نہ جانے کتنے لڑکے محمد رفیع سے ملنے بھاگے ہوں گے؟

تصویر کے کاپی رائٹ hallway
Image caption محمد رفیع کو چھ بار فلم فیئر کی جانب سے بہترین گلوکار کے ایوارڈ سے نوازا گيا

یہ سنہ 1980 کے اوائل کی بات ہے سکول میں سراسیمگی اور ہراس کا ماحول تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ ہمارے سکول کا سب سے مقبول لڑکا بھاگ گیا تھا۔

افراتفری کے عالم میں شام تک یہ پتہ چل گیا کہ بہار کے ایک دور افتادہ گاؤں سے اس نے بمبئی کے لیے ٹرین پکڑ لی اور اپنے بہت ہی قریبی دوست کو اس نے بتایا تھا کہ وہ انڈیا کے سدا بہار گلوکار محمد رفیع سے ملاقات کے لیے جا رہا ہے۔

آواز تو اس کے پاس خداداد تھی اور وہ ہمارے سکول (مولانا آزاد اردو ہائی سکول، خیروا) میں محمد رفیع کے نام سے مشہور تھا۔ کہیں نہ کہیں لوگ اسے روک کر کچھ نہ کچھ سنتے رہتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Yasmin Rafi
Image caption محمد رفیع اور محمد علی دلوں پر حکمرانی کرنے والے دو دنیا کے دو لیجنڈ

ظفر امام عرف لڈو نے تقریباً دو ہزار کلومیٹر کا سفر محمد رفیع سے ملنے کے لیے تنہا طے کیا۔ پھر گرمیوں کے اوائل میں وہ واپس آگیا۔ اس نے بتایا کہ اس کی محمد رفیع سے ملاقات ہوئی اور ہم نے اس کا اعتبار کیا۔

پھر ایک ماہ سے ذرا زیادہ عرصے کے بعد پتہ چلا کہ محمد رفیع نے اس دار فانی کو الوداع (31جولائی سنہ 1980) کہا۔

یہ دور ریڈیو کا تھا جب انڈیا کے بیشتر ریڈیو سٹیشن سے محمد رفیع اور لتا منگیشکر کے نغمے گونجا کرتے تھے اور آج بھی گونجتے ہیں۔

Image caption محمد رفیع کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے مکیش کو ایک نئی زندگی بخشی تھی

’تم مجھے یوں بھلا نہ پاؤگے‘، ’آ جا تجھ کو پکارے میرے گیت رے‘، ’آواز میں نہ دونگا‘، ’راہی منوا دکھ کی چنتا کیوں ستاتی ہے‘، ’کہیں میں کوی نہ بن جاؤں‘، ’چلو دلدار چلو‘ جیسے گیت ہر جگہ سے کانوں میں رس گھولتے تھے۔

یہ ایک ظفر امام عرف لڈو کی بات نہیں ہے۔ نہ جانے ہندوستان کے کس کس گوشے سے کتنے لڈو اور ظفر امام نے محمد رفیع سے ملنے کے لیے مہم جوئی کی ہو۔

بہر حال ہمارے ایک رشتے کے بہنوئی مرزا مخلص الرحان بيگ سنہ 80 کی دہائی میں ممبئی سے نوکری وغیرہ چھوڑ کر فارم ہاؤس کے خواب سجا کر واپس گاؤں آ گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ YASMIN K RAFI
Image caption محمد رفیع ایک شرمیلے اور کم گو انسان رہے

وہ اپنے دائرے میں اچھے گلوکار تسلیم کیے جاتے تھے اور انھوں نے ممبئی میں ایک عرصہ گزارا تھا۔ ہم انھیں طلعت محمود کے نام سے یاد کرتے تھے کیونکہ وہ طلعت کے گیت ان سے کم بہتر نہیں گاتے تھے۔

ایک فن کار کی طرح وہ بہت ہی موڈی تھے لیکن انھوں نے میری فرمائش پر کھبی ’نہیں‘ نہیں کہا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ ان کی کبھی رفیع صاحب سے ملاقات ہوئی ہے تو انھوں نے حامی بھری اور پھر بعض ذرائع سے پتہ چلا کہ وہ دونوں کی مجالس سے فیض یاب رہ چکے ہیں۔

میں نے دریافت کیا کہ آپ رفیع کے گیت کم گاتے ہیں تو انھوں نے بتایا کہ ان کا رینج بہت وسیع ہے اور یہ کہ ان کی نقل میں ان کی آواز پھٹ جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ YASMIN K RAFI
Image caption محمد رفیع اپنی اہلیہ کے ہمراہ

انھوں نے بتایا کہ ابتدا میں محمد رفیع یہ دعا کرتے تھے کہ ان کی آواز طلعت جیسی ہو اور پھر انھوں نے ایک ہی قبیل کے گیتوں کے بارے میں بتایا۔

مخلص بھائی تو لتا، آشا، کشور، رفیع اور مکیش سبھی کے گیت گا لیتے تھے لیکن لڈو کا اختصاص صرف محمد رفیع تھے اور کیوں نہ ہو کہ محمد رفیع کی طرز کو اپنانے والے گلوکار آج بھی اپنا لوہا منواتے ہیں۔

گذشتہ دنوں میں نے ظفر سے ایک گیت کی فرمائش کی اور اس نے محمد رفیع کا گیت ’کہیں میں کوی نہ بن جاؤں‘ سنایا اور میں سوچ رہا تھا کہ محمد رفیع کی آواز کو سن کر نہ جانے کتنے لوگ کوی (شاعر) نہیں تو گلوکار بن گئے ہوں گے اور آرکسٹرا میں ان کے گائے گیتوں پر کتنی زندگیاں منحصر رہیں ہوں گی اس کا کوئی شمار نہیں۔

Image caption سونو نگم سے قبل بھی محمد رفیع کے زیر اثر گانے والے گلوکار رہے ہیں

آج محمد رفیع کو دنیا کو الوداع کہے ہوئے 36 سال ہو چکے ہیں لیکن ان کی آواز آج بھی بہت سے دلوں کی دھڑکن ہے، بس طبیعت بحال ہو جاتی ہے۔

لوگوں نے تو ان کے تقریبا سارے گیتوں کو سراہا، دل میں بسایا لیکن محمد رفیع کا اپنا پسندیدہ گیت ’سہانی رات ڈھل چکی‘ تھا۔

اسی بارے میں