’ایوارڈز بس ایک شام کی چمک دمک کا نام ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Spice Pr
Image caption منوج واجپئی اپنی آئندہ فلم ’ٹریفک‘ میں ٹریفک سارجنٹ کے کردار میں طرح نظر آئیں گے

سنجیدہ فلم ’علی گڑھ‘ میں ناظرین اور فلم ناقدین کی داد بٹورنے والے منوج واجپئی کو کسی بھی طرح کا ایوارڈ نہیں لبھاتا کیونکہ ان کے خیال میں بھارتی ایوارڈ سے نہ تو کسی فلم اور نہ ہی کسی فنکار کو کوئی فائدہ پہنچا ہے۔

اپنی آنے والی فلم ’ٹریفک‘ کے سلسلے میں بی بی سی سے بات چیت میں اداکار منوج واجپئی کا کہنا تھا کہ آسکر ایوارڈ سے فلم اور فلمساز دونوں کو فائدہ ہوتا ہے۔

’آسکر ملنے سے فلموں کو ریلیز ملتی ہے پر انڈیا میں ایوارڈ محض ایک رات کی چمک دمک کا نام ہے۔‘

انہوں نے کہا، ’ہمارے انڈیا کے ایوارڈ کچھ مختلف نہیں ہیں۔ ایوارڈ ملنے کے بعد نہ ہی ہمارا احساس بڑھتا ہے اور نہ ہی یہ ہمیں نئی فلم دلاتے ہیں۔‘

قومی ایوارڈ یافتہ منوج واجپئی قومی ایوارڈ کے بارے میں کہتے ہیں، ’قومی ایوارڈ سے بھی کچھ نہیں بدلتا ہے۔ میں آپ کو 25 ایسی فلموں کی مثال دے سکتا ہوں جنہیں قومی ایوارڈ ملنے کے باوجود ریلیز نہیں ملی۔¬

تصویر کے کاپی رائٹ Jitu Savlani
Image caption منوج واجپئی کا کہنا ہے کہ ایوارڈ ملنے کے بعد نہ ہی ہمارا احساس بڑھتا ہے اور نہ ہی یہ ہمیں نئی فلم دلاتے ہیں

منوج واجپئی کے بقول ’ایسے کئی اداکار ہیں جو قومی ایوارڈ ملنے کے باوجود ہندی فلم انڈسٹری سے غائب ہو گئے۔ وہیں اگر کسی فلم کو آسکر ملتا ہے تو اسے اچھی ریلیز ملتی ہے، فنکاروں کو کام ملتا ہے۔‘

منوج واجپئی اپنی آئندہ فلم ’ٹریفک‘ میں ٹریفک سارجنٹ کے کردار میں طرح نظر آئیں گے۔ لیکن منوج واجپئی کو اس کردار میں ڈھلنے کے لیے مشقت نہیں کرنی پڑی۔

وہ کہتے ہیں، ’میں کوئی سٹار کا بیٹا تو ہوں نہیں جو باندرہ سے باہر نہیں نکلا۔ میں نے بیلوا گاؤں سے ممبئی شہر تک کا سفر طے کیا ہے۔ میں عام لوگوں کے درمیان ہوں اور ایسے کرداروں سے نجی زندگی میں روبرو ہوا ہوں۔‘

اسی بارے میں