’سی ایم‘ کا جملہ تو حذف مگر ’مالک‘ پر ملک بھر میں پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ MAALIK

پاکستان کی وفاقی حکومت نے پاکستانی فلم ’مالک‘ کو دیا گیا سینسر سرٹیفیکیٹ منسوخ کرتے ہوئے ملک بھر میں اس کی نمائش پر پابندی لگا دی ہے۔

اس بات کا اعلان بدھ کی شام وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے کیا گیا۔

وزارت کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ موشن پکچرز آرڈیننس 1979 کے سیکشن 9 کے تحت حاصل اختیارات کی بنیاد پر فلم کا سینسر سرٹیفیکیٹ واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس فلم پر ملک بھر میں پابندی عائد کی جاتی ہے۔

تاہم نوٹیفکیشن میں فلم پر پابندی کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔

سابق اداکار اور کسٹم گروپ کے سابق افسر عاشر عظیم کی اس فلم کو تقریباً تین ہفتے قبل نمائش کے لیے پیش کیا گیا تھا۔

تاہم منگل کو حکومت سندھ کے سینسر بورڈ نےاس فلم پر ایک قابلِ اعتراض جملے کی وجہ سے پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا تھا جسے کچھ گھنٹے بعد ہی واپس لے لیا گیا تھا۔

اس سلسلے میں کراچی میں سندھ بورڈ آف فلمز سینسر کے سیکریٹری عبدالرزاق کھاوڑ نے بی بی سی کے ریاض سہیل کو بتایا تھا کہ ’فلم میں ایک کردار کہتا ہے کہ ’’سائیں میں تو سی ایم صاحب کا خاص بندہ ہوں،‘‘ اس جملے کو حذف کرنے کے لیے فلم نے کمپنی کو خط بھی جاری کیا تھا اور کمپنی نے تحریری طور پر یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ یہ جملے حذف کیے جائیں گے۔‘

انھوں نے بتایا کہ جب سینسر بورڈ کے پینل نے اس میں ’سی ایم‘ لفظ کے استعمال پر اعتراض کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ MAALIK

سیکریٹری عبدالرزاق کھاڑو نے بتایا کہ بورڈ نے جب دوبارہ یہ فلم دیکھی تو اس میں یہ ’توہین آمیز جملے‘ موجود تھے۔

یہ جاننے کے بعد سندھ موشن فلم ایکٹ 2011 کے تحت اس کی نمائش پر پابندی لگائی گئی۔

ان کے بقول بعد میں معاملہ اعلیٰ سطح پر اُٹھایا گیا اور فلم بنانے والی کمپنی نے جملے نکال دیے جس کے بعد پابندی ہٹا دی گئی۔

سینسر بورڈ حکام کا کہنا ہے کہ جب لفظ ’سی ایم سائیں‘ استعمال کیا جاتا ہے تو یہ سمجھنا آسان ہے کہ کس زمرے میں بات کی جا رہی ہے۔

اس فلم پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی جاتی رہی ہے جس میں کرداروں کے گھسے پٹے ہونے اور مختلف قومیتوں کو مخصوص انداز میں دکھانے پر اعتراضات شامل ہیں۔

پیپلز پارٹی کی رہنما اور وزیراعلیٰ سندھ کی بیٹی نفیسہ شاہ نے ٹویٹ کی کہ ’مالک بدنیتی سے بنائی گئی فلم ہے جو پاکستان کو تقسیم کرتی اور قومی اتحاد کو نقصان پہنچاتی ہے۔ فلمساز، فلم بنانے والے حتیٰ کہ سینسر بورڈ والے بھی محبِ وطن نہیں ہو سکتے۔‘

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما افراسیاب خٹک نے لکھا کہ ’فلم مالک نیشنل ایکشن پلان کے بالکل خلاف ہے۔ یہ دکھاتی ہے کہ ہمارا ریاستی نظام دہشت گردی اور شدت پسندی سے نمٹنے میں کتنا غیر سنجیدہ ہے۔‘

اسی بارے میں