سلمان خان ہرن کے غیر قانونی شکار کے مقدمات میں بری

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ستمبر سنہ 1998 کو ہرن کے شکار کے معاملے میں سلمان خان اور بعض دوسرے اداکاروں کے خلاف کیس درج کیا گيا تھا

راجستھان کی ہائی کورٹ نے بالی وڈ کے اداکار سلمان خان کو ہرن کے غیر قانونی شکار سے متعلق دو مقدمات میں بری کر دیا ہے۔

اس سے قبل اسی کیس میں راجستھان کی ایک ذیلی عدالت نے انھیں پانچ برس قید کی سزا سنائی تھی۔

ہائی کورٹ نے ذیلی عدالت کے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے انھیں بری کر دیا ہے۔

27 ستمبر سنہ 1998 کو ہرن کے شکار کے معاملے پر سلمان خان اور بعض دوسرے اداکاروں کے خلاف کیس درج کیا گيا تھا۔

اس وقت وہ راجستھان کے ایک ریگستان میں اپنی ایک فلم کی شوٹنگ کر رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شکار کا کیس درج ہونے کے بعد سلمان کو جیل بھیج دیا گيا تھا اور ضمانت کے بعد کئی روز بعد جیل سے باہر آئے تھے

ان پر الزام تھا کہ انھوں نے بندوق سے اس ہرن کا شکار کیا جو قانونی طور پر نایاب جانور ہے اور جس کے شکار پر پابندی عائد ہے۔

لیکن ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اس بات کے کوئي شواہد نہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ مردہ پائے جانے والے ہرن سلمان خان کی لائسنس شدہ بندوق سے مارے گئے تھے۔

خبروں کے مطابق جو جیپ سلمان خان استعمال کر رہے تھے وہ آج تک برآمد نہیں ہوئی اور اس کا ڈرائیور بھی لاپتہ رہا۔

پیر کو عدالتی کارروائی کے وقت خود سلمان عدالت میں موجود نہیں تھے۔

یہ واقعہ فلم ’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘ کی شوٹنگ کے دوران پیش آیا تھا۔

اس فلم میں سلمان خان کے ساتھ اداکار سیف علی خان، تبو، سونالی بیندرے اور نیلم سمیت کئی دوسرے اداکار بھی تھے۔

مقدمہ بعض دیگر اداکاروں کے خلاف بھی درج کیا گیا تھا لیکن ابھی ان کے کیس کا فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

اسی بارے میں