محبت میں ناکامی پر فلم مشہور کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Lingraj Manjule

انڈیا کے سینما میں محبت میں مبتلا، سماجی مشکلات پر قابو پا کر خوشی کی تلاش میں نوجوان جوڑے کی کہانی اب بھی بہت کامیاب ہے۔

مراٹھی زبان کی کم بجٹ سے بننے والی فلم ’سیراٹ‘ محبت کرنے میں دشواریوں کے بارے میں فلم ہے جو بہت مشہور ہوئی ہے۔

یہ فلم دلت فلم ساز نے بنائی ہے جس پر 597,460 ڈالر خرچہ آیا ہے اور اس کے مرکزی کردار دو نئے فنکار ادا کر رہے ہیں۔

اس فلم میں اونچی ذات کی لڑکی نچلی ذات کے لڑکے کے ساتھ پیار کرتی ہے اور لڑکی ہی اس معاشقے میں پہل کرتی ہے اور اس فلم کا اختتام اچھے انداز میں نہیں ہوتا۔

روایتی بالی وڈ فلم نہ ہونے کے باوجود مراٹھی سینما میں یہ فلم بہت اچھا کاروبار کر رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ

اپریل میں یہ فلم مہاراشٹرا کے 450 سینما گھروں میں لگی اور اب تک اس کے شو فل ہاؤس پر چل رہے ہیں۔ لوگوں کا رش اتنا ہے کہ چھوٹے سینما گھروں میں اس فلم کا آدھی رات اور صبح سویرے کے اضافی شو بھی دکھائے جا رہے ہیں۔

اس فلم نے اب تک ایک کروڑ 20 لاکھ ڈالر کمائے ہیں۔

ناقدین ’سیراٹ‘ کی بڑی تعریف کر رہے ہیں۔ برلن فلم فیسٹیول میں یہ فلم انڈیا کی جانب سے باضابطہ طور پر نامزد کی گئی ہے اور اس فلم کی بہت تعریف ہوئی۔

فلم کے ڈائریکٹر نگراج منجول نے بی بی سی کو بتایا ’بین الاقوامی سطح پر اس فلم کو جو داد ملی ہے وہ نہایت ہی حوصلہ افزا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption چودہ سالہ رنکو راجگرو اعلی ذات سے تعلق رکھنے والی ہیروئن کا کردار ادا کر رہی ہیں

سیراٹ میں ہیروئن ارچنا یا ارچی پٹیل ہیں جو کالج میں پڑھنے والی طالبہ کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ ہیرو پرشایا ہے جو ارچی کے ساتھ کالج میں پڑھتا ہے اور گاؤں کی کرکٹ ٹیم کا کپتان ہے۔

ارچی گاؤں کے بڑے سیاستدان کی بگڑی ہوئی بیٹی ہے۔ وہ موٹر سائیکل پر کالج جاتی ہے اور اپنی فصلوں میں ٹریکٹر بھی چلاتی ہے۔

پرشایا ایک مچھیرے کا بیٹا ہے جو گاؤں کے مضافات میں دلت ذات کے لوگوں کے علاقے میں رہتا ہے۔

گاؤں میں ان دونوں کو علیحدہ رکھنے کے لیے جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں اور یہ دونوں بھاگ کر شہر آ جاتے ہیں۔ لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Nagraj Manjule

منجول نے تجربہ کار فنکار نہیں لیے بلکہ طلبہ کو فلم میں کاسٹ کیا جن کا اداکاری میں کوئی تجربہ نہیں۔

ہیروئن ارچی پٹیل کا کردار 14 سالہ رنکو راجگرو ادا کر رہی ہیں جو ڈاکٹر بننا چاہتی ہیں۔ ہیرو پرشایا کا کردار 20 سالہ آکاش تھوسر ادا کر رہے ہیں جو کرکٹ کے بہت بڑے مداح ہیں اور تاریخ میں گریجوئیشن کر چکے ہیں اور وہ پولیس فورس میں شمولیت کے خواہاں ہیں۔

راجگرو اپنی والدہ کے ہمراہ فلم میں آڈیشن دینے آئی تھیں اور اسی وقت ان کا آڈیشن ہوا اور ان کو منتخب کر لیا گیا۔

آکاش کی تصویر واٹس ایپ کے ذریعے فلم ساز تک پہنچی اور جلد ہی ان کا آڈیشن ہوا اور وہ منتخب ہو گئے۔

فلم کار منجول کا کہنا ہے ’میں نے ہیرو اور ہیروئن کے ہمراہ کئی ماہ تک کام کیا اور ان کو ان کے کردار سمجھائے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

انھوں نے بڑے فخر سے بتایا کہ یہ دونوں فنکار اپنے کردار میں اتنے ڈوب گئے کہ ان کو رونے کے سین کے لیےگلیسرین استعمال کر کے نقلی آنسو نکالنے کی ضرورت نہیں پڑی۔

آج کل پونے میں منجون اور ہیرو اور ہیروئن نامعلوم مقام پر اپنے مداحوں سے چھپ کر بیٹھے ہیں۔

منجول نے مسکراتے ہوئے کہا ’ہم دروازہ نہیں کھول سکتے کیونکہ مداحوں کی بھیڑ لگی ہوئی ہے۔‘

راجگرو کو افسوس ہے کہ وہ کھانا کھانے باہر نہیں جا سکتیں کیونکہ مداح ان کو گھیر لیتے ہیں۔

مہاراشٹرا میں بالی وڈ کی فلمیں رک سی گئی ہیں اور یہ وہ ریاست ہے جہاں مراٹھی فلمی صنعت بہت مضبوط ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Nagraj Manjule

منجول کا کہنا ہے وہ بالی وڈ کی روایتی خوبصورت ہیروئن کے خلاف جانا چاہتے تھے جو ہیرو کے انتظار کرتی ہیں تاکہ ایک ازدواجی رشتے میں خوش و خرم رہ سکیں۔

ناقدین نے منجور کی جانب سے مضبوط ہیروئن کا کردار متعارف کرانے پر ان کی تعریف کی ہے۔

منجور نے ذات پات کی لعنت کے ایشو کو بھی اجاگر کیا ہے۔ ’میں یہ سمجھ گیا کہ ذات پات، جنسی استحصال اور عدم مساوات کے خلاف جدوجہد غصے کے ذریعے نہیں کرنی۔ میں نے ان ایشوز کو اپنی فلم کے ذریعے اجاگر کیا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے دو سال تک 50 سکرپٹوں پر کام کیا اور آخر 2014 میں فلم سکرپٹ فائنل ہوئی۔

سدھا جی تلک دہلی میں فری لانس صحافی ہیں

اسی بارے میں