’ایوارڈز سے زیادہ نفسیاتی مدد کی ضرورت ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Tina Datta
Image caption ٹینا دتہ کہتی ہیں بڑے شہر میں جب آپ اکیلے رہ کر کام کر رہے ہوتے ہیں اور کریئر میں اتار چڑھاؤ آتے ہیں، تب خود کو سنبھالنا آسان نہیں ہوتا

شوبز کی دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کے باوجود کچھ ایسے حالات ہوتے ہیں جن کی وجہ سے فنکار خودکشی جیسے فعل سے بھی دریغ نہیں کرتے۔

تازہ واقعہ انڈین ٹیلی وژن اداکارہ پرتيشا بنرجی کی خود کشی کا تھا۔ ان سے پہلے پروین بوبی، دیویا بھارتی، گرو دت اور سلک سمیتا جیسی اور جیا خان سمیت کئی دوسرے فنکاروں نے بھی موت کو گلے لگایا۔

* ’ایوارڈز بس ایک شام کی چمک دمک کا نام ہیں‘

گلیمر کی چکاچوند کے پیچھے یہ اندھیرا شاید بہت سارے فنکاروں کو کبھی نہ کبھی، اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کرتا ہے لیکن کچھ لوگ ہیں جنہوں نے خود کو ایسے حالات میں سنبھالا ہے۔

بی بی سی ہندی نے ایسے کچھ فنکاروں سے بات کی جنھوں نے ایسے دور میں موت اور مایوسی کو شکست دی تھی۔

ٹینا دتہ

’اترن‘ سیریل کی ادکارہ ٹینا دتہ کہتی ہیں ’بڑے شہر میں جب آپ اکیلے رہ کر کام کر رہے ہوتے ہیں اور کریئر میں اتار چڑھاؤ آتے ہیں، تب خود کو سنبھالنا آسان نہیں ہوتا۔

’جب مجھے لگا کہ میں ڈپریشن کی طرف كھچی جا رہی ہوں، تب میں نے ہمیشہ ایسے دوستوں کے ساتھ وقت گزارا جو مثبت ہوں۔‘

ان کا کہنا تھا ’سب سے ضروری ہے ایسی سپورٹ کی جو آپ کے جذبات کو سمجھے اور آپ کا محرک رہے۔ زندگی میں جو بھی ہو اسے قبول کرنا چاہیے، ضروری نہیں کہ سب کچھ ویسا ہی ہو جیسا آپ نے چاہا ہے۔‘

امت کھنہ

تصویر کے کاپی رائٹ Amit Khanna
Image caption امن کھنے کہتے ہیں کہ ان کا کہنا تھا اگر میں صرف اپنے بارے میں سوچتا تو شاید کچھ غلط کر جاتا

بالی ووڈ اداکار گووندا کے بھانجے اور اداکارہ راگنی کھنہ کے بھائی امت کھنہ پانچ سال پہلے ٹی وی پر اپنی جگہ بنا چکے تھے۔

لیکن حالات کچھ ایسے ہوئے کی انھوں نے اداکاری چھوڑ کر ملازمت شروع کر دی۔ اب وہ پھر سے ٹی وی پر نظر آنے لگے ہیں۔

انھوں نے بتایا، ’ ایک ایسا وقت تھا، جب گھر میں پریشانیاں تھیں۔ والد صاحب کے پیسے ایک فلم میں ڈوب گئے، نانی کا انتقال ہو گیا۔ چیک باؤنس ہونے کی وجہ سے والد صاحب کو جیل ہو گئی اور کشیدگی بہت بڑھ گئی۔ پھر ممی اور والد صاحب الگ ہو گئے۔‘

امت کھنہ کہتے ہیں، ’ویسے تو میں چھوٹا نہیں تھا، لیکن مجھ پر ان سب باتوں کا بہت اثر ہوا۔ میں فوکس نہیں کر پاتا تھا اور کام ملنا بند ہو گیا۔‘

ان کا کہنا تھا ’اگر میں صرف اپنے بارے میں سوچتا تو شاید کچھ غلط کر جاتا، لیکن میں نے اپنی غلطیوں کو سدھارنا شروع کیا۔ زندگی نے چھوٹی عمر میں بہت کچھ سکھا دیا لیکن میں نے اپنے لیے زندگی کا صحیح راستہ ڈھونڈنے کی کوشش کی۔ میں سمجھ گیا تھا کہ جیسا ہم سوچتے ہیں، وہی نہیں ہوتا، لیکن آپ کا آگے بڑھنا ضروری ہے۔‘

انکت ارورہ

تصویر کے کاپی رائٹ Ankit Arora
Image caption انکت گلوکار بننا چاہتے تھے

رامائن میں لکشمن کا کردار ادا کرنے والے انکت ارورہ نے جدوجہد کے دنوں میں ویٹر کا کام بھی کیا ہے اور اخبار ڈالنے کی نوکری بھی کی ہے۔

انکت کہتے ہیں کہ، ’جب گھر میں پہلی بار بتایا کہ میں گلوکار بننا چاہتا ہوں، تو سب نے میری بات رد کر دی۔ مجھے بہت تنہا محسوس ہونے لگا، سوچتا تھا مر جاؤں۔ لیکن پھر لگا کہ حالات سے ہار گیا تو میرے خواب کس طرح پورے ہوں گے؟ اگر میں کچھ کر بیٹھتا تو میرے والدین خود کو کیسے سنبھالتے؟ ‘

ان کا خیال ہے، ’جب برے خیال آئیں تب ہمیں اُن کے بارے میں سوچنا چاہیے جو ہم سے محبت کرتے ہیں، میں خوش ہوں کہ میں نے آج جو بھی کیا ہے وہ اپنے طور پر کیا ہے۔ جہاں پہنچنا تھا وہاں شاید نہیں پہنچا، لیکن ہارا نہیں اور کم سے کم اچھی شروعات تو کی۔ ایک وقت پر مجھ سے بات نہ کرنے والے میرے ماں باپ آج مجھ پر فخر کرتے ہیں۔‘

شردھا شرما

تصویر کے کاپی رائٹ Shradha Sharma
Image caption شردھا شرما کا کہنا ہے ممبئی میں اور خاص کر انڈسٹري میں سچے دوست ملنا مشکل ہے

اداکارہ شردھا شرما کا کہنا ہے، ’کئی بار لگتا ہے کہ اکیلی ہوں، اندر سے ٹوٹا ہوا محسوس کرتی ہوں۔ ممبئی میں اور خاص کر انڈسٹري میں سچے دوست ملنا مشکل ہے۔ آپ اچھا سوچنے والے دوستوں کو پہچان کر، ان کے ساتھ ہی وقت گزارتے ہیں۔ میں بہت منہ پھٹ ہوں۔ جو دل کے صاف نہیں ہوتے ہیں، ان کو برا لگ جاتا ہے، لیکن سچے دوست ہمیشہ ساتھ دیتے ہیں۔‘

ماہر نفسیات ڈاکٹر ہریش شیٹی کا خیال ہے، ’ایوارڈ تقریب سے زیادہ ضروری ہے کہ فنکاروں اور ٹی وی فنکاروں کی تنظیم، نوجوان فنکاروں کے لیے كاؤنسلنگ سینٹر شروع کریں۔ چھوٹے شہروں سے یہاں بڑے خواب لے کر آنے والے نوجوان اپنا نام بنانے کے بعد بھی عدم تحفظ محسوس کرتے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں، ’ڈپریشن ایک عام نفسیاتی مسئلہ بن چکا ہے، لیکن ہر ایک کی تکلیف مختلف ہوتی ہے۔گلیمر کی بھول بھلیوں میں آنے سے پہلے ’پلان بی‘ ہونا ضروری ہے۔ اگر کامیاب نہیں ہوئے تو کیا کریں گے یہ سوچ کر ہی آگے بڑھنا چاہیے۔‘

اسی بارے میں