ملاقات کی خواہش نے شو ماسٹر بنا دیا

تصویر کے کاپی رائٹ Jameel Shah
Image caption 30 سالہ جمیل کا سفر بہت طویل نہیں لیکن دلچسپ ضرور ہے

انڈیا کی شمالی ریاست بہار کے دربھنگہ ضلع کے رہنے والے جمیل شاہ کو بالی وڈ کے بڑے بڑے فلمی ستاروں کو ایک نظر دیکھنے اور ملاقات کرنے کی خواہش تھی۔اسی جنوں نے انھیں ڈانسنگ شوز کا ماسٹر بنا دیا۔

اب تو یہ عالم یہ ہے کہ قطرینہ کیف، پرینکا چوپڑا سے لے کر عامر خان، سلمان خان، رتک روشن کی طرح بڑے بڑے فنکار ان کے جوتوں کے قائل ہیں۔

جمیل شاہ بہار سے دہلی، بنگلور اور پھر خوابوں کی نگری ممبئی پہنچے۔ وہ بیک گراؤنڈ ڈانسر بن کر بڑے بڑے فنکاروں کے ساتھ ڈانس کرنا چاہتے تھے لیکن یہ آسان نہیں تھا۔

ان کے پاس اتنے بھی پیسے نہیں تھے کہ وہ کسی ڈانسنگ سکول میں داخل ہو سکیں۔ اس لیے انھیں کئی سال تک چوکیداری کرنی پڑی۔

ان کے رقص کی قابليت کو سب سے پہلے معروف ڈانس گرو سندیپ سوپاركر نے دیکھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Jameel Shah
Image caption جمیل شاہ کے بنائے جوتوں پر اب بالی وڈ رقص کرتا ہے

جمیل شاہ کی صلاحیت کے پیش نظر سندیپ نے ان سے کوئی فیس نہیں لی لیکن رقص کے جوتے انتہائی مہنگے ہوتے ہیں جو کم سے کم دس ہزار روپے سے لاکھوں روپے تک جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ ہندوستان میں ان کا ملنا مشکل ہوتا ہے لہذا انھیں بڑے بڑے ڈانس گرو انگلینڈ سے آڈرر کے ذریعے منگواتے ہیں۔

جمیل کے لیے اتنے مہنگے جوتے حاصل کرنا بہت مشکل تھا اس لیے انھوں نے اپنے ساتھ کام کرنے والے ڈانسروں کے جوتوں کو دیکھ کر ویسے ہی جوتے بنائے اور سندیپ سوپاركر کو بطور نذرانہ پیش کیا۔

جوتے سب کو بہت پسند آئے اور سنہ 2007 سے ڈانسنگ جوتے بنانے کا سلسلہ شروع ہوا گیا۔

30 سال کے جمیل شاہ کا یہ سفر ممبئی کے دھاراوي سے شروع ہوا تھا اور انھیں بہت مشکلات کا سامنا بھی رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Madhu Pal
Image caption جمیل کا کہنا ہے کہ عام جوتے اور رقص والے جوتے بہت مختلف ہوتے ہیں

وہ کہتے ہیں: ’میں نے بہت غریبی دیکھی ہے، مجھے اپنے گاؤں والوں اور پڑوسیوں کے طعنے سننے پڑے۔ لوگ مجھے ہیروئنوں کے جوتے صاف کرنے والا اور مجرا کرنے والا کہتے تھے۔ لیکن میری کامیابی نے سب کے منہ بند کر دیے آج وہی لوگ میری تعریف کرتے ہیں۔‘

’ان جوتوں کو بناتے وقت ان کے آرام دہ ہونے، ان کے سائز، ان کی نرمی اور وزن کا بہت خیال رکھنا پڑتا ہے۔ پھر مختلف قسم کے رقص میں مختلف قسم کے جوتوں کا استعمال کیا جاتا ہے، جیسے سالسا، جاز، ٹیپ، بیلی، ہپ ہاپ ، لیٹن، سامبا، جامبا، تمبا، ماڈرن، ٹینگو اور فلیمنكو ڈانس وغیرہ۔ ان سب کے جوتوں میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Jameel Shah
Image caption انھوں نے سلمان، عامر کے علاوہ رتک روشن کے لیے بھی جوتے بنائے

دھوم 3 میں اداکار عامر خان نے جو ٹیپ ڈانس کیا ہے اس کے جوتے الگ ہوتے ہیں۔ وہ جوتے تھوڑے بھاری ہوتے ہیں ان جوتوں کے نیچے المونیم کی پرت لگائی جاتی ہے جس سے رقص کرتے وقت ان جوتوں سے تھپتھپاہٹ کی زوردار آواز آ سکے۔

سالسا رقص والے جوتے انتہائی نرم ہوتے ہیں چونکہ سالسا رقص کرتے وقت پنجوں پر زیادہ زور دیا جاتا ہے اس لیے جوتوں کے پنجے تھوڑے وسیع ہوتے ہیں اور ہیلز کی نوک پتلی اور لمبی ہوتی ہیں۔

کچھ جوتے تو ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا وزن اور جرابوں کا وزن اور لچک ایک ہونا چاہیے۔ جاز رقص کے جوتے تو اتنے ہلکے ہوتے ہیں کہ انھیں آپ اپنی جیب میں بھی رکھ سکتے ہیں۔ وہ جرابوں جتنے ہلکے ہوتے ہیں انھیں جیسے چاہیں موڑ سکتے ہیں، دبا سکتے ہیں۔

جمیل کہتے ہیں کہ ’بالی وڈ کے فلمی ستاروں میں سب سے پہلے میں نے ڈینو موريا کے لیے جوتے بنائے تھے۔ پھر پرینکا چوپڑا کے لیے فلم سات خون معاف میں ٹینگو رقص کے جوتے بنائے۔ دھوم 3 میں عامر خان کے لیے ٹیپ ڈانسنگ شوز بنائے۔ زندگی نہ ملے گی دوبارہ میں سینوریٹا گانے کے لیے رتیک کے لیے سالسا جوتے بنائے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Jameel Shah
Image caption ان کے جوتوں کو چاہنے والی فہرست میں قطرینہ کے علاوہ پرینکا چوپڑہ، عالیہ بھٹ اور سری دیوی وغیرہ شامل ہیں

’ان کے علاوہ عالیہ بھٹ، کاجول، اجے دیوگن، سلمان خان، رنبیر کپور، قطرینہ کیف، سری دیوی کی طرح بہت سے ستاروں کے لیے ایک دو جوڑے نہیں بلکہ دس دس جوڑياں تک بنائی ہیں۔‘

پہلے یہ ستارے بیرون ملک سے جوتے منگواتے تھے اور اس کے لیے لاکھوں روپے خرچ کیا کرتے تھے۔ دھوم تھری میں قطرینہ کے لیے لندن سے ڈھائی لاکھ کے بوٹ منگوائے جارہے تھے لیکن قطرینہ کے یہ جوتے انھوں نے 15 ہزار میں بنا کر دے دیے۔

’آج کل ہندوستان اور بیرون ملک میں بہت سارے ایوارڈز شوز ہوتے ہیں جن میں ستاروں کو رقص بھی کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں وہ مجھ سے ہلکے جوتے بنانے کے لیے کہتے ہیں، جنھیں پہن کر وہ آرام سے رقص کر سکیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میں نے حال ہی میں رتک روشن کے لیے رومانی سینڈل بنائی تھی جسے وہ فلم موہنجودڑو میں استعمال کر رہے ہیں۔ رتک کو یہ سینڈل اتنے پسند آئے کہ انھوں نے مجھے 25 جوڑی بنانے کے لیے کہا۔‘

اسی بارے میں