قندیل بلوچ قتل، مزید دو افراد زیرِ حراست

Image caption قندیل بلوچ نے پاکستانی سوشل میڈیا پر اپنی ویڈیوز کی وجہ سے شہرت حاصل کی تھی

جنوبی پنجاب کے شہر ملتان میں پولیس نے پاکستانی ماڈل قندیل بلوچ کے مقدمۂ قتل میں مزید دو افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

قندیل بلوچ کو 15 جولائی کی شب ان کے بھائی محمد وسیم نے قتل کر دیا تھا۔

٭پاکستانی ماڈل قندیل بلوچ کا قتل، کب کیا ہوا؟

٭ ’قندیل ہمار سہارا تھی، بیٹے کو معاف نہیں کریں گے‘

پولیس نے مرکزی ملزم وسیم کو قتل کے اگلے ہی دن ڈیرہ غازی خان سے حراست میں لے لیا تھا اور اس سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

مقدمے کی تفتیشی افسر عطیہ جعفری نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ حق نواز اور عباس نامی افراد کو محمد وسیم سے کی گئی تفتیش کی روشنی میں حراست میں لیا گیا ہے اور اب ان سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

گرفتار کیے گئے افراد میں سے حق نواز وسیم کا رشتہ دار ہے جبکہ محمد عباس وہ ٹیکسی ڈرائیور ہے جو قندیل بلوچ کے قتل کے بعد ملزم وسیم کو ڈیرہ غازی خان لے کر گیا تھا۔

تفتیشی افسر نے بتایا کہ ملزم وسیم کے اقبالی بیان کی روشنی میں ان دونوں افراد کا قندیل بلوچ کے قتل میں کوئی کردار نہیں ہے تاہم اس سلسلے میں حتمی صورتحال تفتیش کے بعد ہی واضح ہو گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس نے مرکزی ملزم وسیم کو قتل کے اگلے ہی دن ڈیرہ غازی خان سے حراست میں لے لیا تھا اور اس سے تفتیش کی جا رہی ہے

خیال رہے کہ مقتولہ کی والدہ انور بی بی نے بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ وسیم نے انھیں ’نشہ آور دودھ پلانے کے بعد اپنے ایک دوست کو بلایا تاکہ قندیل کو قتل کیا جا سکے۔‘

خاتون پولیس انسپکٹر کا کہنا تھا کہ اس مقدمے میں نامزد دوسرے ملزم نائب صوبیدار اسلم شاہین کو شاملِ تفتیش کرنے کے لیے اُن کے کمانڈر کو خط لکھا گیا ہے لیکن ابھی تک اس کا جواب موصول نہیں ہوا اور نہ ہی ملزم خود بیان دینے کے لیے تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہوا ہے۔

ملزم اسلم شاہین کو اعانت مجرمانہ کی دفعہ 109 کے تحت اس مقدمے میں مقتولہ کے والد محمد عظیم نے نامزد کیا ہے تاہم اب ان کا کہنا ہے کہ ایسا انھوں نے غصّے کی حالت میں کیا اور اسلم کا اس قتل سے کوئی تعلق نہیں۔

عطیہ جعفری کا بھی کہنا تھا کہ ملزم اسلم شاہین کو اس وقت تک گرفتار نہیں کیا جائے گا جب تک اُن کے قندیل بلوچ کے قتل میں ملوث ہونے کے واضح ثبوت نہیں مل جاتے۔

تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ پولیس نے ملزم وسیم کے زیر استعمال موبائل فون کا ڈیٹا بھی نکلوا لیا ہے تاکہ اس بات کا پتا چلایا جا سکے کہ قتل کی واردات سے پہلے ملزم کا کس سے رابطہ رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption قندیل کو ان کے آبائی گاؤں میں سپردِ خاک کیا گیا ہے

عطیہ جعفری کا کہنا ہے کہ اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم نے مفتی عبدالقوی خان کو بھی شامل تفتیش ہونے کے لیے طلب کر لیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ مفتی قوی کا بیان لینے کے بعد اُن سے قتل سے پہلے اُن کے ساتھ قندیل بلوچ کی تصاویر اور دیگر معاملات پر پوچھ گچھ کی جائے گی۔

ملتان پولیس نے ملزم وسیم کی اہلیہ اور اس کی بھابھی کو بھی پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان دونوں خواتین کا بیان لینے کے بعد اُنھیں چھوڑ دیا جائے گا۔

دوسری جانب ڈی آئی جی ملتان رینج سلطان اعظم تیوری نے قندیل بلوچ کے قتل کے مقدمے کی تفتیش پیشہ ورانہ انداز میں نہ کرنے پر تفتیشی ٹیم کے سربراہ ایس پی سیف اللہ خٹک سے بھی وضاحت طلب کی ہے۔

اسی بارے میں