انڈیا میں روایتی ساز کیوں غائب ہو رہے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ khushboo dua
Image caption بھارت میں کلاسیکی موسیقی کے آلات کے سازندوں میں بھی کمی آئی ہے

تیزی سے ڈیجیٹل ہوتے ہوئے زمانے میں موسیقی بھی ڈیجیٹل ہو گئی ہے۔

بڑے بڑے آرکسٹرا گروپس کی جگہ کسی کمپیوٹر، کی بورڈ اور سنتھیسائزر جیسی مشینوں نے لے لی ہے اور آج کے موسیقاروں کے پاس موجود اہم موسیقی کے آلات کی بھی جگہ مشینوں نے لی ہے۔

اب ایک ہی مشین سے ستار، سنتور، طبلہ اور بے شمار دیگر سازوں کی آوازیں اور دھنیں حاصل کی جاسکتی ہیں۔ ایسے میں مختلف قسم کے سازوں کا استعمال کم ہو گیا ہے اور نتجیتاً اس کی طلب اور فراہمی دونوں میں کمی آئی ہے۔

عالمی یوم موسیقی کے موقعے پر پر بی بی سی نے بعض انوکھے اور اب کم استعمال ہونے والے سازوں کے متعلق انڈیا میں اس کی سب سے بڑی کمپنی ’فرٹاڈوز‘ کے مالک اور ديگر ماہرین سے ان کے متعلق بات چیت کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ khushboo dua
Image caption مختلف اقسام کی بانسری اور دیگر ساز

فرٹاڈوز کے مالک جوزف گومز کہتے ہیں کہ ’انڈین نوجوانوں کو اب مغربی موسیقی کے ساز و آلات جیسے گٹار، کی بورڈ اور ڈرمز اپنی طرف زیادہ متوجہ کرتے ہیں لیکن کلاسیکی سازوں کی اپنی بات ہے۔

’ہندوستانی کلاسیکی سازوں کی دستیابی اس لیے بھی کم ہے کیونکہ طلب میں کمی آئی ہے۔ ان سازوں کو بنانے میں کافی وقت لگتا ہے اور ان پر خرچ بھی زیادہ آتا ہے جبکہ بنانے والوں کو ان کی مناسب قیمت نہیں مل پاتی۔‘

جن کلاسیکی سازوں کا استعمال کم ہوا ہے ان میں ہارمونیم بھی شامل ہے۔

ہارمونیم لکڑی اور ریڈ یعنی پیتل کی ایک مخصوص پٹی سے تیار کیا جاتا ہے۔ کسی زمانے میں کسی دھن کو بنانے کے لیے موسیقار ہارمونیم کو ہی سب سے مناسب ساز تسلیم کرتے تھے لیکن انڈیا کی موسیقی کی دنیا میں اب کی بورڈ نے ہارمونیم کی جگہ لے لی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ khushboo dua
Image caption طبلہ ذاکر حسین کے بعد کافی مقبول ہوا

ایک اچھے ہارمونیم کی قیمت تقریبا 14،500 روپے ہے جبکہ ہارمونیم کے طور پر استعمال ہونے والے کی بورڈ سے نہ صرف ہارمونیم بلکہ دوسرے کئی سازوں کی آوازیں نکالی جا سکتی ہیں اور یہ بازار میں 15000 روپے کی ابتدائی قیمت پر دستیاب ہے۔

سازوں میں ستار کا اپنا ہی مقام ہے لیکن یہ ایک مشکل ساز ہے۔ اس پر کوئی درست دھن بجانے کے لیے تقریبا ڈیڑھ سال لگ جاتے ہیں۔

گوالیار میں ستار کی تعلیم حاصل کرنے والی فلم مبصر گيتم شریواستو کہتی ہیں: ’ستار سیکھنے کے دنوں میں پہلی دھن صحیح نکالنے میں ہی مجھے ایک مہینہ لگ گیا تھا اور یقین جانیے میں ایک اچھی طالبہ تھی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ khushboo dua
Image caption اب مغربی ساز گیٹار نوجوانوں میں زیادہ مقبول ہے

جوزف گومز کے مطابق بھارت کی معروف موسیقی کی ایک اکیڈمی کے مالک نے انھیں بتایا تھا کہ آج کل ستار سیکھنے معدود چندد لوگ ہی آتے ہیں جبکہ پہلے ہزار سے بھی زیادہ طالب علم ستار سیکھنے آتے تھے۔

اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ستار کی جگہ اب ایک کمپیوٹر سافٹ ویئر ’وي ایس ٹي‘ نے لے لی ہے۔ کدو کے پھل سے بنایا جانے والا ستار بہت وزنی ہوتا ہے جبکہ وی ایس ٹی آپ کی لیپ ٹاپ میں آ سکتا ہے۔

جہاں کسی ستار کی قیمت 11 ہزار سے 30 ہزار تک ہو سکتی ہے، وہیں اس سافٹ ویئر کی کاپی بہت سے لوگ مفت حاصل کر لیتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ khushboo dua
Image caption سارنگی ایک مشکل ساز ہے

ہندی فلموں کے اثرات سازوں کی فروخت پر بھی نظر آئے ہیں۔ فلم ’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘ کے مینڈولن کی فروخت میں اضافہ ہوا تھا کیونکہ فلم میں شاہ رخ نے اسے بجایا تھا۔

فرٹاڈوز کے اعداد وشمار کے مطابق فلم کی ریلیز کے بعد راتوں رات مینڈولن کی فروخت میں اضافہ ہوا لیکن چھ ماہ بعد لوگ اسے واپس کرنے بھی آئے۔

لکڑی اور دھات دونوں ہی اقسام میں آنے والے مینڈولن کی قیمت چار ہزار سے شروع ہوتی ہے لیکن اب اس کی دھن کی بورڈ کے کچھ کامبینیشن سے حاصل کی جا سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ khushboo dua
Image caption ہارمونیم موسیقاروں کا محبوب ساز ہوا کرتا تھا

بھاری بھرکم اہم سازوں میں تانپورے کا شمار ہے۔ ستار کی طرح کدو سے ہی اس کا بھی بیس بنتا ہے اور اسے اٹھا کر لانا لے جانا مشکل امر ہے۔

تانپورے کی جگہ اب تقریبا مکمل طور پر ریڈيونما نظر آنے والے الیکٹرانک تانپورے نے لے لی ہے، جو محض چند ہزار میں دستیاب ہے۔ جبکہ اصلی تانپورے کی قیمت 15 ہزار سے زیادہ ہے اور یہ آرڈر پر ہی بنتا ہے۔

مشہور طلبہ نواز ذاکر حسین کی وجہ سے طبلہ ہندوستانی کلاسیکی سازوں میں تیزی سے مقبول ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ khushboo dua
Image caption فرٹاڈوز کمپنی کے مالک گومز

طبلہ پیٹے جانے والے سازوں کا سرخیل تصور کیا جاتا ہے اور اس کی قیمت تقریبا 11،500 روپے سے 60 ہزار تک جا سکتی ہے۔

فرٹاڈوز کے اعداد و شمار کے مطابق سنتور، سارنگی، پنجابی ڈھول اور پكھاوج جیسے خالص ہندوستانی سازوں کے خریدار بھی کم ہوئے ہیں۔

تقریبا 7500 روپے میں ملنے والے پكھاوج کی صحیح دھن حاصل کرنے کے لیے اس پر چمڑے سے بنی رسی کو کھینچنا پڑتا ہے جو کہ بہت ہی مشکل کام ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ khushboo dua
Image caption پیانو کبھی سٹیٹس سمبل سمجھا جاتا تھا

جبکہ سنتور کی ابتدائی قیمت تقریبا 13،250 روپے، سارنگی کی 16،000 اور پنجابی ڈھول کی قیمت 4،650 روپے ہے۔

ان اہم سازوں پر علیحدہ سے پیسہ لگانے کے بجائے موسیقار آج کل تھوڑے مہنگے کی بورڈ خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں جن سے ان تمام اہم سازوں کے علاوہ دیگر دھنیں بھی نکالی جا سکتی ہیں۔

پرانی فلموں میں اکثر کسی تقریب کے دوران ہیرو اور ہیروئن کو پیانو پر بیٹھ کر گیت گاتے دیکھا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ khushboo dua
Image caption نیا اور پرانا تانپورہ

اسے کبھی ’سٹیٹس سمبل‘ سمجھا جاتا تھا لیکن اب اس کے خریدار بھی کم ہوئے ہیں۔

فرٹاڈوز کے اعداد وشمار کے مطابق بہت سے نہ بکنے والے یا پرانے پیانو کو ردی کے بھاؤ فروخت کیا گیا ہے کیونکہ اس بڑے ساز کو چھوٹے سٹوڈیوز اور گھروں میں رکھنا ممکن نہیں رہا۔

ہاتھی دانت، شیشم کی لکڑی اور کئی بار دھات سے بھی اسے بنایا جاتا ہے اور اس کی قیمت ڈھائی لاکھ سے سات لاکھ تک ہو سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ khushboo dua
Image caption پنجابی ڈھول

پیانو کے متبادل کے طور پر موسیقار الیکٹرانک پیانو کا استعمال کرتے ہیں جو کسی چھوٹے کھلونے جیسے پیانو کی طرح نظر آتا ہے اور 35 ہزار کی ابتدائی قیمت میں دستیاب ہے۔

فرٹاڈوز کے مالک جوزف گومز کا خیال ہے کہ کلاسیکی بھارتی سازوں کو پھر سے مقبول بنانے میں بالی وڈ اہم کردار ادا کر سکتا ہے کیونکہ نوجوان اپنے ہیرو کو جس ساز کو بجاتے دیکھتے ہیں ان سے وہ تحریک حاصل کرتے ہیں۔

اسی بارے میں