جاپانی کارٹون ڈورے مون پر پابندی کا مطالبہ

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے پنجاب اسمبلی میں جاپانی کارٹون سیریز ڈورے مون پر پابندی کے حوالے سے قرارداد جمع کروائی گئی ہے۔

بدھ کو پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی ملک تیمور کی جانب سے جمع کروائی گئی قرارداد میں پیمرا سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ملک میں نشر کیے جانے والے کارٹون چینلز بند کیے جائیں اور خصوصاً ڈورے مون کے کارٹون پر پابندی لگائی جائے۔

٭ ڈورے مون پر پابندی، بی بی سی اردو کا فیس بک لائیو

قرارداد میں یہ تو نہیں واضح کیا گیا کہ رکنِ اسمبلی کو اس مخصوص کارٹون سیریز پر کیا اعتراض ہے تاہم اس میں کہا گیا ہے کہ کارٹون چینلز کے بچوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

اس قرارداد میں کارٹون چینلز کی نشریات کا دورانیہ بھی کم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ 24 گھنٹے نشریات دکھانے والے ان کارٹون چینلز سے بچوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور ان سے بچوں کی تعلیمی و جسمانی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔

اس قرارداد میں کارٹونز کی زبان پر بھی اعتراض کیا گیا ہے اور موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایسی ’زبان ہماری معاشرتی اقدار کو تباہ کر رہی ہے‘۔ تاہم اس بارے میں بھی مزید کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔

پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع ہونے کی خبر سامنے آنے کے بعد پاکستان میں سماجی روابط کی ویب سائٹس پر اس معاملے پر بحث چھڑ گئی اور مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر #PTIvsDoraemon کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرتا رہا۔

بی بی سی اردو بھی نے اس موضوع پر عوام کی رائے جاننے کے لیے اسلام آباد کی سپر مارکیٹ سے فیس بُک لائیو پیش کیا جس میں چوتھی جماعت کی طالبہ علینا نے بات کی اور اس کارٹون کے بارے میں بتایا کہ یہ ایک ایسے بچے کے بارے میں ہیں جو مختلف مسائل کا مقابلہ کرتا ہے۔

اس موقع پر بچی کی والدہ پلوشہ نے کہا کہ قانون سازی سے مسائل حل نہیں ہوتے اور بہت ساری ذمہ داری والدین کی بھی ہے۔

فیس بُک لائیو کے دوران بی بی سی کے قارئین و ناظرین نے بھی اس معاملے پر تبصرے کیے۔

جمیل عباسی نے لکھا ’'ڈورے مون کارٹون میرے دونوں بچے دیکھتے رہتے ہیں اور کبھی میں بھی ان کے ساتھ دیکھ لیتا ہوں۔ مجھے آج تک اس میں کچھ ایسا محسوس نہیں ہوا کہ ان کو بند کرنے کی ضرورت ہو۔جاپانی معاشرہ اخلاقیات کے لحاظ سے اچھی ساکھ رکھتا ہے اور اس کو بند کرنے کی بات کرنے والے شاید بند دماغ رکھتے ہیں۔‘

دوسری جانب ارسلان عثمان کا کہنا تھا کہ ’ایسے والدین جو اپنے بچوں پر کنٹرول نہیں رکھتے ان پر پابندی لگنے چاہیے نہ کہ کارٹون پر۔‘

فُجیرہ متحدہ عرب امارات سے انجم فاروقی نے لکھا کہ ’حد سے زیادہ دیر تک دیکھنا نامناسب ہے ورنہ بچوں کو خوش ہونے دیں۔‘

اسی بارے میں