اندرا گاندھی کے قتل کے بارے میں فلم سینسر بورڈ سے منظور

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption 31 اکتوبر 1984 کو وزیر اعظم اندرا گاندھی کو ان کے ہی محافظوں نے ہلاک کر دیا تھا

انڈیا کی سابق وزیراعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بارے میں بنائی جانے والی فلم کو سینسر بورڈ نے کانٹ چھانٹ اور چار مہینے کی تاخیر کے بعد ریلیز کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

فلم ’31 اکتوبر‘ کے ہدایت کار شہرت یافتہ فلم ساز شیواجی لوٹن پاٹل ہیں اور اس میں سیف علی خان کی بہن اداکارہ سوہا علی خان اور ویر داس نے اداکاری کی ہے۔

٭ بھارت میں اندرا گاندھی کے قتل پر فلم پر پابندی

انڈیا کی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق فلم ساز ہیری سچدیو نے بتایا ہے کہ کئی پرتشدد مناظر کو فلم سے نکال دیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا: ’میں نے نو مناظر کو سینسر کرنے کو قبول کیا ہے۔ سینسر بورڈ کا کہنا تھا کہ بعض مناظر اور مکالمے مخصوص فرقے کو مشتعل کر سکتے ہیں اس لیے ان کو نکالنے کی ضرورت ہے۔‘

’نظر ثانی کمیٹی نے ہمیں کئی بار فلم پھر سے پیش کرنے کے لیے کہا اور کئی مناظر کاٹ دیے جس کے سبب فلم کا دورانیہ چھ سے سات منٹ کم ہو گیا اور تمام گالی گلوچ کی جگہ بیپ کی آواز ہے یہاں تک کہ سالا لفظ پر بھی۔‘

Image caption سوہا علی خان نے ایک خوفزدہ سکھ خاتون کا کردار ادا کیا ہے

انھوں نے بتایا کہ چار مہینے کے انتظار کے بعد سینسر بورڈ ’سی بی ایف سی‘ نے فلم کی نمائش کی منظوری دے دی ہے۔

خیال رہے کہ 31 اکتوبر سنہ 1984 کو اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کو ان کے ہی محافظوں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

یہ فلم اب آئندہ ماہ ریلیز کی جائے گی۔

فلم میں سوہا علی خان نے ایک خوفزدہ سکھ خاتون کا کردار ادا کیا ہے جو کہ اپنے شوہر (ویر داس) اور جڑواں بیٹے اور ایک سالہ بیٹی کے ساتھ اس دن دہلی کے ایک علاقے سے دوسرے علاقے بھاگتی رہتی ہیں۔

اس فلم کے لیے سوہا علی خان نے پنجابی زبان سیکھی ہے جبکہ ویر داس کو چار ماہ تک ایکشن کی تربیت لینی پڑی ہے۔

اسی بارے میں