ہندوستانی شیکسپیئر آغا حشر

(شیکسپیئر کی 400 سالہ برسی کے موقعے پر لکھی جانے والی خصوصی تحریر۔)

روح: ہوشیار، جلدی نہ کر، ذرا دم لے، پہلے شخص سے قسم لے۔

جہانگیر: امدادِ ربانی، اللہ اللہ، جہانگیر کے حال پر یہ مہربانی۔ کیوں بھائی، یہ آواز پہچانی؟

اختر: زمین کے نیچے سے کوئی کلام کرتا ہے۔

جہانگیر: قسم کھلانے کا یہ انتظام کرتا ہے۔

یہ مکالمہ آغا حشر کے ایک ڈرامے سے لیا گیا ہے جو شیکسپیئر کے ’ہیملٹ‘ کا ڈھیلا ڈھالا ترجمہ ہے۔ ایسے ہی تراجم نے حشر کو وہ شہرت بخشی کہ وہ ہندوستان کے شیکسپیئر کہلانے لگے۔

٭ شیکسپیئر کی 400 سالہ برسی کی تقریبات

٭ بالی وڈ شیکسپیئر کو بہت راس آتا

آغا حشر کاشمیری نے یہ ڈراما ایک پارسی تھیئٹر کمپنی کے لیے لکھا تھا۔ انگریزوں کی دیکھا دیکھی شروع ہونے والے پارسی تھیئٹر نے نہ صرف برصغیر کی ثقافت پر انمٹ نقوش چھوڑے بلکہ آج وہ بالی وڈ کے نام سے اپنی ارتقائی شکل میں دنیا بھر میں جانا پہچانا جاتا ہے۔

یہ تھیئٹر صحیح معنی میں گنگاجمنی تہذیب کی علامت تھا اور اس کے اداکاروں، ہدایت کاروں، مصنفوں، موسیقاروں اور فنکاروں میں پارسی، ہندو، مسلمان، عیسائی، حتیٰ کہ یہودی مذہب سے تعلق رکھنے والے مل کر کام کرتے تھے اور اس تھیئٹر کی زبان وہی تھی جو سارے ہندوستان کی سانجھی بولی تھی، یعنی ہندوستانی۔

پارسی تھیئٹر نے یوں تو بہت سے طبع زاد ڈرامے بھی لکھوائے لیکن شیکسپیئر بالکل سامنے موجود تھا، اس لیے جلد ہی ان کے ڈراموں کے تراجم ہونا شروع ہو گئے۔ انیسویں صدی کے آخری عشرے میں ایک پارسی نوشیروان جی مہروان جی ’آرام‘ نے ہیملٹ کو ’خونِ ناحق‘ کے نام سے اردو چولا پہنا کر شیکسپیئر کا سب سے پہلا اردو ترجمہ کیا۔

اس کے بعد یکے بعد دیگرے شیکسپیئر کے کئی تراجم ہوئے، تاہم ان ڈراموں میں عظیم انگریزی ڈراما نگار کے ہاں پائی جانے والی پیچیدہ نفسیاتی اور فلسفیانہ گہرائی کو نظرانداز کر کے ان کی بجائے سستے رومانوی مناظر، رقص و موسیقی کی بھرمار، اور پھکڑ پن کی حدوں کو چھوتی ہوئی مزاح نگاری پیش کی جاتی تھی۔ اس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ ان ڈراموں کے ناظرین زیادہ تر عام لوگ ہوا کرتے تھے جو سستی تفریح حاصل کرنے کے لیے تھیئٹر کا رخ کرتے تھے۔

اس دور میں ڈراما کمپنیاں شہر شہر کے دورے کر کے اپنے ڈرامے پیش کرتیں جن میں عوامی ذوق کی تسکین کے لیے گانوں کی بھرمار ہوا کرتی۔ حتیٰ کہ جب کوئی گانا تماشائیوں کو پسند آ جاتا تو وہ اصرار کر کے اسے دوبارہ بھی گوا لیتے۔

اس دوران آغا حشر نے تھیئٹر کی دنیا میں قدم رکھا اور آتے ہی اپنے ہی ایک ڈرامے کے کردار سیزر کی طرح سب پر چھا گئے۔ یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ وہ شیکسپیئر کی روح کو اپنانے میں مکمل طور پر کامیاب رہے، البتہ ان کے پاس ڈرامائی آہنگ برتنے کا قدرتی ملکہ، فنی مہارت اور پلاٹ کی بنت کا ہنر موجود تھا جو شیکسپیئر کو ڈھالنے میں بہت کام آیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے انھوں نے کاؤس جی تھیئٹر کمپنی کے لیے ’بزمِ فانی‘ (رومیو جولیٹ)، ’مارِ آستین‘ (اوتھیلو)، ’مریدِ شک‘ (ونٹرز ٹیل)، ’شہیدِ ناز‘ (کنگ جان) اور اردشیر دادا بھائی کے لیے ’سفید خون‘(میژر فار میژر) اور ’خوابِ ہستی‘ (میکبیتھ) تحریر کیے جو اس قدر مقبول ہوئے کہ آغا حشر کا نام ہندوستان کے بچے بچے کی زبان پر چڑھ گیا۔

ان کی مقبولیت کا احوال چراغ حسن حسرت نے کچھ یوں بیان کیا ہے:

’ابھی ہندوستان میں فلموں کا رواج نہیں تھا۔ جو کچھ تھا تھیئٹر ہی تھیئٹر تھا۔ اور اس دنیا میں آغا حشر کا طوطی بول رہا تھا۔ یوں تو اور بھی اچھے اچھے ڈراماٹسٹ موجود تھے، احسن، بیتاب، طالب، مائل سب کے سب ناٹک کی لنکا کے باون گزے تھے، لیکن آغا کے سامنے بونے معلوم ہوتے تھے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ آغا سے پہلے اس فن کی قدر بھی کیا تھی؟ بچارے ڈراماٹسٹ تھیئٹر کے منشی کہلاتے تھے۔‘

زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ آغا حشر کو ہندوستان کے شیکسپیئر کا خطاب دے دیا گیا۔ انھیں خود بھی یہ لقب پسند تھا، چنانچہ انھوں نے جب 1912 میں اپنی ڈراما کمپنی کا آغاز کیا تو اس کا نام انڈین شیکسپیئر تھیئٹریکل کمپنی رکھا۔

شیکسپیئر کے تراجم کے علاوہ حشر نے جو دوسرے ڈرامے لکھے ان میں ’یہودی کی لڑکی‘ اور ’رستم و سہراب‘ کو بےحد مقبولیت حاصل ہوئی۔

آغا حشر یکم اپریل 1879 کو بنارس میں پیدا ہوئے تھے۔ تعلیم تو زیادہ نہیں پائی لیکن مطالعے کے شوق کی ایک مثال منٹو کی زبانی سن لیجیے:

’اتنے میں پان آ گئے جو اخبار کے کاغذ میں لپٹے ہوئے تھے۔ نوکر اندر چلا تو آغا صاحب نے کہا ’کاغذ پھینکنا، نہیں سنبھال کے رکھنا۔‘ میں نے ایک دم حیرت سے پوچھا: ’آپ اس کاغذ کو کیا کریں گے آغا صاحب؟‘

آغا صاحب نے جواب دیا ’پڑھوں گا۔ چھپے ہوئے کاغذ کا کوئی بھی ٹکڑا جو مجھے ملا ہے، میں نے ضرور پڑھا ہے۔‘

حشر نے شیکسپیئر کو ہوبہو منتقل نہیں کیا بلکہ انھیں ہندوستانی معاشرت کا چولا پہنا دیا، جس کے لیے کرداروں کے نام بھی ہندوستانی رکھے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے کئی بار شیکسپیئر کے المیہ ڈراموں کا انجام بھی بدل کر طربیہ کر دیا ہے۔

آغا حشر نے مشہور گلوکارہ مختار بیگم سے آخری شادی کی تھی۔ منٹو نے اپنے خاکے میں اسے آخری عمر کا عشق قرار دیا تاہم مختار بیگم کہتی ہیں: ’میں جب ان کی زندگی میں داخل ہو گئی تو انھوں نے بتایا کہ میں ساری زندگی اپنے آپ کو مصرع سمجھتا رہا ۔ تمھارے ملنے سے شعر بن گیا ہوں، میری نامکمل زندگی کے ساتھ ساتھ تم نے میری شاعری کو بھی مکمل کر دیا ہے۔ اب میری تحریر اس قدر بلندی پر جا پہنچی ہے کہ مجھے کوئی دوسرا نظر ہی نہیں آتا۔‘

ڈراما نگار ہونے کے ساتھ ساتھ آغا حشر قادر الکلام شاعر بھی تھے، حتیٰ کہ مشاعروں میں علامہ اقبال بھی ان کے بعد احتراماً اپنا کلام نہیں پڑھتے تھے۔ حشر کی کئی غزلیں آج بھی شوق سے گائی اور سنی جاتی ہیں:

چوری کہیں کھلے نہ نسیمِ بہار کی / خوشبو اڑا کے لائی ہے گیسوئے یار کی

یاد میں تیری جہاں کو بھولتا جاتا ہوں میں / بھولنے والے کبھی تجھ کو بھی یاد آتا ہوں میں؟

سب کچھ خدا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کر / اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ مرے اس دعا کے بعد

جوانی میں عدم کے واسطے سامان کر غافل / مسافر شب سے اٹھتے ہیں جو جانا دور ہوتا ہے

ہندوستان کے اس شیکسپیئر کا انتقال 28 اپریل 1935 کو لاہور میں ہوا۔

اسی بارے میں