’ماڈلنگ کے متعلق روایتی سوچ تبدیل ہو رہی ہے‘

Image caption نادیہ حسین کا شمار پاکستان کی ان خواتین میں ہوتا ہے جو فیشن، سیاست اور سائنس جیسے شعبوں میں اپنا نام پیدا کر رہی ہیں

پاکستانی سپر ماڈل نادیہ حسین کا کہنا ہے کہ ملک میں فیشن سے متعلق لوگوں کے رویے تبدیل ہو رہے ہیں اور انڈسٹری ترقی کر رہی ہے۔

نادیہ حسین کا کہنا ہے کہ اب ماڈلنگ کو بطور کیریئر اپنانا 20 سال پہلے کی نسبت زیادہ قابل قبول ہے۔

37 سالہ نادیہ حسین کے چار بچے ہیں اور ان کا کاروبار پھل پھول رہا ہے، وہ ایک تربیت یافتہ ڈینٹسٹ ہیں اور اب بھی فیشن شوز میں ریمپ پر واک کرتی ہیں۔

نادیہ حسین لندن میں پیدا ہوئیں اور پاکستان میں پلی بڑھیں۔ فیشن کی دنیا میں قدم رکھنے سے قبل انھوں نے ڈینٹل کالج سے گریجویشن کی۔

حال ہی میں انھوں نے لندن میں منعقد پاکستان فیشن ویک کے ریمپ پر واک کی۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میری والدہ نے میری زیادہ حمایت نہیں کی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ کسی حد تک ان میں بھی تبدیلی آئی۔ تاہم میرے والد شروع سے ہی بہت زیادہ مددگار تھے۔ میری والدہ چاہتی تھیں کہ مجھے پڑھائی پر دھیان دینا چاہیے، اس وقت میں ڈینٹل کالج میں پڑھائی شروع کرنے والی تھی۔‘

پاکستان میں بہت سارے والدین کے خیال میں ماڈلنگ ایک مناسب پیشہ نہیں ہے، تاہم نادیہ حسین کا ماننا ہے کہ روایتی سوچ تبدیل ہورہی ہے۔

Image caption حال ہی میں انھوں نے لندن میں منعقد پاکستان فیشن ویک کے ریمپ پر واک کی

وہ کہتی ہیں کہ اس انڈسٹری میں بہت زیادہ ترقی ہوئی ہے۔ ’ہم نے انڈسٹری کو تبدیل ہوتے دیکھا ہے۔ ایسا کوئی فیشن شو نہیں ہوتا تھا جس میں 40 ماڈلز شریک ہوں اور ایسا ہوتا ہے۔‘

ایک ایسے وقت میں جب پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کی خبریں سرخیوں میں ہیں، نادیہ حسین کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں یہ اسلام کے پہلے کے دور کی روایات ہیں جن میں بیٹیوں کو شرم کا باعث سمجھا جاتا تھا۔

نادیہ حسین کہتی ہیں کہ ہر کوئی ان کی حمایت کرتا ہے۔ ’میں جانتی ہوں کہ میرے بچوں کا خیال رکھا جا رہا ہے کیونکہ میرے شوہر اور میری ساس میرے بچوں کا خیال رکھتے ہیں۔‘

نادیہ حسین کا شمار پاکستان کی ان خواتین میں ہوتا ہے جو فیشن، سیاست اور سائنس جیسے شعبوں میں اپنا نام پیدا کر رہی ہیں۔

تاہم ایک ایسے ملک میں جہاں ابھی بھی لاکھوں لڑکیاں تعلیم سے محروم ہیں، خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں