100 کتابوں کے مصنف بونفوا چل بسے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شاعر کا کام ہمیں درخت دکھانا ہے، اس سے پہلے کہ ہمارا ذہن ہمیں بتائے کہ درخت کیا ہوتا ہے: بونفوا

فرینچ میڈیا کے مطابق فرانس کے مشہور شاعر ایو بونفوا 93 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔

وہ ایک سو کتابوں کے مصنف تھے جن کے 30 زبانوں میں تراجم ہو چکے ہیں۔

انھوں نے خود بھی متعدد تراجم کیے اور شیکسپیئر، ڈبلیو بی ییٹس، جان ڈن اور پیٹرارک کو فرانسیسی زبان میں منتقل کیا۔

ان کی شاعری کا اسلوب کسی حد تک ماورائے حقیقت تھا لیکن وہ ایسا ابہام ناپسند کرتے تھے جس سے قاری روزمرہ کی دنیا سے دور ہٹ جائے۔

بونفوا 1923 میں فرانسیسی شہر تور میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ مصوری میں بھی درک رکھتے تھے اور انھوں نے پابلو پکاسو، البیرتو جیکومیتی اور پیٹ موندریان جیسے جدید مصوروں کے فن پر تنقیدی مضامین تحریر کیے۔

بونفوا کا پہلا شعری مجموعہ 1946 میں منظرِ عام پر آیا، تاہم انھیں اپنی تیسری کتاب سے بڑے پیمانے پر شہرت ملی۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی شاعری کے ذریعے ’زبان کے سچ‘ سے استوار رہتے ہوئے ’زندگی کا فوری پن‘ حاصل کرنا چاہتے تھے۔

انھوں نے کہا: ’شاعر کا کام ہمیں درخت دکھانا ہے، اس سے پہلے کہ ہمارا ذہن ہمیں بتائے کہ درخت کیا ہوتا ہے۔‘

بونفوا کالج ڈی فرانس میں پڑھاتے تھے۔ انھوں نے کئی امریکی یونیورسٹیوں میں بھی تدریسی خدمات انجام دیں۔