پاکستانی فیشن ملبوسات کی برطانیہ میں مقبولیت

Image caption برطانیہ میں پاکستانی ملبوسات کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے

برطانیہ میں رواں برس کے پاکستان فیشن ویک کے لیے درجنوں کی تعداد میں ڈیزائنرز لندن اور مانچسٹر آئے۔

فیشن ویک میں پاکستانی ملبوسات کی نمائش کے علاوہ انھوں نے اپنے متعارف کرائے گئے نئے ملبوسات کو فروخت کے لیے بھی پیش کیا تاکہ عوام کو آئندہ ماہ عید سے پہلے نئے ڈیزائن کے ملبوسات خریدنے کا موقع مل سکے۔

لندن میں فیشن شو

پاکستان میں فیشن ملبوسات پہلے ہی ایک بڑا کاروبار بن چکا ہے لیکن اب یہ برطانیہ میں بھی تیزی سے قدم جما رہا ہے۔

لندن میں پاکستان فیشن ویک پانچوں برس میں داخل ہو چکا ہے اور اس میں ماڈلز نے بہترین ملبوسات کی ریمپ پر نمائش کی۔

اس فیشن ویک کا مقصد نہ صرف پاکستان کے بڑے ڈیزائنرز بلکہ ابھرتے ہوئے ڈیزائنرز کے ملبوسات کو عوام کے سامنے پیش کرنا ہے۔

ان میں آغا نور بھی شامل ہیں جنھوں نے صرف چار برس پہلے 19 برس کی عمر میں اس شعبے میں قدم رکھا ہے۔

ان کے فیشن ہاؤس یا برانڈ کا نام بھی ان ہی کے نام پر ہے اور یہ فیشن ہاؤس صارفین کی مالی استعداد کے مطابق ملبوسات تیار کرتا ہے۔

پاکستان کے کئی ڈیزائنرز برطانوی بازاروں میں اپنی جگہ بنا رہے ہیں۔

پاکستان میں ’گل احمد‘ مقبول برانڈ ہے اور گرمیوں میں استعمال ہونے والے کم وزن کے لان کے ملبوسات کی فروخت میں اس کا بڑا حصہ ہے۔

’میں کہنا چاہوں گا کہ گذشتہ پانچ برس کے دوران ہمارے ملبوسات کی مانگ میں تقریباً 30 سے 40 فیصد اضافہ ہوا ہے، برطانیہ میں اس وقت بہت زیادہ برآمدات ہیں، ہم نے یہاں ایک دفتر بھی کھولا ہے اور یہاں ہمارے فیشن کو پسند کیا جاتا ہے۔‘

اس وقت برطانیہ کے مختلف شہروں میں ہزاروں کی تعداد میں دکانوں اور بوتیکس پر پاکستانی کپڑے فروخت کیے جا رہے ہیں۔

Image caption برطانیہ کے کئی شہروں میں سٹورز پر پاکستانی ملبوسات فروخت ہو رہے ہیں

برطانوی شہر بریڈفورڈ میں ایشیائی ملبوسات کے پرانے ترین سٹورز میں سے ایک بامبے سٹورز کے مالک شایان قادر کے مطابق ان کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت 600 سے زیادہ ایشیائی ملبوسات کے سٹورز ہیں۔ ان سٹورز پر کپڑا، عروسی ملبوسات، مردوں کے کپڑے فروخت کیے جاتے ہیں۔

برطانیہ میں ملبوسات کی فروخت میں نامور سٹورز کے علاوہ اس شعبے میں کئی نئے لوگ بھی آ رہے ہیں تاکہ پاکستانی فیشن ملبوسات کی مقبولیت سے فائدہ اٹھا سکیں۔

نیئر سلطانہ نے لندن میں دو ہفتے قبل ہی اپنا سٹور کھولا ہے۔

’ہم نے دیکھا کہ مارکیٹ میں پاکستان کے مخصوص فیشن ملبوسات کم تھے۔ وہاں بھارتی فیشن ڈیزائنرز کی بہت بڑی تعداد ہے اور اب ہم انھیں بڑے پیمانے پر لا رہے ہیں۔‘

پاکستانی فیشن ملبوسات صرف خواتین کے لیے نہیں بلکہ برطانیہ میں مردوں کے لیے بھی اچھی خبر ہے۔

معاذ جی برانڈ مردوں کے لیے کپڑے ڈیزائن کرتے ہیں اور اسے معاذ کراچی سے چلاتے ہیں اور انھیں یہ کاروبار اپنے والد سے منتقل ہوا ہے۔

’میں پاکستان سے انگلینڈ بہت زیادہ فیشن لے کر جا رہا ہوں، میں لندن، مانچسٹر، برمنگھم میں کاروبار کر رہا ہوں، اب میں نے ہول سیل کا کاروبار بھی شروع کیا ہے۔ کچھ برس پہلے برطانیہ میں 40 فیصد کے قریب ملبوسات برآمد کرتا تھا اور اب یہ 70 سے 75 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔‘

اسی بارے میں