امریکی فوجی افسر’مس امریکہ‘ بن گئیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ڈیشونا بابر کو اپنی جیت کا یقین ہی نہیں ہوا اور وہ رو پڑیں

امریکہ میں 26 سالہ ڈیشونا باربر 51 دیگر امیدواروں کو شکست دے کر نئی مس امریکہ منتخب ہوگئی ہیں۔

باربر پہلی ایسی مس امریکہ ہیں جو امریکی فوج میں افسر ہیں اور فی الحال لیفٹینینٹ کے عہدے پر کام کر رہی ہیں۔

یہ مقابلۂ حسن لاس ویگاس کے ٹی موبائل ارینا میں منعقد کیا گیا تھا۔

دوسرے نمبر پر مس ہوائی چیلسی ہارڈ آئیں اور اب وہ مس ورلڈ کے مقابلے میں امریکہ کی نمائندگی کریں گی۔

ججز نے جب باربر سے فوج میں خواتین کی نمائندگی کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے برجستہ کہا: ’امریکی فوج میں تعینات ایک عورت کے طور پر میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ ہم مردوں جتنی ہی مضبوط ہیں۔ میں اپنی یونٹ کی کمانڈر ہوں، طاقتور ہوں اور اپنے کام کے متعلق پابند عہد ہوں۔ امریکہ میں عورت ہونا کسی قسم کی روکاوٹ نہیں ہے۔‘

باربر اب مس یونیورس مقابلہ حسن میں امریکہ کی نمائندگی کریں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مقابلے میں شامل دیگر امیدواروں کے ساتھ

جیتنے کے بعد ایک انٹرویو کے دوران انھوں نے کہا: ’کہیں میں خواب تو نہیں دیکھ رہی ہوں! کوئی چٹکی لے کر مجھے جگائے۔ یہ ناقابل یقین ہے۔ جب میرے سر پر تاج رکھا گیا تو میری آنکھوں سے آنسو نکل پڑے۔ میں نے اسے چھو کر دیکھا اور کہا کیا یہ حقیقت ہے۔ جیسے میں ایک قسم کے صدمے میں تھی۔‘

فوج میں آئی ٹی تجزیہ کار کی حیثیت سے کام کرنے والی باربر نے کہا کہ اب وہ آرمی ریزرو سے چھٹی حاصل کرنے کے بارے میں غور کر رہی ہیں۔

باربر نے کہا کہ وہ سابق فوجیوں کے لیے کام کرنا چاہتی ہیں۔

جب ان سے کہا گیا کہ وہ صدر کے عہدے کے امیدواروں کو کیا پیغام دینا چاہتی ہیں تو انھوں نے کہا کہ انھیں سابق فوجیوں کے مسائل پر زیادہ توجہ دینا چاہیے۔

اسی بارے میں