ایران کا امریکہ سے ہالی وڈ سٹائل بدلہ

تصویر کے کاپی رائٹ APARAT.COMSOUREHFILM

پروڈکشن کے معیار سے یہ کوئی ہالی وڈ کی کامیاب ترین فلم کی طرح ہے اور جذبات کی ترجمانی بالکل بالی وڈ کی موسیقی کی ماند ہے لیکن اس میں جو پیغام دیا گیا ہے وہ بہت زیادہ امریکہ مخالف نہیں ہے۔

ایران نے ایک غیر معمولی میوزک ویڈیو بنائی ہے جس کا دورانیہ آٹھ منٹ ہے۔ اس ویڈیو میں موسیقی کے بول کچھ یوں ہیں: ’ہم خون کے آخری قطرے تک کھڑے رہیں گے۔‘ رواں ماہ کے دوران یہ ویڈیو ایران کے سرکاری ٹی وی پر باقاعدگی سے نشر کی جا رہی ہے۔

اس میوزک ویڈیو کا سوشل میڈیا پر بہت چرچا ہے۔

ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ محب وطن نوجوان اپنی جادوئی طاقت سے امریکہ کے اُس جہاز تباہ کر رہے ہیں جو ایرانی سمندری حدود میں ایران کے پر امن جوہری بجلی گھر کو نشانہ بنا رہا ہے۔

جب عام افراد کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو ایرانی ہیروز اکٹھے ہو کر اپنے قومی جھنڈے کی طاقت استعمال کرتے ہیں اور سمندر میں سونامی سے امریکی بحری جہاز اور جنگی طیارے تباہ ہو جاتے ہیں۔

اس کا اختتام ساحلی علاقے کے ایک دلکش قصبے میں ہوتا ہے اور پرامن جوہری بجلی گھر میں سکون ہو جاتا ہے۔

بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ ویڈیو جولائی 1988 میں ہونے ایک واقعے سے متاثر ہو کر بنائی گئی ہے جس میں امریکی کے بحری جنگی جہاز نے ایران کی قومی ایئر لائن ایران ایئر کے مسافر بردار طیارے کو مار گرایا تھا جہاز میں سوار تمام 290 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ APARAT.COMSOUREHFILM

امریکہ کا کہنا تھا کہ وہ مسافر طیارے کو غلطی سے جنگی طیارہ سمجھ بیٹھا تھا۔ یہ ایسا واقعہ تھا جس نے ایرانیوں پر گہرے جذباتی اثرات چھوڑے۔

ایرانی اخبار جاوان نے، جسے پاسدارانِ انقلاب کے قریب سمجھا جاتا ہے، اپنے اداریے میں اس میوزک ویڈیو پر تنقید کرتے ہوئے اسے فلاپ قرار دیا ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ یہ ’بجٹ کے لحاظ سے ہالی وڈ اور معیار کے لحاظ سے بالی وڈ طرز کی ویڈیو ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پروڈیوسر نے بہت سی ہندی فلمیں دیکھ رکھی ہیں۔‘

ویڈیو کچھ اس طرح شروع ہوتی ہے کہ جہاز پر ایک چھوٹی لڑکی بیٹھی ہے اور اُس کے ہاتھ میں گڑیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ساحل پر لوگ اپنے کاروبار میں مصروف ہیں، بچے پکنک منا رہے ہیں اور کیفے کا مالک گاہکوں کو چائے دے رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ APARAT.COMSOUREHFILM

اتنے میں ایک بچہ سمندر میں اپنی گیند لینے کے لیے بھاگتا ہے۔ وہ اوپر دیکھتا ہے تو آسمان پر میزائل ایک جہاز کو نشانہ بناتا ہے۔ اتنی میں امریکی جنگی بحری جہاز نظر آتا ہے اور گولہ فائر کرتا ہے۔

اس کے بعد گانا شروع ہوتا ہے۔ جنگی طیارے ساحل پر حملہ کرتے ہیں اور ایرانی نوجوان دوڑ کر ایرانی جھنڈے اُٹھا کر لاتے ہیں۔ وہ دشمن کی جانب بھاگتے ہیں۔ جنگی طیارے اُن پر فائرنگ کرتے ہیں۔ ایرانی اپنے جھنڈے کو زمین میں گاڑھتے ہیں اور اُس سے سونامی کی لہریں پیدا ہوتی ہیں جو امریکی جنگی جہازوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں۔

یہ ویڈیو سورہ فلم کلب نے بنائی ہے جو سرکاری اسلامی ادارے سے وابستہ ہے اور اس ادارے کے چیئرمین کو ایران کے رہبرِ اعلیٰ تعینات کرتے ہیں۔

ایران کے صبحِ نو اخبار کے مطابق اس ویڈیو کا بجٹ ایک ارب 20 کروڑ ایرانی تومان ہے جو تقریباً تین لاکھ 85 ہزار امریکی ڈالر کے برابر ہے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ اس منصوبے پر 150 افراد نے کام کیا ہے اور اس کی تکمیل پر دو سال کا عرصہ لگا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ APARAT.COMSOUREHFILM

بہت سے ایرانیوں نے سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ٹوئٹر پر ایک صارف نے لکھا کہ ’عوام کے پیسے کو اس خراب معیار کے منصوبے پر کیوں خرچ کیا گیا ہے۔‘

ایک اور صارف نے کہا کہ ’ویڈیو میں ایرانی چیخ رہے ہیں اور امریکی جنگی جہاز پھنس گئے۔ اگرچہ یہ بہتر ہے کہ ایران کے فوجی بجٹ پر رقم خرچ کرنے کے بجائے اُس سے میگا فون اور ایمپلیفائر خرید لیں۔‘

کچھ نے اس کے حق میں بات بھی کی اور کچھ نے تو اس کے معیار کی بھی تعریف کی۔ ’اگرچہ انھوں نے قومی جذبات کا غلط استعمال کیا، لیکن امریکیوں کے سامنے ایرانی جھنڈا لہرانے کی اہمیت ہے۔‘