سلمان کے بیان پر ان کے والد معافی کے طلبگار

تصویر کے کاپی رائٹ spice
Image caption سلیم خان اپنی اہلیہ ہیلن کے ساتھ

بالی وڈ کے معروف سکرپٹ رائٹر سلیم خان نے اپنے بیٹے سلمان خان کے ریپ سے متعلق بیان پر معافی مانگی ہے۔

سلمان خان نے اپنی آنے والی فلم ’سلطان‘ کے سلسلے میں ایک انٹرویو میں کہا تھا: ’جب میں شوٹنگ کے بعد اکھاڑے سے باہر نکلتا تھا تو ریپ کی شکار کسی عورت کی طرح محسوس کرتا تھا۔ میں سیدھا تک نہیں چل پاتا تھا۔‘

شوٹنگ کے سخت تجربے کو ریپ سے تشبیہ دینے پر سلمان خان کی میڈیا اور سوشل میڈیا پر تنقید ہو رہی ہے۔

اس معاملے پر سلیم خان نے ٹویٹ کیا: ’بلا شک، سلمان نے جو کہا وہ غلط ہے، جو موازنہ کیا، جو مثال دی جو حوالہ دیا، اس کا مقصد غلط نہیں تھا۔‘

اس مسئلے کو طول نہ دینے کی اپیل کرتے ہوئے انھوں نے لکھا کہ ’انسان سے غلطی ہو جاتی ہے اور بین الاقوامی یوگا کے دن ہمیں اپنی اپنی دکان ایک غلطی پر نہیں چلانی چاہیے۔‘

تاہم انھوں نے کہا: ’پھر بھی، میں اپنے خاندان، اس (سلمان) کے فین اور دوستوں کی طرف سے معافی مانگتا ہوں۔‘

Image caption سلیم خان کے ٹویٹس

فلم ’سلطان‘ میں سلمان خان ایک پہلوان کا کردار ادا کر رہے ہیں اور یہ عید کے موقعے پر ریلیز ہو رہی ہے۔

سلمان نے کہا تھا: چھ گھنٹے کی شوٹنگ کے دوران اٹھانا اور پٹخنا چلتا رہا تھا۔ یہ بہت مشکل تھا۔ مجھے 120 کلو کے آدمی کو دس مرتبہ اٹھانا پڑتا اور وہ بھی دس مختلف زاویوں سے۔‘

اور اسی تناظر میں شوٹنگ کی تکلیف کا موازنہ ریپ شدہ خاتون سے کیا تھا تاہم انھیں فورا اپنی غلطی کا احساس بھی ہو گیا تھا۔

اس معاملے پر سوشل میڈیا میں ان کی تنقید ہو رہی ہے جبکہ انڈیا میں قومی خواتین کمیشن نے بھی سلمان خان کو نوٹس دیا ہے اور سات دنوں میں جواب طلب کیا ہے۔

کمیشن کی صدر للتا كمارمنگلم نے بتایا کہ کمیشن نے نوٹس بھیج کر پوچھا ہے کہ انھوں نے ایسا کیوں کہا؟

تصویر کے کاپی رائٹ YRF films
Image caption یہ فلم عید کے موقعے پر ریلیز ہو رہی ہے

انھوں نے کہا کہ ’یہ دکھ کی بات ہے اور وہ ایسا بیان اس لیے نہیں دے سکتے ہیں کہ وہ سلمان خان ہیں۔‘

دوسری جانب آل انڈیا پروگریسیو وومن ایسوسی ایشن کی صدر کویتا کرشنن نے ریپ سے تشبیہ پر سلمان کے بجائے میڈیا کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

انھوں نے اپنے فیس بک پر لکھا: ’میں یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ آخر سلمان کے بیان پر اتنا ہنگامہ کیوں ہے حالانکہ انھوں نے فورا ہی اپنی بات واپس لے لی تھی (اور کہا تھا مجھے یہ نہیں کہنا چاہیے تھا) جبکہ ریپ کے متعلق لطیفوں اور اس سے متعلق تشبیہات کے وسیع ماحول پر سنجیدہ گفتگو کیوں نہیں؟ ایسا لگتا ہے کہ ہر کوئی اس پر بحث کرنے اور ایک سلیبریٹی کو تنقید کا نشانہ بنا کر خوش ہے۔‘

خیال رہے کہ سلمان خان پر متنازع بیانات کے لیے پہلے بھی تنقید ہوتی رہی ہے اور پہلے بھی ان کے لیے ان کے والد نے معافی طلب کر رکھی ہے۔

اسی بارے میں