’سیٹ پر شیروں سے زیادہ والد سے ڈر لگ رہا تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Ali Mohiuddin
Image caption اس فلم میں علی محی الدین کےح ساتھ بطور ہیروئن اداکارہ قرۃ العین نظر آئیں گی

مشہور فلم اداکار غلام محی الدین کے صاحبزادے علی محی الدین فلمی دنیا میں اپنا پہلا قدم رکھ چکے ہیں اور ان کی پہلی فلم ’سوال سات سو کروڑ ڈالر کا‘ اس عید الفطر پر ریلیز ہو چکی ہے جس میں وہ اپنے والد کے ساتھ بڑی سکرین پر نظر آئیں گے۔

فلم انڈسٹری کے اس نئے ہیرو کے خیال میں ان کی فلم پاکستان کی بڑی کمرشل فلم ہوگی اور عام لوگوں کو واپس سینما گھروں کی جانب راغب کرے گی۔

بی بی سی اردو سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ وہ فلم میں ایک چور کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

فلم میں سینیئر اداکار جاوید شیخ اور غلام محی الدین بھی انوکھے کردار نبھاتے ہوئے نظر آئیں گے۔ فلم کے ہدایت کار جمشید جان محمد کی بھی یہ پہلی فلم ہے اور وہ پاکستان فلم انڈسٹری کے سنہرے دور کے مشہور ہدایت کار جان محمد کے صاحبزادے ہیں۔

علی محی الدین نے بتایا: ’فلم انڈرورلڈ کے بارے میں ہے جو تھائی لینڈ میں شوٹ کی گئی ہے، میرے علاوہ میرے ہدایت کار جمشید محمد اور میرے مقابل ہیروئین کا کردار نبھانے والی اداکارہ قرۃ العین سب اپنے کیرئیر کا آغاز اس فلم سے کر رہے ہیں۔‘

فلم میں شمعون عباسی اور نیئر عجاز جیسے بڑے نام بھی شامل ہیں۔

علی کے مطابق یہ فلم اپنی نوعیت کی بڑی کمرشل فلم ہے۔ گو کہ حال ہی میں لڑکھڑاتی پاکستان فلم انڈسٹری میں زندگی کی ایک نئی لہر دوڑتی نظر آئی ہے لیکن زیادہ تر فلمیں پیرالیل سنیما سے تعلق رکھتی ہیں، جو پھر ایک مخصوص طبقے کو ٹارگٹ کرتی نظر آ رہی ہیں۔’

فلم کے ہیرو علی محی الدین کے کا کہنا ہے کہ ’میرے اور میرے ڈائیریکٹر کا ماننا ہے کہ فلم میں صرف تین چیزیں بہت اہم ہیں اور وہ ہیں اینٹر ٹینمنٹ، اینٹرٹینمنٹ اور اینٹرٹینمنٹ۔‘

انھوں نے ہنستے ہوئے بتایا: ’ہماری فلم میں کوئی خاص پیغام نہیں ہے، ہم بس چاہتے ہیں لوگ ہماری فلم سے لطف اندوز ہوں اور ہمیں یاد رکھیں۔‘

جب علی سے پوچھا گیا کہ وہ اپنے والد اور منجھے ہوئے اداکار غلام محی الدین کے ساتھ اداکاری کرتے ہوئے گھبرائے تو نہیں تو انہوں نے کہا: ’دباؤ تو ہوتا ہے لیکن ایک اچھے اداکار کو اپنے ہنر کو اس بات سے متاثر نہیں ہونے دینا چاہیے کہ سامنے کتنا بڑا نام ہے اور یہی اصل کمال ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ایک سین میں سیٹ پر شیر موجود تھے اور میرے والد اور جاوید شیخ بھی، اس موقعے پر مجھے شیروں سے زیادہ ہماری فلم انڈسٹری کے ان دونوں شیروں سے ڈر لگ رہا تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Ali Mohiuddin
Image caption فلم میں سینیئر اداکار جاوید شیخ اور غلام محی الدین بھی انوکھے کردار نبھاتے ہوئے نظر آئیں گے

علی محی الدین نے مزید بتایا کہ ان کی فلم سوال سات سو کڑوڑ ڈالر کا میں ٹیکنالوجی کا جس سطح پر استعمال کیا گیا ہے ویسا شاید کسی پاکستانی فلم میں پہلے کبھی نہیں کیا گیا۔

’“سی جی آئی اور سپیشل افیکٹس آپ کو اس فلم میں بھرپور انداز میں دیکھنے کو ملیں گے اور یہ تمام کام پاکستان میں ہوا ہے، مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ ایسا جدید نوعیت کا کام پاکستان میں بھی ہوتا ہے۔‘

علی محی الدین کے مطابق پاکستان کی زوال پذیر انڈسٹری کا مستقبل روشن ہوتا جا رہا ہے۔

’ہر صنعت میں برا اور اچھا دور آتا ہے لیکن یہ مستقل نہیں ہوتا۔ اب نئے ہدایت کار، اداکار اور دیگر ماہرین باقاعدہ فلم پڑھ کر نئے خیالات کے ساتھ فلمیں بنا رہے ہیں اور یہ نہایت مثبت قدم ہے ہماری انڈسٹری کے لیے۔‘

انھوں نے کہا کہ جب نئے ٹرینڈ کا پرانی روایات کے ساتھ امتزاج کیا جائے تو اور بہتر فلمیں بنائی جا سکتی ہیں۔

’ہمیں اپنی فلم انڈسٹری کے پرانے لوگوں کے تجربے سے بھی فائدہ اٹھانا ہوگا، نہ کہ ان کو پیچھے چھوڑ دیں۔ اس طرح ہم کسی پہلو سے بھی مار نہیں کھائیں گے اور فخر کے ساتھ اپنی فلموں کی نمائش دنیا میں کہیں بھی کرنے کے قابل ہوں گے۔‘

اسی بارے میں