سنی لیونی پورن سٹار سے مصنفہ تک

انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں قائم پبلشنگ ہاؤس جگرناٹ نے پچھلے ماہ ’سویٹ ڈریمز‘ کے نام سے 12 ہیجان انگیز کہانیاں شائع کی ہیں، جن کی منصفہ انڈیا کی مقبول ترین خاتون ہیں۔

یہ مصنفہ بالی وڈ کی مشہور اداکارہ کرنجیت کور ہیں جن کو دنیا سنی لیونی کے نام سے جانتی ہے۔

٭ گوگل پر سنی لیونی کی سب سے زیادہ تلاش

٭ سنی کی خواہش

٭ ’اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ ہوں‘

یہ کہانیاں موبائل فونز پر ریلیز کی گئی ہیں اور یہ پہلا موقع ہے کہ تخلیقی افسانے کو لوگ سٹمارٹ فونز پر پڑھ سکیں گے۔

لیون کی یہ کہانیاں متنوع ہیں۔ ایک کہانی میں نیویارک میں ایک انڈین آٹی ٹی کا ماہر ایک انڈین سٹرپر کے ساتھ تعلقات قائم کرتا ہے، جب کہ ایک اور کہانی میں ایک وفادار انڈین خاتون اپنے مردہ شوہر کے بھوت سے سیکس کرتی ہے۔

سنی لیونی کی یہ کہانیاں نیویارک میں آئی ٹی کمپنی تابعدار انڈین بیوی کے بارے میں ہیں۔

سنی لیونی نے ان کہانیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا: ’میں اپنے لیپ ٹاپ پر جہاں موقع ملتا تھا لکھتی تھی، چاہے میں ممبئی میں ہوں یا لاس اینجلس کے کسی پرسکون مقام پر، اپنے مکان میں یا بالی وڈ میں شوٹنگ کے دوران۔ مجھے پہلے مسودے کو حتمی شکل دینے میں چار ماہ لگے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Other

انھوں نے کہا کہ جب انھوں نے لکھنا شروع کیا تو ہیجان انگیز کہانیاں ہی ان کے ذہن میں تھیں۔

’میں نے پہلے کبھی نہیں لکھا لیکن جب پبلشروں نے مجھ سے لکھنے کا کہا تو میں نے چیلنج قبول کر لیا۔‘

جگرناٹ پبلشنگ ہاؤس کی پبلشر چِکی سرکار کا کہنا ہے: ’ہیجان انگیز کہانیاں ای بُکس میں عالمی سطح پر سب سے زیادہ بکنے والی کہانیاں ہیں اور ہمارا خیال تھا کہ یہ سمارٹ فونز پر بہت پسند کی جائیں گی۔‘

چِکی سرکار کا کہنا ہے: ’سنی کے انڈیا میں اور سوشل میڈیا پر مداحوں کی بہت بڑی تعداد ہے۔ فیس بک، ٹوئٹر اور انسٹاگرام پر ان کے دو کروڑ 20 لاکھ فولوئرز ہیں جن میں خواتین کی بھی بڑی تعداد ہے جو سنی کی لکھائی پڑھنے کے لیے بے تاب ہیں۔‘

سنی لیونی انڈیا میں گوگل پر سب سے زیادہ سرچ کی جانے والی خاتون ہیں۔

انڈیا میں وہ پہلی بار ٹی وی پر 2011 میں ریئلٹی شو بگ باس کے پانچویں سیزن میں آئی تھیں۔ اس سے قبل ان کو انڈیا میں لوگ ان کو پورن سٹار کے طور پر جانتے تھے۔

اس کے بعد سے ان کو فلموں میں کام کرنے کی پیشکشیں آنی شروع ہو گئیں اور انھوں نے اب تک 15 فلموں میں کام کیا ہے۔

سدھا جی تلک دہلی میں فری لانس صحافی ہیں۔

اسی بارے میں