کے مکان کے قریب پیزلی پارک میں جمع ہو رہے ہیں۔

ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ سٹوڈیو میں ان کو روکنا مشکل تھا لیکن ان کا اصل جادو سٹیج پر سامنے آتا تھا۔

اسی بارے میں