انڈیا کی خواتین داستان گو کا چیلنج

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption فوزیہ نے اب تک 88 شوز کیے ہیں

حالیہ برسوں میں انڈیا میں داستان گوئی کے فن کو حیات نو بخشی جا رہی ہے لیکن اس میدان میں زیادہ تر مردوں کا غلبہ ہے۔ اناسویا باسو نے دو خواتین داستان گو سے ملاقات کی جو اس میدان میں مرد داستان گو کو چیلنج دے رہی ہیں۔

دہلی کی پروردہ فوزیہ کہتی ہیں کہ ان کے لیے داستانیں بچپن سے پرکشش رہی ہیں۔ فوزیہ تیس کے پیٹے میں ہیں۔

ان کی ماں انھیں اکثر متنبہ کرتی ہیں کہ ’کہانیاں بنانے سے وہ کسی دن پریشانی میں گھر لوٹے گی‘ لیکن وہ کہانی کی ہر وہ کتاب پڑھنے سے نہیں رکیں جو ان کے موٹر میکنک والد ان کے لیے لا سکتے تھے۔

فوزیہ کی ماں انھیں اردو کی کلاسیکی کہانیاں پڑھ کر سناتی تھیں اور اسی سے ان کے تخیل کو پر لگے۔

اور آج فوزیہ کا شمار اردو کی معروف داستان گو میں ہوتا ہے۔ ان کے بیان میں مہمات، طلسم اور رزم کی داستانیں ہوتی ہیں۔

ارود ہفتہ روزہ ’نئی دنیا کے مدیر شاہد صدیقی نے بتایا کہ ’داستان گوئی دو الفاظ کا مرکب ہے اور یہ فن وسط ایشیائی ممالک اور ایران میں بہت مقبول ہوا کرتا تھا۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’16ویں صدی میں اسے دکن میں شاہی سرپرستی حاصل رہی اور یہ ایک سنجیدہ فن کے روپ میں ابھرا۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ’مغل دور میں بادشاہ اکبر بذات خود ایک ماہر داستان گو تھا اور اس نے اس فن کو مقبول بنانے کی کوشش کی۔‘

اور آج 21 ویں صدی میں فوزیہ خواتین کے اس چھوٹے سے گروہ کا حصہ ہیں جو اس فن کو حیات نو بخشنے میں مصروف ہے۔ انھوں نے شادی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اپنی زندگی داستان گوئی کو وقف کردی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption پونم گذشتہ پانچ سال سے داستان گوئی کے میدان میں ہیں

انھوں نے بتایا: ’میں نے اردو کی کلاسیکی کہانیاں پڑھنے کے لیے سکول میں اردو سیکھی۔ مجھے معلوم تھا کہ افسانوی دنیا میں مجھے کچھ عظیم کارنامہ انجام دینا ہے۔ میں نے ایک اچھی نوکری پر داستان گوئی کو ترجیح دی اور میرے گھروالوں نے ہر قدم پر میری مدد کی۔‘

انھوں نے ٹیوشن پڑھا کر اپنی تعلیم جاری رکھی اور ہندی زبان میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی اور ایک غیر سرکاری ادارے میں پروجیکٹ مینجر کے طور پر کام کرنے لگیں۔ پھر انھوں نے نوکری چھوڑ کر داستان گوئی کی تربیت کے لیے محمود فاروقی کے پاس گئیں جوکہ اس نایاب فن کی احیا میں مصروف ہیں۔

انھیں یاد ہے کہ جب انھوں نے سنہ 2006 میں پہلی بار پرفارم کیا تھا تو لوگ ایک خاتون داستان گو کو دیکھ کر حیران رہ گئے تھے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’خواتین خلوت میں اپنے گھروں میں کہانی تو کہتی ہیں لیکن عوامی سطح پر نہیں لیکن میں نے اسے بدلنے کی کوشش کی اور ملک بھر میں ابھی تک 88 شوز پیش کیے۔‘

انھوں نے کہا کہ ایک مسلمان خاتون کی حیثیت سے اس روش کو توڑ پانا بہت مشکل تھا۔

معروف ڈرامہ نگار دانش اقبال نے فوزیہ کی جدوجہد کو دیکھا ہے۔ انھوں نے کہا: ’اپنے خاندانی پس منظر اور بغیر کسی سرپرستی کے انھوں نے قابل قدر کام کیا ہے اور سماجی دباؤ یا تنقید کی پروا کیے بغیر انھوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔‘

اقبال نے بتایا کہ انھوں نے ’کبھی شارٹ کٹ کا استعمال نہیں کیا اور شو کے لیے چھ ماہ تک تیاری کی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption فوزیہ نے محمود فاروقی سے تربیت حاصل کی

دوسری خواتین نے بھی اس فن کو اپنایا۔ ان میں ایک پونم گردھاری ہیں جو کہ ایک آزاد صحافی اور ریڈیو آرٹسٹ ہیں۔ پانچ سال قبل انھوں نے اپنی جھجک کو طاق پر رکھا اور فوزیہ کے ساتھ کئی بار سٹیج شیئر کیا۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا: ’میں گذشتہ پانچ برسوں سے داستان گوئی کر رہی ہوں۔ جو لوگ ہندی اور اردو نہیں بول سکتے وہ بھی ہمارے شو میں آتے ہیں۔‘

ان کا سب سے کامیاب شو محمود فاروقی کی ٹیم میں ’ایلس کی داستان‘ تھی جو کہ لیوس کیرل کی تصنیف سے ماخوذ ہے اور لوگوں نے ان کے بیان کو پسند کیا۔

پونم گردھانی نے کہا ’داستان گو کے لیے سب سے بڑا انعام یہ ہے کہ سامعین کو اس دنیا میں پہنچا دے جہاں کہانی ہے اور صرف الفاظ کی ادائیگی سے طلسم پیدا کر دے۔‘

جبکہ محمود فاروقی کا کہنا ہے کہ داستان گوئی میں تفریح کا انتہائی مقبول ذریعہ بننے کی بہت صلاحیت ہے۔

اسی بارے میں