’وقت تبدیل ہو رہا ہے اور اچھی فلمیں بن رہی ہیں‘

Image caption جامی نے کہنا ہے کہ پاکستانی فلم انڈسٹری میں اچھے لکھاریوں کی کمی ہے

پاکستانی فلم ساز اور ہدایت کار جامی کا کہنا ہے کہ کسی بھی فلم کی کامیابی کے لیے اُس میں آئٹم سانگ کا ہونا ضروری نہیں ہے۔

کراچی میں منعقدہ 2016 لکس سٹائل ایوارڈز میں بہترین فلم اور بہترین ہدایتکار کا ایوارڈ حاصل کرنے والی فلم ’مور‘ کے ہدایتکار جامی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک اچھا موضوع فلم کی کامیابی کے لیے کافی ہوتا ہے۔

جامی کا اصل نام جمشید محمود رضا ہے تاہم وہ شوبز کی دنیا میں جامی کے نام سے جانے جاتے ہیں۔

جامی کا کہنا ہے کہ پاکستانی فلم انڈسٹری میں اچھے لکھاریوں کی کمی ہے اور اگر تھوڑی سی محنت کی جائے تو اس فلم انڈسٹری میں اچھی فلمیں بن سکتی ہے۔

جامی نے کہا کہ انھیں یہ اُمید نہیں تھی کہ اُن کے فلم کو دو ایوارڈز ملیں گے جس کی وجہ انھوں نے اپنی فلم میں کوئی بھی آئٹم سانگ نہ ہونا بتائی۔

’ایک عرصے تک تو کسی نے بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ اس فلم انڈسٹری سے بھی اچھی فلمیں بنیں گی ہمیں ایک خستہ حال فلم انڈسٹری ملی تھی مگر اب وقت تبدیل ہو رہا ہے اور اچھی فلمیں بن رہی ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Moor

انھوں نے صوبہ بلوچستان میں غربت اور دیگر مسائل کا ذکر کرتے ہوئے انہی حالات کو اس فلم کے بننے کی وجہ بھی قرار دیا۔

واضح رہے کہ مور پشتو زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ماں ہیں۔ فلم مور کی کہانی بلوچستان میں ریلوے کے ایک ریٹائرڈ سٹیشن ماسٹر کی زندگی کے گرد گھومتی ہے جو اپنی غربت اور کسمپُرسی کی زندگی جی رہا ہے اور اُس کا بیٹا کراچی جا کر جعلی ڈگریوں کا کام کرتا ہے۔

اس فلم کو سنہ 2016 میں ہونے والے 88 ویں آسکر ایوارڈز میں غیر ملکی زبان کی فلموں کی کیٹیگری میں پاکستان کی جانب سے نامزدگی کے طور پر بھی منتخب کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں