میر تقی میر کی وحشت ’ماہِ میر‘

تصویر کے کاپی رائٹ mah e mir
Image caption فلم کی موسیقی بہت اعلیٰ ہے اور گانے بھی بہت ہی عمدہ طریقے سے فلمائےگئے ہیں

پاکستانی فلم ’ماہِ میر‘ اردو شاعری کے خدائے سخن میر تقی میر کی زندگی کی مختلف کیفیات یعنی عشق جنوں اور خصوصاً وحشت سے متاثر ہوکر بنائی گئی ہے جو ایک اچھی کاوش ہے تاہم یہ سوانح عمری پر مبنی فلم نہیں ہے۔

فلم کا آغاز موجودہ دور میں ہوتا ہے اور اردو ادب کے ایک ناقداور کالم نویس جمال (فہد مصطفٰی) ایک کافی ہاؤس میں ٹی وی پر جاری ادبی مباحثے میں براہِ راست فون کر کے شرکاء کو پریشان کرتے ہیں۔

یہیں ایک مقبول شاعرہ نینا کنول (صنم سعید) کی ان سے ملاقات ہوتی ہے اور کہانی آگے بڑھتی ہے اور ان حالات میں جمال کو عشق ہو جاتا ہے یہیں وہ ڈاکٹر کلیم (منظر صہبائی) کے ذریعے پہلے میر سے آۤشنا ہوتا ہے اور پھر اس کی وحشت سے۔

فلم کے اہم کرداروں میں ڈاکٹر کلیم (منظر صہبائی) شامل ہیں جو ادب کےاستاد ہیں۔

یہ فلم موجودہ ادبی رجحان سے بے زار اور کلاسیکی ادب سے بے پرواہ ایک نوجوان ادبی صحافی جمال (فہد مصطفٰی) کی کہانی ہے جو کسی کو بھی خاطر میں نہیں لاتا۔

فلم میں فہد مصطفٰی نے جمال کا کردار بلاشبہ انتہائی عمدگی سے نبھایا ہے اور موجودہ دور میں میر کی وحشت کو پردہ سیمیں پر بہترین انداز میں پیش کیا اگرچہ فلم میں میرتقی میر کے روپ میں شاید ایک آنچ کی کمی رہ گئی۔

اس فلم کی خوبصورتی میں ایمان علی کی شخصیت نے اضافہ ضرور کیا مگر سلیس اردو مکالموں کی ادائیگی میں وہ مات کھا گئیں اور رقص کرنے کی تو انھوں نے کوشش ہی سرے سے نہیں کی۔

فلم کے اہم کرداروں میں ڈاکٹر کلیم (منظر صہبائی) ہیں جو اردو ادب کے استاد ہیں اور میر تقی میر پر انہوں نے کافی کام کیا ہے۔

دراصل فلم کی کہانی ہی میر کی وحشت کی ڈاکٹر کلیم کے ذریعے جمال میں تک منتقل ہونے کی کہانی ہے۔ منظر صہبائی نے اپنا کردار مناسب طریقے سے نبھایا ہے جبکہ ہما نواب کی مختصر آمد اور روانگی فلم کا کلائمکس تھا۔

اس فلم میں کم و بیش ادبی زبان ہی استعمال کی گئی اور بیشتر الفاظ کافی دقیق ہیں جنہیں سمجھنے میں نوجوان نسل کو دقت پیش آئے گی۔

شاید اسی لیے فلم میں انگریزی سب ٹائٹلز استعمال کیے گئے تھے لیکن اگر آپ زبان سے آشنا ہیں تو اکثر مکالموں سےآپ لطف اندوز ہوں گے۔

اگر آپ کو اردو ادب یا میرتقی میر سے دلچسپی نہیں ہے تو شاید اس فلم میں آپ کےلیے کچھ بھی نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ mah e mir
Image caption اس فلم میں کم و بیش ادبی زبان ہی استعمال کی گئی اور بیشتر الفاظ کافی دقیق ہیں

فلم کے ہدایت کار انجم شہزاد کےمطابق یہ فلم صرف فلمی میلوں میں دکھانے کی ہی نیت سے بنائی گئی تھی تاہم گذشتہ کچھ عرصے میں ملک میں منٹو اور مور جیسی فلموں کی نمائش سے ان کی ہمت بڑھی اور انھوں نے اس فلم کو سینیما کی زینت بنانےکا فیصلہ کیا۔

فلم کی موسیقی بہت اعلیٰ ہے اور گانے بھی بہت ہی عمدہ طریقے سے فلمائےگئے ہیں، شاہی حسن، احمد جہانزیب اور شفقت امانت علی نے بہترین موسیقی پیش کی ہے۔

تکنیکی اعتبار سے فلم میں کچھ خامیاں ضرور ہیں۔ 18ویں صدی کے حساب سے مردوں کے لباس تو ٹھیک تھے مگر ایمان علی نے جانے کیوں مہتاب بیگم کے کردار میں 20ویں صدی کے لباس کا انتخاب کیا۔

تاہم سخن ناشناس اس دور میں یہ فلم باکس آفس پر کامیاب ہو سکے گی یا نہیں یہ علیحدہ معاملہ ہے لیکن ہدایت کار نے ایک گوہرِ نایاب پاکستانی سینیما کی جھولی میں دے دیا ہے۔

اسی بارے میں