بافٹا ایوارڈ : بی بی سی کی خود مختاری کی حمایت میں تقریریں

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ’دا گریٹ برٹش بیک آف‘ کو فیچرز انعام ملا اور اس زمن میں پانچویں بار اس شو کی نامزدگی ہوئی

برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں رائل فیسٹول ہال میں منعقد کی جانے والے بافٹا ٹیلی وژن ایوارڈز کے تقریب میں کئی اداکاروں نے بی بی سی کی خود مختاری کی حمایت کے متعلق تقریریں کیں۔

یہ تقریب حکومت کی جانب سے بی بی سی کے مستقبل کے بارے میں کیے جانے والے اقدامات سے کچھ دن پہلے منعقد کی گئی۔

اداکار مارک رائلنس نے انعام لیتے ہوئے تقریر میں کہا: ’وہ حکومت جو برطانوی شہریوں اور کسی مزاحیہ بات، سچی کہانی، ایک عمدہ گانے، معلومات، کہانیوں، کھیلوں کی کمینٹری، خبریں پڑھنے والے جو سانحہ پیرس کے بارے میں خبر دیتے ہوئے اپنے جذبات کو قابو میں رکھیں یا وہ جو کیک بناتے ہیں، ان کے بیچ آنے کی کوشش کرے تو افسوس ہوتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’میں اس ملک میں حیرت انگیز پاپ کلچر کی مختلف قسموں سے بہت متاثر ہوا ہوں۔‘

اس تقریب کی میزبانی گراہم نورٹن نے کی۔

مارک رائلسں کو بی بی سی ٹو کے ’ٹامس کرامویل‘ میں اہم اداکار کے لیے ایوارڈ اور ساتھ ہی ڈراما پرائز بھی ملا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption مائکییلا کوئل کو ’ E4's چوئنگ گم‘ کے لیے خواتین کی بہترین مزاحیہ کارکردگی کا ایوارڈ حاصل ہوا

اداکارہ کا انعام سورین جونز کو بی بی سی ون کے ازدواجی ڈرامے کے ضمن میں ’ڈاکٹر فاسٹر‘ کے لیے دیا گیا۔

تقریب میں سب سے پہلا انعام ولف ہال کو ڈراما سیریز کے لیے ملا۔

اسی سیریز کے ڈائریکٹر پیٹر کوسمنسکی نے اپنی تقریر میں بی بی سی کی غیر جانبداری کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ بی بی سی خطرے میں ہے۔ بی بی سی کے ایڈیٹوریل بورڈ میں حکومتی نمائندوں کی موجودگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ’یہ بہت خوفناک بات ہے، یہ ان کا بی بی سی نہیں ہے، یہ آپ کا بی بی سی ہے۔‘

سر لینی ہینری نے ٹیلی وژن میں اہم کردار کے لیے خاص ایوارڈ لیتے ہوئے اپنی تقریر میں یہ بات دہرائی کہ بی بی سی کے منشور میں تنوع ہونا چاہیے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’وہ سب 14 سالہ بچے جو اپنے موبائل فون سے چمٹے رہتے ہیں، جن کو نسل، جنس، طبقے اور معذوری کے باوجود ٹیلی وژن کی صنعت میں کام کرنے کی امید ہے اور جس کو اس چیز کی آرزو ہے جیسے کہ مجھے تھی تو ہم اس شاندار صنعت کو بہتر بنا پائیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اہم اداکارہ کا انعام سورین جونز کو بی بی سی ون کے اذدواجی ڈرامہ کے زمن میں ’ڈاکٹر فاسٹر‘ کے لیے دیا گیا

پہلی بار بی بی سی آئی پلئیر پر نشر کیے جانے والے مزاحیہ شو ’کار شئیر‘ کو بہترین مزاحیہ پروگرام کا ایوارڈ ملا۔

شو کے خالق پیٹر کے نے شو کے بارے میں کہا کہ ’صرف دو لوگ گاڑی میں گفتگو کر رہے ہیں۔ کون سوچ سکتا تھا کہ آج کے زمانے میں یہ بھی ممکن ہے؟‘

اس سے پہلے کے کو بہترین مزاحیہ اداکار کا ایوارڈ بھی ملا۔ لیکن تقریر کرنے کی بجائے انھوں نے سامعین کی طرف مذاق اور حیرت سے دیکھا اور صرف ’شکریہ‘ کہہ کر چلے گئے۔

مائکیلا کوئل نے مرینڈا ہارٹ، شیرن گبسن اور شیرن ہورگن کو ہراتے ہوئے’چوئنگ گم‘ کے لیے بہترین مزاحیہ اداکارہ ایوارڈ حاصل کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر کی ابتدا میں وکٹوریہ وڈ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا: ’اگر کوئی ایسی لڑکی ہے جو کچھ کچھ میری طرح دکھائی دیتی ہے اور اپنے آپ کو کٹی ہوئی محسوس کرتی ہے، اور اداکاری کے میدان میں قدم رکھنا چاہتی ہے تو (میرا اس سے کہنا ہے کہ) تم حسین ہو، اسے اپنا لو۔ تم ذہین ہو، اسے اپنا لو، تم طاقتور ہو، اسے اپنا ہو۔‘

’دا گریٹ برٹش بیک آف‘ کو فیچرز انعام ملا۔ یہ اس ضمن میں اس شو کی پانچویں نامزدگی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption تقریب میں سب سے پہلا انعام ولف حال کو ڈرامہ سیریز کے لیے ملا

شو کی سٹار میری بیری نے کہا: ’اس کی ابتدا ایک خیمے میں بیکنگ سے ہوئی اور اب ہم اس شو کی ساتویں سیریز تک پہنچ گئے ہیں۔‘ بہترین معاون اداکارہ کا انعام چینل کریسویل کو ’دس از انگلینڈ '90 ‘ کے لیے ملا۔

انھوں نے شو کے خالق شین میڈوز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ’ان کے ساتھ مجھے بہترین کام کرنے کا تجربہ ملا۔‘ ’ہیو آئی گوٹ نیوز فار یو‘ شو کو بہترین مزاحیہ پرواگرام کا ایوارڈ ملا۔

ٹیم لیڈر ایئن ہسلوپ نے کہا: ’میں بی بی سی کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنھوں نے ’ہیو آئی گوٹ نیوز فار یو‘ کے شو کو مختلف ملکوں کے حوالے سے غیر مہذب ہونے کی اجازت دی اور بی بی سی خود بھی اس میں شامل تھی۔‘

’چینل فور نیوز‘ کو پیرس میں ہونے والے حملوں کے حوالے سے خبروں کی نشریات کا ایوارڈ ملا۔

ٹی وی کے پرزینٹر جان سنو نے کہا: ’ٹی وی خبروں کا یہ سب سے شدید آزمائش کا دن رہا ۔ پیرس کے دل کو چیر دیا گیا تھا۔‘ بین الاقوامی زمرے میں انعام ’امیزونز ٹرانسپینرٹ‘ شو کو ملا جو لاس اینجلس شہر میں مقیم ایک خاندان کے بارے میں ہے جن کو اپنے ریٹائرڈ والد کے خواجہ سرا ہونے کا انکشاف ہوتا ہے۔

ایوارڈ وصول کرتے ہوئے لیڈ اداکار جیفری ٹیمبور کا کہنا تھا: ’یہ ایسی سیریز ہے جو کہتی ہے کہ آپ جیسے ہیں ویسے ہی رہیں، نتائج کی فکر نہ کریں۔‘

اسی بارے میں