مغربی پابندیاں، کلاشنکوف کا فیشن کی دنیا میں قدم

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

روس کی مڈیا کے مطابق چھوٹے ہتھیار تیار کرنے والی سب سے بڑی کمپنی کلاشنکوف کنسرن ہتھیاروں کی فروخت پر مغربی پابندیاں لگ جانے کے بعد فیشن کی دنیا میں قدم رکھ رہی ہے۔

دنیا میں مشہور اے کے 47 رائفل بنانے والی کمپنی کلاشنکوف کنسرن ’فوجی سٹائل‘ کے روز مرہ کے ملبوسات اور دیگر اشیا بنائے گی۔ کمپنی نے یہ فیصلہ اے کے 47 پر مغربی ممالک کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں سے ہونے والے نقصان کو پورا کرنے کے لیے کیا ہے۔

کمپنی روس بھر میں اپنی فیشن مصنوعات کی فروخت کے لیے 60 سٹورز کھولے گی۔

کلاشنکوف کے مارکیٹنگ ڈائریکٹر ویلادیمیر دیمیتری کا کہنا ہے کہ پابندیوں سے قبل شکار اور کھیلوں کے لیے تیار کیے گئے ہتھیاروں کی 70 فیصد فروخت یورٹ اور امریکہ میں ہوتی تھی۔ پابندیوں کے بعد کمپنی اب روسی صارفیں کی ضروریات پر توجہ دے گی۔

روس کے مارکٹیٹنگ ماہرین کا کہنا ہے کہ کلاشنکوف کی یہ ملبوسات ملک میں حب الوطنی کی چلی لہر کے تناظر میں کافی مقبول رہے گی۔

تاہم سوشل میڈیا میں اس اعلان کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’ہتھیار بنانے والی فیکٹریاں بند کر دو کیونکہ اب اس میں فائدہ نہیں ہے اور اس کی جگہ لیس کے زیر جامعہ بنانے شروع کر دیے جائیں۔‘

ایک اور صارف نے لکھا ’یہ ملبوسات کتنے کیلیبر کے ہوں گے اور کیا اس میں گرینیڈ لانچر بھی نصب ہو گا۔‘