’مالک‘ اور کلچرل ضربِ عضب

تصویر کے کاپی رائٹ FB Maalik

دفاعی اداروں کا فلمیں سپانسر کرنا یا لاجسٹک تعاون کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ سب ہی جانتے ہیں کہ ٹاپ گن، بلیک ہاک ڈاؤن اور ٹرانسفارمرز جیسی فلموں کو پینٹاگون نے لاجسٹک سپورٹ فراہم کی۔

آرگو اور ایبٹ آباد آپریشن پر مبنی زیرو ڈارک تھرٹی کی سکرپٹنگ امریکی سی آئی اے کے تعاون کے بغیر ممکن نہ تھی۔

جبکہ فلم سازوں کو یہ سہولت مل جاتی ہے کہ انھیں رعایتی قیمت پر وہ پروپس (فلم میں استعمال ہونی والی اشیا) میسر آ جاتے ہیں جو اگر پرائیویٹ سیکٹر سے مستعار لیے جائیں تو فلم کا بجٹ دوگنا ہو سکتا ہے مگر امریکی عسکری و سویلین اسٹیبلشمنٹ نے کبھی ایسی فلموں کو سپانسر نہیں کیا جن میں ملک کے داخلی سیاسی نظام پر تنقید کی گئی ہو۔

اس تناظر میں پاکستان کی مسلح افواج کے محکمۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے الفا براوو چارلی سمیت متعدد ٹی وی سیریلز اور ڈراموں کی سپانسر شپ یا لاجسٹک تعاون کوئی غیر معمولی بات نہیں بلکہ آئی ایس پی آر ایسی فیچر فلموں کی بھی مادی حوصلہ افزائی کرتا ہے جو قومی سلامتی کے عسکری نظریے کو آگے بڑھانے میں معاون ہوں۔ جیسے دو برس پہلے وار نامی فلم ریلیز ہوئی ۔موضوع دہشت گردی اور بیرونی جارحیت تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ MAALIK

اگر یہ نارمل بات ہے تو پھر تین ہفتے قبل ریلیز ہونے والی فیچر فلم ’مالک‘ متنازع کیوں ہو گئی؟

شاید اس لیے کہ طویل عرصے بعد کسی پاکستانی فیچر فلم کی نمائش روکی گئی۔ شاید یہ فلم بھی خاموشی سے اتر جاتی اگر سندھ فلم سینسر بورڈ اس کی نمائش کے صوبائی حقوق معطل کر کے انھیں تین چار گھنٹے میں ہی بحال نہ کرتا اور اگلے روز وفاقی فلم سینسر بورڈ ملکی سطح پر اس کی نمائش کا سرٹیفیکیٹ معطل نہ کرتا۔

سنہ 2011 تک پاکستان میں صرف وفاقی سطح پر سینسر بورڈ تھا۔ آئین میں 18 ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو بھی سینسر بورڈ بنانے کا اختیار مل گیا۔ چنانچہ سب سے پہلے سندھ فلم سینسر بورڈ وجود میں آیا اور پھر پنجاب میں بورڈ بنا۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں صوبائی سینسر بورڈ اب تک نہیں بن سکے۔

منطقی اعتبار سے جب سینسر کا اختیار صوبوں کو منتقل ہو گیا تو پھر وفاقی سینسر بورڈ کی ضرورت باقی نہیں رہنی چاہیے تھی۔ تاہم وفاق نے یہ منطق اختیار کی کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد نیز کنٹونمنٹ ایریاز میں فلموں کی نمائش صوبائی سینسر بورڈز کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں صوبائی سینسر بورڈز کی عدم موجودگی میں وہاں بھی فلموں کی نمائش کی اجازت کا اختیار وفاقی ادارے کے پاس ہے۔

بھارتی فلموں سمیت جو بھی غیر ملکی فلمیں پاکستان میں دکھائی جائیں گی انھیں نمائش سرٹیفکیٹ مرکزی سینسر بورڈ ہی جاری کر سکتا ہے۔

مگر یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ جن صوبوں کے اپنے سینسر بورڈز ہیں وہاں وفاقی سینسر بورڈ کسی فلم کی نمائش کس اختیار کے تحت روک سکتا ہے؟ جبکہ وفاقی سینسر بورڈ موشن پکچرز آرڈیننس مجریہ 1979 کے تحت اور صوبائی سینسر بورڈ موشن پکچرز ایکٹ مجریہ 2011 کے تحت کام کر رہے ہیں یعنی ایک ہی ملک میں سینسر کے دو قوانین؟

تصویر کے کاپی رائٹ Flim Malik

فلم ’مالک‘ کو وفاقی سینسر بورڈ نے تقریباً ایک ماہ قبل نمائش کے لیے جائز قرار دیا۔ سرکردہ صحافی مطیع اللہ جان کہتے ہیں کہ سینسر بورڈ کے اجلاسوں میں کورم کی پابندی نہیں چنانچہ مرکزی سینسر بورڈ کے 20 میں سے پانچ ارکان کو ’مالک‘ کے ریویو کے لیے مدعو کیا گیا۔ ان میں آئی ایس پی آر کے کرنل رینک کے ایک نمائندے، آئی ایس آئی کا نمائندہ اور تین سویلین ممبر شامل تھے۔ انھوں نے اس فلم کو نمائش کے لیے کلیئر کردیا۔

اسی طرح سندھ فلم سینسر بورڈ کے 11 میں سے چار ارکان نے یہ فلم دیکھی اور اسے صوبے میں نمائش کے لیے فٹ قرار دیا۔

جب ہر خاص و عام نے یہ فلم دیکھ لی تو اچانک تین ہفتے بعد سندھ سینسر بورڈ کو خیال آیا کہ جن جن مناظر میں ’چیف منسٹر‘ کے لفظ پر اعتراض کیا گیا تھا وہ ڈائریکٹر نے کاٹے ہی نہیں۔

بورڈ کے سربراہ فخرِ عالم کے بقول جب یہ پتہ چلا کہ یہ مناظر نہیں کاٹے گئے تو پھر ہم نے اس فلم کا سرٹیفکیٹ معطل کردیا مگر تین گھنٹے بعد اس لیے بحال کر دیا کیونکہ ڈائریکٹر نے ہماری شرط پوری کردی۔

بہرحال جب یہ فلم سندھ میں چند گھنٹے بعد پھر سے قانونی ہوگئی تو معاملہ ختم ہوجانا چاہیے تھا، مگر نہیں صاحب۔ اگلے روز اسلام آباد سے خبر آئی کہ وزارتِ اطلاعات نے ملک بھر میں ’مالک‘ کی نمائش پر پابندی لگا کے سینسر سرٹیفکیٹ منسوخ کردیا ہے۔

منسوخی کے 24 گھنٹے بعد وفاقی سینسر بورڈ کے چیئر مین مبشر حسن کی جانب سے یہ وضاحت جاری ہوئی کہ چونکہ اس فلم میں سیاست دانوں کی بحیثیت طبقہ کردار کشی کی گئی، تشدد کو ہوا دی گئی اور نسلی تعصب بھی جھلکتا ہے۔ نیز فلم کے خلاف ملک کے کونے کونے سے شکایات کا انبار لگ چکا ہے اور پشاور و مردان جیسے علاقوں میں تو اتنا اشتعال ہے کہ سینما جلانے کی دھمکیاں مل رہی ہیں لہذا رفعِ شر کی خاطر اس فلم کی نمائش روکی جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Malik

مزے کی بات ہے کہ جب وفاقی سینسر بورڈ اس فلم کو نمائش کی اجازت دے رہا تھا تب اسے فلم کی ان خرابیوں کا ادراک نہیں ہوا۔فلم کی نمائش کے تین ہفتے میں کوئی سینما بھی نہیں جلا۔

نمائش پر پابندی کے اعلان کے اگلے روز خیبر پختونخواہ کے مشیرِ اطلاعات مشتاق غنی نے اعلان کیا کہ ان کی طرف سے مالک کی خیبر پختونخوا میں نمائش پر کوئی پابندی نہیں۔

غالباً مشتاق غنی کو کسی نے نہیں بتایا کہ بقول وفاقی سینسر بورڈ، مردان اور پشاور میں لوگ سینما ہاؤسز جلانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔البتہ مشتاق غنی کے بیان کے ردِ عمل میں مرکزی سینسر بورڈ نے ضرور انتباہ کیا کہ جو سینما بھی فلم دکھائے گا اس سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔

مگر وفاقی سینسر بورڈ کے فیصلے کے بعد کیا حکومتِ سندھ 18 ویں آئینی ترمیم کے تحت حاصل اختیار کی روشنی میں یہ فیصلہ ماننے سے انکار کر سکتی ہے؟ اس بارے میں حکومتِ سندھ کے اہلکار کہتے ہیں ’ہاں، دیکھیے، بات دراصل یہ ہے ، چونکہ، چنانچہ، وغیرہ۔‘

مالک کی کہانی کا لبِ لباب یہ ہے کہ سیاستدان نااہل، کرپٹ اور عیاش ہیں۔ ایک پرائیویٹ سیکورٹی کمپنی کا مالک ریٹائرڈ ایس ایس جی کمانڈو عوام دوست ہے اور ابتر حالات دیکھ کر اس کا دل کڑھتا ہے اور وہ حکومت کے متوازی ایک خفیہ نیٹ ورک کے ذریعے عوام کی مدد کرنا چاہتا ہے۔ حسنِ اتفاق سے اس کی کمپنی کو کرپٹ چیف منسٹر کی حفاظت کا کنٹریکٹ ملتا ہے۔

فلم کے ایک منظر میں ایک افغان کردار اپنی ہم قوم لڑکی کے ریپ کا بدلہ لینے کے لیے چیف منسٹر پر حملہ کرتا ہے۔ سابق کمانڈو کو بطور باڈی گارڈ چیف منسٹر پر حملہ آور افغان کو مجبوراً گولی مارنا پڑتی ہے مگر پھر باڈی گارڈ کرپٹ عیاش چیف منسٹر کو بھی گولی مار دیتا ہے۔گویا حالات ایک پروفیشنل اور وفادار باڈی گارڈ کو بھی انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کر سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ maalik movie facebook

اب آتے ہیں آئی ایس پی آر کے تعاون کی جانب۔ فلم کے پروڈیوسر عاشر عظیم کے بقول آئی ایس پی آر نے صرف لاجسٹک سپورٹ فراہم کی ہے کیونکہ اس فلم کا موضوع کرپشن ہے۔

لاجسٹک سپورٹ دینے سے پہلے آئی ایس پی آر نے یقیناً اطمینان ضرور کیا ہوگا کہ سکرپٹ میں کوئی ایسی بات نہ ہو جس سے سپانسر یا لاجسٹک سپورٹر کی شہرت کو نقصان پہنچے۔

آئی ایس پی آر نے یہ اطمینان بھی کیا ہوگا کہ فلم اچھائی اور برائی کے کردار بلیک اینڈ وائٹ کی طرح دکھا رہی ہے۔ چنانچہ ایک اچھے مقصد کے لیے بھاری اور ہلکے ہتھیاروں اور افرادی قوت کی شکل میں لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

آئی ایس پی آر کے رسالے ہلال میں فلم کا تعریفی ریویو بھی اسی تناظر میں ہے بلکہ فلم کا ٹائیٹل سانگ بھی بطور لاجسٹکل سپورٹ آئی ایس پی آر سے وابستہ ایک میجر صاحب نے لکھا۔

سب اپنے نظریے پاس رکھو

ہم اپنا نظریہ رکھتے ہیں۔

المختصر فلم مالک کے ساتھ جو ہوا وہ عجب طوائف الملوکی کی گجب کہانی ہے جس میں ہر ریاستی ادارہ اپنا ’مالک‘ خود ہے۔ پھر بھی نیشنل ایکشن پلان پر سب ایک ہیں سب نیک ہیں۔ یہ کہانی بذاتِ خود ایک بلاک بسٹر فلم کا مصالحہ ہے۔

(مالک پر پابندی کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔ یعنی کہانی ختم نہیں ہوئی دوست، ابھی تو شروع ہوئی ہے۔)

اسی بارے میں