کورین ناول ’دا ویجیٹیريئن‘ کے لیے انٹرنیشنل بکر پرائز

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ناول دا ویجیٹیريئن کی مصنفہ ہان گانگ اور مترجم ڈیبورا سمتھ انعامی رقم میں آدھے آدھے کی حقدار ہیں

رواں سال کا مین بکر انٹرنیشنل پرائز جنوبی کوریا کی ایک خاتون ناول نگار ہان کانگ کے ناول ’دا ویجیٹیريئن‘ یعنی سبزی خور کو دیا گیا ہے۔

یہ ناول ایک ایسی خاتون کے بارے ہے جو ’انسانی درندگی کو مسترد کرنے کی چاہت‘ میں گوشت کھانا ترک کر دیتی ہے۔

بکر انعام کے ججوں کے پینل کے صدر بوائڈ ٹانکن نے کہا کہ جنوبی کوریا کی مصنفہ کی تصنیف ’ناقابل فراموش طور پر طاقتور اور اوریجنل‘ ہے۔

اس کتاب کو ڈیبورا سمتھ نے انگریزی میں ترجمہ کیا ہے اور وہ گذشتہ کئی برسوں سے کورین زبان پڑھا رہی ہیں۔

اس ناول کی مصنفہ اور مترجمہ 50 ہزار پاؤنڈ کے انعام کو آدھا آدھا آپس میں تقسیم کریں گی۔

اس جوڑی کا مقابلہ نوبل انعام یافتہ اورہان پامک، اطالوی ناول نگار ایلینا فیرینٹے، انگولا کے الفاظ گڑھنے والے جوز ایڈوارڈو اگولوسا، چینی مصنف یان لیانکے اور آسٹریا کے ناول نگاررابرٹ سیتھالر سے تھا۔

مترجم ڈیبوراہ سمتھ نے کہاکہ یقینی طور پر ان کی مادری زبان کورین نہیں ہے اور وہ ابھی بھی ایسی زبان بولتی ہیں جس سے یہ پتہ چلے کہ کسی نے کتاب پڑھ کر یہ زبان سیکھی ہے۔

انھوں نے کہا: ’کوریا کی تہذیب سے میرا کوئی تعلق نہیں تھا اور میں کبھی کسی کوریائی باشندے سے نہیں ملی تھی لیکن میں مترجم بننا چاہتی تھی اور میں ایک زبان سیکھنا چاہتی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مترجم کی مادری زبان کورین نہیں تھی

’کورین زبان کو میں نے اس لیے پسند کیا کہ عملی طور پر اس ملک میں کوئی بھی اسے پڑھتا یا جانتا تھا۔‘

انھوں نے کورین زبان سیکھنے کے دوسرے سال ہی اس کتاب کو ایک اشاعتی ادارے کے لیے ترجمہ کیا تھا لیکن ترجمہ بہت خراب تھا۔

لیکن جب ناشر نے ان سے دوسری کوریائی کتاب کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے دوسری کوشش کی اور پھر انھوں نے کئی کتابیں ترجمہ کر ڈالیں۔

ناول ’دا ویجیٹیرین‘ ہان کانگ کی پہلی ناول ہے جو انگریزی میں ترجمہ ہوئی ہے۔ اس کے بعد ان کی دوسری ناول ’ہیومن ایکٹس‘ بھی شائع ہو چکی ہے۔

انھوں نے کہا کہ انھیں اس ناول کے لیے اپنی ہی ایک کہانی سے تحریک ملی جس میں ایک خاتون ایک پودے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

انھوں نے کہا: ’اس کہانی کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ اس امیجری پر مزید محنت کی ضرورت ہے۔‘

دوسری جانب ججز کے صدر ٹونکن نے کہا کہ تمام ججز کا یہ متفقہ فیصلہ تھا۔

اور ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ بکر انعام کسی مصنف کو ان کی ایک ہی تصنیف کی بنیاد پر دیا گيا ہو۔

اسی بارے میں