’نئے سنیما کی تعمیر بھارتی فلموں کی وجہ سے ہوئی‘

صوبہ سندھ کے سینسر بورڈ کے سابق چیئرمین اور گلوکار فخر عالم کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سنیما بھارتی فلموں کی وجہ سے آباد ہوئے ہیں اور سینسر بورڈ میں اگر مولوی آگئے تو لو گ صرف چار منٹ کی ہی فلمیں دیکھ سکیں گے۔

فخر عالم نے بی بی سی اردو سے خصوصی بات چیت میں بتایا کہ امجد صابری کے قتل پر وہ اور دیگر فنکار اور گلوکار کافی افسردہ تھے اور انھوں نے جب اس پر رد عمل کا اظہار کیا تو حکومت اور عام لوگوں نے اس بات پر تنقید کی کہ وہ تو خود حکومت کا حصہ ہیں اس لیے وہ مستعفی ہوگئے۔

فخر عالم ایک سال سے زائد عرصے تک سندھ کے صوبائی سینسر بورڈ کے چیئرمین رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے انھیں مکمل فری ہینڈ دیا تھا۔ انھوں نے پہلا کام یہ کیا کہ پاکستانی فلم سے سینسر شپ فیس ختم کردی ورنہ پاکستانی فلموں کو بھی اتنے ہی پیسے دینے پڑتے تھے جتنے غیرملکی فلموں کو۔

’جتنی بھی غیر ملکی فلمیں آتی تھیں ان کے ڈسٹری بیوٹرز کہتے تھے کہ ایک دن میں سرٹیفیکیٹ جاری کریں اور ہم صبح صبح جاکر سنیما میں فلم دیکھتے تھے تاکہ سرٹیفیکیٹ دیں۔ مجھے خیال آیا کہ ہم جب پاسپورٹ بنواتے ہیں تو ریگولر پاسپورٹ کی فیس کم ہوتی ہے اور وہ 15 سے 20 روز میں آتا ہے۔ اگر ہم فاسٹ ٹریک پر جائیں تو وہ ڈبل پیسے لیتے ہیں۔ میں نے ڈسٹری بیوٹرز کو کہا کہ اگر آپ کو 75 گھنٹے میں سرٹیفیکٹ چاہیے تو 75 ہزار روپے دیں اور اگر دس روز میں چاہیے تو 35 ہزار۔ اس سے یہ ہوا کہ حکومت کا ریونیو تقریباً 400 فیصد بڑھ گیا۔‘

فخر عالم کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سینسر بورڈ کے پاس دو ہی کیگٹریز ہیں فلم کو یا تو بالغان کے حصے میں ڈالا جاتا ہے یا پھر کارٹون کے شعبے میں۔ انھوں نے مشورہ دیا کہ سرٹیفیکیشن کو بین الاقوامی معیار کے ہم آہنگ کیا جائے۔ اس حوالے سے انھوں نے سمری بناکر حکومت کو بھیج دی ہے اور وہ پر امید ہیں کہ آنے والے دنوں میں وہ منظور ہوجائے گی۔

’سینسر بورڈ کے مطابق ریاست، مذہبی عقیدے کو ٹھیس نہیں پہنچائی جاسکتی، فرقہ واریت کی بات نہیں کرسکتے، زیادہ تلخ سیاسی بات نہیں ہوسکتی، پاکستان کے پرچم کی توہین نہیں دکھائی جاسکتی اور فحاشی اور عریانیت کی اجازت نہیں۔‘

فخر عالم کا کہنا ہے کہ پاکستان کی فلموں میں ابھی تک تو بوسے کا سین نہیں آیا اس لیے کاٹا نہیں گیا تاہم بھارتی اور انگریزی فلموں کے ایسے مناظر پر ان کا موقف یہ ہوتا تھا کہ انھیں جانیں دیں یہ ان کے کلچر کا حصہ ہے۔

’بوسے کے سین میں بھی شدت اور نزاکت سمجھنی پڑتی ہے، یعنی منظر اور ماحول کیا ہے۔ سٹوری میں کس جگہ پر بات پہنچی ہے۔ یہ بے ہودگی ہے یا کہانی میں وہ وقت آگیا ہے کہ ہیرو نے ایک ایسا کام کرلیا کہ ہیروئن جذبات میں پگھلی چلی جا رہی ہے۔ بورڈ میں لبرل پالیسی کی ضرورت ہے اگر کسی مولوی صاحب کو بٹھا دیں تو پھر تو لوگوں کو چار منٹوں کی فلمیں دیکھنے کو ملیں گی۔‘

پاکستان فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے آئی ایس پی آر کا بھی ایک نمائندہ ہر سینسر بورڈ کا رکن ہے۔ فخر عالم کا دعویٰ ہے کہ ان کا کوئی بھی عمل دخل نہیں ہوتا ہے۔ بقول ان کے آدھا وقت تو انہیں منتیں کرنا پڑتی تھی کہ آجائیں دیکھ لیں وہ صرف مبصر کی حیثیت سے آتے تھے، حالانکہ وہ خود بھی یہ سمجھتے تھے کہ ان کا کوئی بہت عمل دخل ہوگا لیکن وہ کہتے تھے کہ آپ لوگ فیصلہ کرلیں۔

فخر عالم کا کہنا ہے کہ چاروں سینسر بورڈ خود مختار ہیں اور ان میں رابطے کا فقدان ہے۔ انھوں نے کہا کہ کچھ فلموں میں کچھ ایسے مناظر تھے جن کو وہ پاس کر رہے تھے جبکہ پنجاب اور وفاقی حکومتیں کہتی تھیں کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ان مناظر کو نکال دیا جائے۔ ان کا خیال ہے کہ رابطہ تعاون ہونا چاہیے۔

فخر عالم کا کہنا ہے کہ پاکستان میں نئے سنیما گھروں کی تعمیر بھارتی فلموں کی وجہ سے ہوئی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں پسند ہو یا نہ پسند ہو لیکن یہ جدت اور تعمیر انڈین فلموں کی وجہ سے آئی ہے کیونکہ شاہ رخ اور سلمان خان کی فلمیں دیکھنے عوام جاتی ہے۔

’اب نیا سنیما بن گیا، پاپ کارن آگئے قالین بچھ گئے اور ماحول صاف ستھرا ہوگیا۔ فلمیں آنے لگیں تو پاکستانی فلمیں بھی لگنا شروع ہوگئیں جب انہیں بزنس ملنے لگا ایسے میں پاکستانی سرمایہ کار اور پروڈیوسر نےسوچا کہ ہم بھی فلم بناتے ہیں۔ انھوں نے بھی پیسے لگانے شروع کردیے مطلب کہ ہماری فلمی صنعت بھارتی فلموں کے پشت پر پنپ رہی ہے۔‘

فخر عالم کے مطابق فلم کی ایک کامرس ہے کہ ہر ہفتے باکس آفس کو ایک نئی فلم چاہیے۔ ایک یا دو فلمیں نئی ہوں گی تو ہی لوگ واپس آئیں گے اور جب تک پاکستان ہفتے میں دو فلمیں پروڈیوس نہیں کرتا اس وقت تک دوسروں کی فلموں پر دارومدار رکھنا ہوگا۔

اسی بارے میں