مقبول اداکارہ و ہدایت کارہ شمیم آرا چل بسیں

تصویر کے کاپی رائٹ youtube.com
Image caption شمیم آرا نے پاکستان کی پہلی رنگین فلم نائلہ میں کام کیا

ماضی کی مشہور اداکارہ اور ہدایت کارہ شمیم آرا طویل علالت کے بعد لندن میں انتقال کر گئی ہیں۔

اکتوبر 2010 میں لندن میں آپریشن کے بعد سے وہ مسلسل علیل تھیں اور جمعے کو 78 برس کی عمر میں چل بسیں۔

سنہ 1938 میں علی گڑھ میں پیدا ہونے والی شمیم آرا کا اصل نام پتلی بائی تھا، لیکن فلمی ضرورت کے تحت بدل کر اسے شمیم آرا کر دیا گیا تھا۔

تقسیمِ برصغیر کے بعد ان کا خاندان کراچی منتقل ہو گیا تھا۔

ان کی پہلی فلم کنواری بیوہ تھی جسے باکس آفس پر کچھ خاص کامیابی حاصل نہیں ہو سکی، البتہ لوگوں کو ایک نئی اداکارہ کا انداز بھا گیا۔

اس کے بعد انھیں مختلف قسم کے کردار ملتے رہے۔ بالآخر 1960 میں شمیم آرا نے فلم ’سہیلی‘ میں نگار ایوارڈ حاصل کر کے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا۔

اس کے بعد انھوں نے 80 سے زیادہ فلموں میں کام کیا جن میں پاکستان کی پہلی رنگین فلم نائلہ بھی شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTV
Image caption شمیم آرا خاصے عرصے سے علیل تھیں

شمیم آرا کی چند مقبول فلموں میں ’دیوداس،‘ ’صائقہ،‘ ’لاکھوں میں ایک،‘ ’انارکلی،‘ ’چنگاری،‘ ’فرنگی،‘ ’دوراہا،‘ ’منڈا بگڑا جائے،‘ وغیرہ شامل ہیں۔ وحید مراد کے ساتھ ان کی جوڑی کو شائقینِ فلم میں بےحد پذیرائی ملی۔

فلم ’قیدی‘ میں فیض احمد فیض کی مشہور نظم ’مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ‘ انھی پر فلمائی گئی تھی جسے بےحد مقبولیت حاصل ہوئی۔

شمیم آرا کی پہلی شادی سردار رند سے ہوئی تھی۔ ان کے انتقال کے بعد انھوں نے دو اور شادیاں کیں لیکن دونوں زیادہ دیر نہیں چل سکیں البتہ سکرپٹ رائٹر دبیر الحسن سے ان کی چوتھی شادی آخر تک چلی۔

1989 میں آنے والی پنجابی فلم ’تیس مار خان‘ شمیم آرا کی بطورِ اداکارہ آخری فلم ثابت ہوئی، جس کے بعد انھوں نے ہدایت کاری کے میدان میں قسمت آزمائی کی اور ’جیو اور جینے دو،‘ ’پلے بوائے،‘ ’مس ہانگ کانگ،‘ اور ’مس کولمبو‘ جیسی فلمیں بنائیں۔

انھیں پاکستان کی پہلی کامیاب خاتون ہدایت کارہ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے، جس کا ثبوت یہ ہے کہ انھوں نے اداکاری میں چھ نگار ایوارڈ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ہدایت کاری کے لیے بھی تین نگار ایوارڈ حاصل کیے۔

کچھ سال قبل بی بی سی اردو کے ساتھ ایک خصوصی بات چیت میں جب شمیم آرا سے پوچھا گیا تھا کہ کیا اداکاری میں ان کے تجربات ہدایت کاری میں کام آئے تھے تو انھوں نے کہا: ’بالکل آئے۔ ایک ہدایت کار کو اچھا اداکار ہونا چاہیے تاکہ وہ وہ کردار خود بھی ادا کر سکے جو اپنی فلموں کے اداکاروں سے کرواتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا تھا: ’اس زمانے میں ہیورئن کے ارد گرد کہانی بنتی تھی۔ وہ ایک سادہ سا دور تھا۔ ہم فلمیں دیکھتے تھے اور سینئر آرٹسٹس سے سیکھتے تھے‘

اسی بارے میں