پاکستان کی فوک کہانیاں برطانوی تھیٹر پر

پاکستانی تھیٹر نوے کی دہائی میں زوال کا شکار ہوا لیکن اب نہ صرف پاکستان میں بلکہ برطانیہ میں بھی پاکستانی تھیٹر ایک بار پھر اٹھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

’ویگنگ ٹنگز‘ نامی تھیٹر گروپ رواں سال برطانیہ کے مختلف شہروں میں ہونے والے فیسٹیولز میں پرفارم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ پاکستان کے فن اور ثقافت کو پیش کیا جاسکے۔

اس گروپ نے اپنے تھیئٹر کی ابتدا مسلم لائف سٹائل شو میں پرفارمنس دے کر کی ہے۔

یہ گروپ پاکستانی روایتی کہانیاں جدید انداز میں پیش کرتا ہے۔ ’جنگلی جادوگر‘ ایک شہزادے کو بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے سفر کی کہانی ہے۔

اس کہانی کی روح رواں مریم ماجد ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’اس کہانی کی ہیرو ایک خاتون ہے جو شہزادے کو بچانے کے لیے نکلتی ہے۔ میں صرف ایک مضبوط عورت دکھانا چاہتی تھی اور میں نے کردار تبدیل کر دیے۔ عام طور پر مصیبت میں گھری عورت کو بچانے کوئی شہزادہ آتا ہے۔ میں نے سوچا کہ یہ تبدیل ہونا چاہیے۔‘

یہ کہانی پاکستان کی روایتی کہانیوں پر مبنی ہے۔ مریم کا کہنا ہے کہ یہ ضروری ہے کہ یہ کہانیاں برطانیہ میں نئی نسل تک پہنچائی جائیں۔

انھوں نے کہا ’میرے دو بیٹے ہیں جو وہیں پلے بڑھے۔ ان کو مغربی ثقافت کا علم ہے۔ مجھے محسوس ہوا کہ ان کو پاکستان کے بارے میں بھی علم ہونا چاہیے۔ اور اسی لیے جنگلی جادوگر کی کاسٹ میں زیادہ تر بچے ہیں اور ان میں نو سالہ رومل بھی شامل ہیں۔‘

اس ڈرامے میں وہ کئی کردار ادا کرتے ہیں جس میں خدا، چیئر لیڈر اور گار گوئل کا کردار ادا کیا ہے۔ لیکن ڈرامہ اپنے آپ میں پاکستان کی ایک مثبت شبیہ پیش کرنے کی کوشش ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس کا مقصد جنوبی ایشیائی برادریوں کی آواز کو بلند کرنا ہے خواہ وہ کسی بھی پرفارمنگ آرٹ رقص، فلم یا تھیئٹر کے ذریعے ہو۔

مریم ماجد نے کہا: ہم چاہتے ہیں کہ میڈیا میں ہماری جو تصویر پیش کی جا رہی ہے اس کے مقابلے میں لوگ ہماری بہتر تصویر دیکھیں اور یہاں ہمارے پاس موقع ہے۔

ڈرامے میں کرادار ادا کرنے کے مواقع نے بعض بچوں کو اسے اپنے کریئر کے طور پر منتخب کرنے کے لیے تحریک دی ہے۔

دس سالہ رافیل نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈرامے میں اداکاری نے انھیں اسے کریئر کے طور پر لینے کے لیے سوچنے پر مجبور کیا ہے۔

اسی بارے میں