انڈیا میں ساڑھی کے لیے مخنث ماڈل

Image caption خواجہ سراؤں کا شاید ساڑھی کی تشہیر میں پہلی بار استعمال ہوا ہے

انڈیا کی جنوبی ریاست کیرالہ میں ایک ڈیزائنر نے اپنی ساڑھیوں کی نمائش کے لیے انوکھا قدم اٹھاتے ہوئے دو ٹرانسجینڈر یا مخنث ماڈلز کا سہارا لیا ہے۔

بی بی سی دہلی کی گیتا پانڈے بتاتی ہیں کہ ڈیزائنر شرمیلا نائر کے کلیکشن کا نام ’مزاول‘ یعنی قوس قزح ہے اور انھوں نے اسے ٹرانسجینڈر کے نام منسوب کیا ہے کیونکہ عالمی سطح پر ان کے پرچم قوس قزہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔

انڈیا کے سماج میں خواجہ سراؤں یا مخنثوں کو تیسری صنف کے طور پر حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور انھیں مذاق اور تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ایسے میں شرمیلا نائر کا انھیں ماڈل کے طور پر منتخب کرنا توجہ کا باعث ہے۔

شرمیلا نائر بتاتی ہیں کہ مایا مینن اور گوری ساوتری کو پہلے سے ماڈلنگ کا کوئی تجربہ نہیں ہے اور انھیں یہ دونوں کو ’کوئیرالا‘ تنظیم کے توسط سے ملیں۔ یہ تنظیم جنوبی ریاست کیرالہ میں ایل جی بی ٹی (لیسبیئن، گے، بائی سیکسوئل اور ٹرانسجینڈر) کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ FIJOY JOSEPH
Image caption دونوں مخنث ماڈلوں کے درمیاں ڈیزائنر

انھوں نے بتایا: ’میں ابھی اس بات پر غور کر ہی رہی تھی کہ اپنے ہینڈلوم کلیکشن کی نمائش کس طرح کروں کہ مجھے فیس بک پر ریاستی حکومت کی ایک پوسٹ نظر آئی جس میں خواجہ سراؤں کی زندگی کو بہتر بنانے کی نئی پالیسی کی بات تھی۔‘

کوچین سے انھوں نے فون پر بتایا: ’میں نے سوچا کہ جب حکومت ان کے لیے اتنا کر رہی ہے تو مجھے بھی کچھ کرنا چاہیے۔‘

شرمیلا نائر اپنے کلیکشن کی نمائش کے لیے کبھی بھی پیشہ ور ماڈلوں کا انتخاب نہیں کرتیں۔ انھوں نے کہا کہ اپنی تازہ نمائش کے لیے ان کو منتخب کرنے کے میرے سامنے دو معیار تھے۔

’ہم ایسی ماڈل کی تلاش میں تھے جنھیں ساڑھی پہننا پسند ہو اور جو کیمرے کے سامنے پرسکون ہو۔ ہم یہ نہیں چاہتے تھے کہ وہ حد سے زیادہ پوز کریں۔‘

Image caption مہم میں شامل دونوں ماڈلز گریجویٹ ہیں لیکن مخنث ہونے کے سبب بے روزگار ہیں

شرمیلا نائر بتاتی ہیں کہ مایا اور گوری دونوں ہی خواجہ سرا ہیں لیکن وہ خواتین کی طرح رہنا چاہتے ہیں۔

ڈيزائنر نے بتایا کہ انھیں ان دونوں کی ساڑھی میں تصاویر بھیجی گئیں لیکن جب وہ ان سے ملیں تو وہ مردوں کی طرح پینٹ اور شرٹ میں تھے۔

انھوں نے بتایا کہ ’جب ہم نے اپنی مہم کے لیے انھیں ساڑھی میں تیار کیا تو وہ بالکل بدل چکے تھے۔ وہ بہت پرشکوہ نظر آ رہے تھے۔‘

25سالہ شرمیلا نائر ’ریڈ لوٹس‘ یعنی سرخ کنول کے نام سے ساڑھی فروخت کرتی ہیں اور سات ماہ قبل اسے لانچ کیا ہے۔

انھوں نے بتایا: ’میرے شوہر کا تعلق کیرالہ سے ہے لیکن وہ بہت دنوں تک تمل ناڈو میں رہے اور وہیں میں نے یہ سنا کہ سرخ کنول سے دیوتا اور دیویوں کے لیے کپڑے بنے جاتے تھے۔ اس لیے میں نے اپنی کمپنی کا نام اس پھول پر رکھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ FIJOY JOSEPH
Image caption شرمیلا نائر نے بتایا: ہم ایسی ماڈل کی تلاش میں تھے جنھیں ساڑھی پہننا پسند ہو اور جو کیمرے کے سامنے پرسکون ہو

انھوں نے بتایا کہ ان کی شوخ رنگوں کی زرق برق ساڑھیوں کے لیے انڈیا اور بیرون ملک سے آرڈر مل رہے ہیں۔

ان کی ساڑھیاں پڑوسی ریاست کرناٹک کے ہبلی کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں تیار ہوتی ہیں اور ان کی قیمت ڈیڑھ ہزار سے ڈھائی ہزار انڈین روپے یا 23 سے 38 امریکی ڈالر کے درمیان ہے۔

دونوں ماڈل کی عمر 29 سال ہے اور انھوں نے کالج سے گریجویٹ کیا ہے لیکن وہ بے روزگار ہیں کیونکہ وہ مخنث ہیں۔

ڈیزائنر کو امید ہے کہ اس مہم سے ان کی زندگی میں تبدیلی آ سکتی ہے۔

اسی بارے میں